درست اقدامات کی ضرورت

درست اقدامات کی ضرورت
 درست اقدامات کی ضرورت

  

پاکستان ایک بارپھر سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار ہوگیا ہے عوام بدترین مشکلات میں پھنس چکے ہیں ماہرین کے مطابق بارشوں اور سیلاب سے پچاس ارب روپے سے زیادہ کا نقصان ہوچکا ہے اور اس نقصان کو پورا کرنے کے لئے عوام کی مشکلات کو دور کرنے کے لئے اس سے کہیں زیادہ حکومت اور پاکستان کے مخیر حضرات کو امداد کرنا پڑے گی ، سیلاب سے ہزاروں ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں جن میں مونجی (چاول ) اور جنوبی پنجاب میں کپاس کی فصل کو بہت نقصان ہوا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ گنے کی فصل کا بھی بہت نقصان ہوا ہے سیلاب اب سندھ میں داخل ہوگیا ہے کشمیر میں بھی سیلاب نے کئی عشروں کا ریکارڈ توڑ دیاہے۔ جس میں سینکڑوں گاﺅں تباہ ہوچکے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ سینکڑوں کلومیٹر سڑکیں اور رابطہ سڑکیں بھی تباہ ہوگئی ہیں اسی وجہ سے ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے ہیں پاکستان میں سیلاب کی خطرناک صورت حال ہندوستان کا اپنے ڈیموں کا پانی دریاﺅں میں چھوڑنا ہے چونکہ ہندوستان نے دریائے چناب پر کئی ڈیم تعمیر کررکھے ہیں ، دریائے جہلم پر بھی حکومت ہندوستان نے ڈیم تعمیر کررکھے ہیں اور جب بھی حکومت ہندوستان کی مرضی ہو وہ اپنے ڈیموں کا پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے،پاکستانی علاقوں میں بارشیں اتنی شدید نہیں تھیں کہ جس سے سیلاب آتا، پنجاب کے بارانی علاقوں کے لوگ اللہ تعالیٰ سے بارشوں کی دعائیں کررہے تھے تاکہ مونجی (چاول) کی فصل کاشت کی جاسکے۔ لیکن ہندوستان چونکہ اپنے ڈیم ہرموسم میں پانی سے بھر کررکھتا ہے پاکستان کے دریاﺅں میں پانی چھوڑنے کی بروقت اطلاع نہیں دی۔

حکومت عمران خان اور ڈاکٹرطاہرالقادری کے دھرنوں کی وجہ سے شدید دباﺅ کا شکارتھی اور سیلاب نے عوام کا دھیان سیلاب کی طرف کردیا ہے اور حکومت کوبھی دھرنوں کے خلاف پروپیگنڈے کا موقعہ مل گیا چونکہ وزیراعظم یا وزیراعلیٰ پنجاب جس جگہ بھی سیلاب متاثرین کی امداد کے لئے گئے ہیں، ہرطرف پانی ہی پانی ۔ عوام میں مفلسی ، پریشانی ان پر حکومتی ظلم کہ گیلاآٹا۔ گوندھیں کیا پکائیں کہاں کھائیں، کیا وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے جلسوں کے بعد امداد غائب۔ ٹرک غائب انتظامیہ غائب اس کا نتیجہ چند دن سے یہ نکلا کہ وزیراعلیٰ کی موجودگی میں لوگوں نے امدادی سامان کو لوٹ لیا۔ حکمران جہاں جہاں بھی سیلاب زدگان سے اظہار یکجہتی کرنے گئے وہاں وہاں دھرنا دینے والوںکا ذکر خیر کرتے رہے۔ اسی طرح عمران خان بھی جس جگہ سیلاب کے لئے لوگوں کو ملنے گئے وہ بھی وزیراعظم کے خلاف بولے۔ انہوں نے بھی اپنے مخالفین کا حساب برابر کیا۔ حکومت اور دھرنوں والوں کے درمیان ان لوگوں کی خوب موج لگی ہوئی ہے جو مختلف حکومتی اداروں سے مراعات لے رہے ہیں اداروں کی تباہی کا سبب بھی وہی لوگ ہوتے ہیں ، جوحکومتی آئینی سربراہ کے ذریعے ادارے کے باہر کے لوگ بھرتی کرکے سربراہ مقرر کیا جاتا ہے۔ اس شخص کو ادارے کے لوگوں پر مسلط کرکے ناجائز کام لئے جاتے ہیں، پاکستانی اداروں کی تباہی کا سب سے بڑا سبب مطلب پرست اشخاص ہوتے ہیں ، تمام اداروں میں لائق۔ محنتی۔ تجربہ کار ہرعہدے پر موجود ہوں تو پھر باہر سے اہلیت کی بنیاد بناکر ریٹائرڈ ملازمین کو دوبارہ حق داروں پر مسلط کرنا کس طرح ملک اور اداروں کی بھلائی ہے، جو لوگ پاکستان کے مختلف اداروں پر مشاورت (صفت ) کا کہتے ہیں ، وہ مراعات کے نام پر ادارے کو تباہ کررہے ہیں۔ ہربڑا آدمی قانون اور انصاف کو اپنی جیب میں رکھتا ہے۔

