پہلے القاعدہ اور اب داعش!

پہلے القاعدہ اور اب داعش!
پہلے القاعدہ اور اب داعش!
کیپشن: 1

  

مَیں نے پہلے بھی اپنے ایک کالم میں یہ سوال اٹھایا تھا کہ یہ داعش (دولتِ اسلامیہ عراق و شام) کیسی دولت یا سلطنت ہے اور اس کا منبع (Origin) کہاں سے پھوٹ رہا ہے۔ قارئین نے فارن میڈیا میں اس موضوع پر خبروں کی یلغار دیکھی اور پڑھی ہوگی۔ پہلے غیر ملکی میڈیا اس کو ISIS.... (Islamic State of Iraq and Syria)کا نام دیتا رہا، پھر اسے مخفف کرکے صرف ISیعنی ”اسلامک سٹیٹ“ کر دیا گیا لیکن پھر سوچا کہ چونکہ اس میں ”اسلامک“ کا لفظ آیا ہے جو اہلِ مغرب کے لئے (نعوذ باللہ) ایک کلمہ ءمکروہ ہے اس لئے اب وہ بجائے ISکے اسے TSیعنی ”ٹیررسٹ سٹیٹ“ کے اپنے من پسند اسم نکرہ سے معنون کررہے ہیں۔ ٹیررسٹ اور اسلامسسٹ (Islamasist) گویا ان کے لئے مترادفات بن گئے ہیں!

اسلام اور عیسائیت کی یہی پولرائزیشن ہے جو اہلِ فرنگ نے صدیوں سے اپنے سینوں میں پال رکھی ہے۔ان کی ہر خبر، ہر کالم اور ہر تجزیہ میں اسی بُعد المشرقین کی جھلک نظر آتی ہے۔ان کا خیال ہے کہ وہ اس حربے کو کام میں لا کر ”اسلام “ کو اتنا بدنام کر دیں گے کہ دنیا بھر ہی کی نہیں بلکہ ان کی اپنی نژادِ نو بھی مسلمانوں سے نفرت کرنے لگے گی۔

مغرب کے تجزیہ نگار اوپر اوپر سے بین المذاہب ہم آہنگی کا ڈھونڈورا پیٹتے ہیں، اپنے دارالحکومتوں میں اس موضوع پرمذاکرے، مباحثے اور سیمینار منعقد کرواتے ہیں، دور و نزدیک سے ”نام نہاد اسلامی سکالروں“ کو مدعو کرتے ہیں اور خود اپنے چند وسیع المشرب دانشوروں کو بھی ان میں شامل کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ مذہبی تعصب اور تنگ نظری سے بالا تر اور ”کوسوں“ دور ہیں۔ لیکن برسرِ زمین (On Ground) ان کے وہ کرتوت جو سراسر تعصب، تنگ نظری اور اسلام دشمنی کے مظاہر ہیں، اب اتنے واشگاف ہو چکے ہیں کہ ان کے قول و فعل کے تضادات کو الف ننگا کرکے رکھ دیتے ہیں.... ان کی یہی روش درحقیقت داعش کی خالق ہے!

تاریخ گواہ ہے کہ سولہویں سے اٹھارہویں صدی عیسوی تک امریکی لینڈ لارڈز، براعظم افریقہ سے حبشی غلاموں کے بحری جہاز بھر بھر کر اپنے ہاں لے جاتے رہے اور ان کو ڈھور ڈنگروں کی طرح استعمال کرتے رہے۔پھر جب میکانائزڈ فارمنگ کا رواج عام ہوا اور مال مویشیوں کی جگہ مشینوں نے لے لی تو افریقی غلاموں کی ضرورت باقی نہ رہی۔تب ایک منصوبے کے تحت ان کو عربی کی بجائے انگریزی کی تعلیم دی گئی اور جن غلاموں کی زبان عربی نہیں تھی، ان کو علیحدہ سکول بنا کر اپنی زبان کی تدریس کی جانے لگی۔اپنے مبلغین (پادریوں، بشپوں اور فادرز وغیرہ) کو یہ مشن سونپا گیا کہ ان غلاموں کو مشرف بہ عیسائیت کریں ۔اس طرح ان کا لباس، رہن سہن، زبان ، ثقافت وغیرہ کو اپنے رنگ میں رنگنے کے ایک جامع مشن کی تکمیل ہونے لگی .... پھر ایک قدم اور آگے بڑھایا گیا۔

