یہی وہ بادشاہت ہے

یہی وہ بادشاہت ہے
یہی وہ بادشاہت ہے
کیپشن: 1

  

الطاف بھائی بعض اوقات بڑی دلچسپ اور اہم باتیں کرتے ہیں۔ اپنی اکسٹھویں سالگرہ کے موقع پر لندن سے فون پر کراچی میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرنے سے پہلے انہوں نے تلاوتِ قرآن پاک بھی کی۔انہوں نے ملک میں بلدیاتی انتخابات نہ کرائے جانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ جمہوریت ،آمریت سے بدتر ہے ،جس میں بلدیاتی انتخابات نہ ہوں۔

انتخابات جمہوریت کی بنیاد ہیں، خواہ اسمبلیوں کے ہوں یا پارٹی کے ، پاکستان میں اسمبلیوں کے انتخابات تو ہوتے ہیں، مگر جماعت اسلامی اورتحریک انصاف کے سوا شاید ہی کسی پارٹی میں مرکزی سربراہ سمیت عہدیداروں کے انتخابات حقیقی جمہوری انداز میں ہوں۔بیشتر جماعتوں کے سربراہ مدت سے تبدیل نہیں ہوئے، ان جماعتوں میں بھی انتخابات ہوتے ہیں، مگر ان میں جمہوریت موجود نہیں ہوتی، کسی کی کیا مجال کہ پارٹی کے سربراہ کے مقابلے میں انتخاب لڑے، سربراہ کو بلا مقابلہ ہی منتخب کر لیا جاتا ہے اور اس کے لئے ایسا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے کہ کسی کو کوئی اعتراض نہ ہو، بلکہ اب تو طے شدہ محسوس ہونے لگا ہے کہ نوازشریف، مولانا فضل الرحمن، اسفند یارولی خان، الطاف حسین، مولانا سمیع الحق، محمود خان اچکزئی، میر حاصل بزنجو، چودھری شجاعت حسین، عمران خان اور طاہرالقادری اپنی اپنی جماعتوں کے تاحیات سربراہ ہیں۔ان میں مولانا مفتی محمود، عبدالولی خان، مولانا عبدالحق، عبدالصمد خان اچکزئی، میر غوث بخش بزنجو اور چودھری ظہور الٰہی کے صاحبزادگان بھی شامل ہیں، جبکہ ڈاکٹر طاہرالقادری اپنی جانشینی کے لئے اپنے بیٹوں کو تیار کررہے ہیں۔

اس میں شک نہیں کہ کسی بھی والد کی طرف سے اپنے بیٹوں کے مفادات کا خیال رکھا جانا فطری امر ہے، مگر سیاسی یا دینی جماعتیں یا ادارے نجی ادارے ہوتے ہیں نہ موروثی املاک، اس لئے سیاسی جماعتوں کو جمہوری انداز میں نہ چلایا جائے تو خود انہی کے لئے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔اس وقت پیپلزپارٹی کو بھی اسی طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔بلاول بھٹو زرداری کو بھی اسی طرح کی پریشانی لاحق ہے، لوگ ذہنی طور پر انہیں پیپلزپارٹی کا سربراہ ماننے کو تیار نہیں اور نہ ہی ان کی بات میں وزن محسوس کرتے ہیں، غالباً اسی لئے الطاف حسین نے انہیں ”بچہ“ ہونے کا طعنہ دیا اور عندیہ دیا کہ اہم معاملات پر ان کی بجائے ان کے والد آصف علی زرداری کا اظہار خیال کرنا زیادہ مناسب ہے۔بلاول بھٹو زرداری کی عمر جیسے تیسے کرکے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کے لئے تو پوری ہوگئی ہے، مگر ان کا سیاسی قد مخدوم امین فہیم، یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز مشرف ، سید خورشید شاہ، چودھری احمد مختار، اعتزاز احسن ، قمرزمان کائرہ اور سید قائم علی شاہ کے برابر نہیں آ سکا۔

بلاول بھٹو زرداری کو پارٹی کا سربراہ بنائے جانے کا معاملہ ابھی تک متنازع ہے۔وہ تب ہی پارٹی کے چیئرمین بن گئے تھے، جب ابھی ان کا ووٹ نہیں بنا تھا۔اس موقع پر کہا گیا تھا کہ انہیں پارٹی کا سربراہ ان کی والدہ بینظیر بھٹو کی وصیت کے مطابق بنایا گیا ہے۔اسلام آباد دھرنوں کے قائدین اسی طرح کے معاملات کے حوالے سے کہتے ہیں کہ یہی وہ جمہوریت ہے جو دراصل بادشاہت اور موروثیت کا تاثر دیتی ہے اور یہی وہ سیاسی نظام ہے، جسے وہ تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

مزید :

کالم -