 قانون سے بے خبر لوگ قانون سازی کرتے ہیں ان کو قانون کی کوئی کتاب پڑھنی نہیں آتی۔ اخباروں میں خبریں لکھنے والے خارجہ اور داخلی پالیسیاں بناتے ہیں اور پالیسیاں بنانے والے فارغ بیٹھے ہیں۔ تعلیم کے نام پر جہالت پھیلانے کے لامحدود اختیارات ہیں۔ جعلی اور فراڈ ڈگریوں والے حکومت کے اہم عہدوں پر براجمان ہوجاتے ہیںہرسانحے کے بعد حکومت کے سوا سب اپنی اپنی ذمہ داری قبول کرلیتے ہیں یہ جو سیلاب سے تباہی اور بربادی ہوئی ہے، یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہوئی اس سے پہلے بھی کئی دفعہ سیلاب نے ملک کے عوام کو تباہ کیا کسی پر کوئی اثر ہوا ہرگز ہرگز نہیں چونکہ سیاسی وابستگیاں ہی اداروں کی تباہی کا سبب بنتی ہیں۔ دنیا بھر میں بے ایمانی ۔ فراڈ کی شاید کوئی حد ہوتی ہوگی، جھوٹ بولنے اور سیاسی شعبدہ بازیوں کی حدہوتی ہوگی ، یہاں دن کو رات کہا جاتا ہے۔

 معاشرے میں حالات اس قدر بھیانک اور خطرناک ہوگئے ہیں کہ اکثریت کو اپنے مفادات، اپنے مطلب، خودغرضی کے سوا کچھ محسوس ہی نہیں ہورہا۔ ملک میں تباہی سیلاب لایا ہے دوسری طرف مہنگائی نے عوام کا کچومر نکال دیا ہے اخباری اطلاع کے مطابق صرف لاہور میںہرگھنٹے میں ایک ڈکیتی ہوتی ہے ہرعلاقے کے تھانے میں دوکاریں روزانہ چوری ہوتی ہیں، موٹرسائیکلوں کا گن پوائنٹ پر چھین لینا معمولی بات ہے، گن پوائنٹ پر ڈکیتیوں کے واقعات تھوک کے حساب سے ہورہے ہیں۔ پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت کے سربراہوں کے ذمے اپنے اقتدار کو بچانا ہوگیا ہے دھرنوں کے بارے میں حکومت سے مراعات لینے والے لوگ غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں وہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم کو ورغلا رہے ہیں۔ وزیراعظم کو تمام خود غرض مفاد پرست لوگوں کے مشوروں کو بالائے طاق رکھ کر ملک وقوم کے ساتھ وعدوں کو نبھاتے ہوئے پروٹوکول کو رد کرتے ہوئے دونوں کنٹینروں پر چلے جانا چاہئے یہ دھرنوں والے بھی پاکستانی ہیں ، میاں نواز شریف اور شہباز شریف کو ان کی صفوں میں خود غرض۔ مفاد پرست اور جعلی اناءکے لوگ بدنام کررہے ہیں، میاں نواز شریف کو دھاندلی زدہ لوگوں کی وجہ سے گندہ ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ہمت کریں زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے ، بے شمار سچے ساتھی ملیں گے۔

مزید : کالم