جب نئی بلیک امریکن نسل امریکی زبان و مذہب کے رنگ میں رنگ دی گئی تو پھر اس کو جمہوریت کی برکتوں کی تعلیم دے کر اس میں قوم پرستی (امریکہ پرستی) کا جذبہ پروان چڑھایا گیا، اس کو اپنی افواجِ ثلاثہ میں بھرتی کیا گیا اور ہر شعبہءزندگی میں ”برابری“ عطا کرنے کا ڈھونگ رچایا گیا۔بڑی احتیاط سے صرف ان چند لوگوں کو اوپر کے عہدوں تک رسائی دی گئی جو بظاہر نہایت ذہین تھے لیکن درحقیقت ایک ”گرینڈ کرسچین پلان“کا ہدف بن گئے۔ افواج میں ان کو آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس (کولن پاول) تعینات کیا گیا،خارجہ امور میں ان کو وزیرخارجہ (کونڈولیزارائس)کے منصب پر سرفراز کیا گیا اور سیاست میں ان کو اعلیٰ ترین عہدے پر (اوباما) متمکن کرکے دنیا بھر میں اپنی جمہوری طرزِ مساوات اور روشِ فراخدلی کی منادی کی گئی.... یہ سب حربے تشکیل دینا اور ان کی کامیاب تکمیل کرنا آسان کام نہ تھا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ امریکی قوم کی سب سے بڑی کامیابی اور ان کا تدبر یہ تھا کہ انہوں نے اپنے اس ”گرینڈ پلان“ کو کاملیت (Perfection) سے ہمکنار کیا.... سوال یہ ہے کہ امریکیوں کو یہ سب کچھ کس نے سکھایا اور وہ باوجود اس کے کہ نہایت ”کم عمر“ قوم تھے، تمام دنیا سے بازی کیوں لے گئے، تمام اقوام و ملل کو پیچھے کیوں چھوڑ دیا اور تمام معاشروں سے آگے کیسے نکل گئے؟

قارئین کرام! اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ امریکہ ہرچند 1492ءمیں دریافت ہوا اور ہر چند امریکی قوم نو عمر اور نو آموز کہلائی اور بھانت بھانت کے لوگ اس میں شامل تھے،لیکن یہ لوگ بیشتر وہ تھے کہ جو یورپ کی جیلوں میں سزائے موت اور سزائے عمر قید کاٹ رہے تھے۔ان سے پیچھا چھڑانے کے لئے یورپی ممالک نے ان قیدیوں کو اس نئی دنیا میں ملک بدر کر دیا۔ یہ تاثر کہ امریکہ دنیا کے نقشے پر 1492ءمیں ابھرا، اگرچہ تاریخی اعتبار سے مبنی برحقیقت ہے لیکن واقعیت کے لحاظ سے بالکل غلط ہے کہ امریکی ایک کم عمر قوم ہیں اور امریکہ ایک کم عمر براعظم ہے۔

اصل امریکی تو وہ ریڈ انڈین تھے جن کو ان یورپی غنڈوں، قاتلوں، مجرموں، چوروں، ڈاکوﺅں اور بدمعاشوں نے نہایت کم عرصہ میں شکست دے کر ان کی اپنی ہی سرزمین میں اجنبی بنا دیااور پھر رفتہ رفتہ ان کا قتلِ عام کرکے ان کو صفحہ ءہستی سے ہی مٹا ڈالا۔آج امریکہ میں کتنے ریڈ انڈین موجود ہیں، ان کو گن لیجئے اور تصور کیجئے کہ گزشتہ 522برسوں میں اگر ان کو قتل نہ کیا جاتا تو ان کی آبادی کتنی ہوتی....ریڈ انڈین کی امروزہ تعداد پر، ان کی لڑائیوں پر، امریکی نو آباد کاروں سے ان کی جنگوں پراور ان کو منظم طریقوں سے نیست و نابود کرنے کی تاریخ پر آج جو چند کتابیں مارکیٹ میں دستیاب ہیں وہ کسی ریڈ انڈین کی تصانیف نہیں، بلکہ ان لوگوں نے لکھی ہیں جو ریڈ انڈین قبائل کے قاتل تھے۔ چنانچہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ ان کو درست مان لیا جائے۔

امریکی آباد کار ہرچند، یورپین جیلوں کے سزا یافتہ قیدی تھے، مگر تھے تو یورپین معاشرے کا حصہ.... قاتل اور چور کس معاشرے میں نہیں ہوتے؟ لیکن کون سا معاشرہ ایسا ہے جس میں نیک، پارسا، محنتی ، باکردار اور بااخلاق لوگوں کو جیل میں ڈالا جاتا ہے؟....جیلوں میں تو وہی لوگ بھیجے جاتے ہیں جو معاشرے کے باغی ہوتے ہیں۔ تاہم یہ حقیقت بھی مدنظر رکھنی چاہیے کہ قتل و غارت گری کا ارتکاب کرنے کے لئے ذہنی، دماغی، قلبی اور جسمانی قوتوں کی ایسی خصوصیتیں درکار ہوتی ہیں جو غیر روائتی اور غیر معمولی ہوتی ہیں۔جو چورکسی مکان میں نقب لگا سکتا ہے، وہ وسیع تر سکیل پر کسی بڑے دشمن کی صفوں میں بھی شگاف ڈال سکتا ہے،جو ڈاکو دن دیہاڑے کسی کو لوٹ سکتا ہے، وہ وسیع تر سکیل پر لٹیرا حکمران بن کر شہرتِ عام بھی حاصل کر سکتا ہے اور جو قاتل گھات لگا کر اپنے مسلح حریف کو موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے، وہ وسیع تر سکیل پر غنیم کو ناگہانیت (Surprise) کا شکار کرکے اس کو شکست سے دوچار بھی کر سکتا ہے.... چنانچہ جب یورپین جیلوں سے رہا کئے جانے والے یہ قانون شکن قاتل، چور، ڈاکو اور رہزن ایک نئی دنیا میں پہنچے اور وہاں سوائے ریڈ انڈین کے کوئی دوسرا منظم اور مسلح دشمن ان کے سامنے نہ آیا تو وہ خود منظم ہو کر وسیع تر سکیل پر اقوام عالم کو لوٹنے لگے، ان پر ڈاکہ ڈالنے لگے اور ان کو قتل کرنے لگے۔نئی وار ٹیکنالوجی تو ان کی گھٹی میں پڑی تھی....یہ مار دھاڑ اور قتل و غارتگری آج تک جاری ہے اور امریکیوں کی سرشت کا حصہ بن چکی ہے۔بغل میں چھری، منہ میں رام رام کے محاورے (یا ضرب المثل) نے اہل ہند کو اتنا بدنام نہ کیا ہوگا، جتنا اہل فرنگ کو امریکیوں نے بدنام کر دیا۔البتہ اتنا کریڈٹ ان امریکیوں کو دیا جانا چاہیے کہ انہوں نے اپنی روشِ غارتگری کو آباد کاری کا نام دیا اور اپنی خوں آشامی کو جمہوریت کا حسن قرار دیا:

ہم نے تری جفا کا وفا نام رکھ دیا

بندہ نواز! سوچئے کیا نام رکھ دیا؟

جمہوریت کا یہی حسن، اس امریکی معاشرے نے اپنے اصل مولد یعنی یورپی معاشرے سے بغاوت کرکے حاصل کیا اور تین چار سو برسوں تک (1500ءتا 1800ئ) اس کو پروان چڑھایا۔

یہ سب چور لکھے پڑھے اور تعلیم یافتہ چور تھے۔ تعلیم یافتہ چور جاہل چور اور قاتل سے کہیں زیادہ خطرناک اور سفاک ہوتا ہے۔ لفظ ”داعش“ کی اختراع، اسی قاتل کی ذہنی تخلیق ہے اور اسی کی دریدہ دہنی اور بربریت اور اسی کی ایک تحیر خیز تنظیم ہے ۔کمال یہ ہے کہ کرسچین سٹیٹ کو اسلامک سٹیٹ کہہ کر ایک نیا امریکی گوئبلز بھی تخلیق کر لیا گیا ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ اس اسلامک سٹیٹ میں امریکن اور یورپین اقوام کے بھگوڑے بھی شامل ہو رہے ہیں۔ لیکن ان ”بھگوڑوں“کو مسلح کرنا ، ان کو ٹریننگ دینا، ان کی جنگی کارروائیوں کی تشہیر کرنا، ان کو راشن پانی فراہم کرنا اور ان کے لباس/یونیفارم اور وضع قطع کی تراش خراش سب کی سب امریکہ سے مشرقِ وسطی میں امپورٹ کی گئی ہے اورفی الحال اس کو القاعدہ کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے، فی الحال اسامہ بن لادن کی جگہ البغدادی کو نیا اسامہ بنایا جا رہا ہے اور فی الحال اس کے جوروستم کے قصے عام کرکے اس کو خلقِ خدا کی نگاہ میں رسوا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اس میں فی الحال ایمن الظواہری کو بھی شامل کر لیا گیا ہے اور اس کو برصغیر ہندو پاک میں بربادی برپا کرنے کا منصوبہ ساز بھی قرار دے دیا گیا ہے!....

فی الحال 6ستمبر 2014ءکو کراچی میں پاک بحریہ پر حملے کو ”اسلامک سٹیٹ“ کے اس نئے جنوبی ایشیائی باب (Chapter) کا کارنامہ بتایا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اس کا ہدف ایک امریکی بحری جہاز تھا۔فرمایا جا رہا ہے کہ 3دہشت گرد مارے گئے ہیں اور سات کو پاکستان نے گرفتار کر لیا ہے۔ ابھی ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور ان میں سے بعض افسروں کا تعلق پاک بحریہ سے جوڑا جا رہا ہے۔

لیکن قارئین کرام! کیا یہ ”پلان“ اتنا ہی ”خفیہ اورگہرا“ ہے کہ مجھے یا آپ کو سمجھ نہیں آ سکتا؟.... کیا افواجِ پاکستان کو دہشت گردی میں ملوث کرنے کا الزام کوئی نیا الزام ہے؟ ....کیا پاکستانی عوام کی نگاہوں میں پاک افواج کے مثبت تاثر کو پاش پاش کرنے کی مہم کوئی نئی مہم ہے؟.... کیا القاعدہ کے بعد اب داعش کی تخلیق کے پسِ پردہ عزائم کا ملمّع ہم مسلمانانِ برصغیر بلکہ مسلمانانِ عالم کو مزید دھوکے دیتا رہے گا؟

مزید :

کالم -