مستعفی ارکانِ اسمبلی کے استعفے منظور کئے جائیں

مستعفی ارکانِ اسمبلی کے استعفے منظور کئے جائیں
مستعفی ارکانِ اسمبلی کے استعفے منظور کئے جائیں
کیپشن: 1

  

تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے ساتھ مذاکرات کے کامیاب ہونے کی تمام امیدیں بظاہر ختم ہو چکی ہیں۔ سیاسی جرگہ اگرچہ اب بھی کوششیں کر رہا ہے لیکن کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ اسے کامیابی ہو گی یا نہیں، دھرنے والی دونوں جماعتوں نے انتہائی غیر لچکدار رویہ اپنایا۔ دونوں جماعتیں اپنے بعض مطالبات سے دستبردار ہونے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ مذاکرات سے متعلق حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی اور عوامی تحریک کے بعض مطالبات آئین اور قانون کے دائرے سے باہر ہیں۔ حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر حملوں کے خلاف مقدمات میں عمران خان، طاہر القادری اور ان کے کارکنوں کی نامزدگی کو واپس نہیں لیا جائے گا۔ان پر یہ مقدمات ہر حال میں چلیں گے اور قانون کے مطابق تمام کارروائی ہوگی۔سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعظم،وزیراعلیٰ پنجاب اور وفاقی وزراءکے خلاف اپنی مرضی کی ایف آئی آر درج کرانے اور انتخابی دھاندلیوں کے الزامات کی جانچ کے لئے جوڈیشل کمیشن بنانے کے اعلان کے باوجود تحریک انصاف اور عوامی تحریک نے اسلام آباد کے حساس علاقے میں دھرنا جاری رکھا ہوا ہے۔

 حکومت نے اب تک عمران خان اور طاہر القادری کی اشتعال انگیز تقاریر پر غیرمعمولی صبر و تحمل اوربرداشت کا مظاہرہ کیا ہے یہاں تک کہ ان کے دھرنوں کو غیر قانونی طور پر اسلام آباد کے ریڈ زون اور پارلیمنٹ ہاﺅس تک جانے کی بھی اجازت دے دی شاید کہ وہ اپنا شوق پورا کر کے وہاں سے واپس چلے جائیں لیکن ساری دنیا نے دیکھا کہ انہوں نے شاہرا ہ دستور کے کئی حصوں کو بیت الخلاءمیں تبدیل کرکے وفاقی دار الحکومت میں شدید تعفن پھیلانے سے بھی گریز نہیں کیا اور اپنے دعوﺅں کے برعکس عوامی تحریک کے کارکنوں نے پاکستان ٹیلی ویژن کے دفاتر پر توڑ پھوڑ کی اور اس کے بعض حصوں پر قبضہ کر کے کچھ دیر کے لئے نشریات میں بھی تعطل پیدا کر دیا۔ طاہر القادری اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ ان کے کارکن ٹی وی پر چڑھائی کر کے انہیں دعوت خطاب دیں گے تو وہ اپنے خطاب و حرکات کی ہیجانی کیفیت سے اہل وطن ہی کو نہیں بیرونی دنیا کو بھی محظوظ کر سکیں گے،لیکن کچھ لمحے قبل ٹی وی پر قبضے کی خوشخبری دینے والے علامہ نے فوراً ہی قلا بازی کھائی اور کہا کہ ٹی وی پر چڑھ دوڑنے والے ہمارے کارکن نہیں، بلکہ دھرنے میں گھس آنے والے عوام تھے۔ اب وہ پی ٹی وی پر حملے کا الزام ماروی میمن کو دیتے ہیں۔ کارکنوں نے بھی جب بازی پلٹی ہوئی دیکھی تو انہوں نے پولیس اور حکومت کے خلاف لیکن فوج حق میں نعرے لگائے۔

اسلام کا نام لے کر انقلاب لانے کا دعویٰ کرنے والے دھڑلے سے کنڈے لگا کر بجلی اور پائپ لائنیں توڑ کر پانی چوری کر رہے تھے ۔عمران خان اور طاہر القادری کی آج بھی یہی رٹ ہے کہ وہ نواز شریف سے استعفیٰ لئے بغیر اور موجودہ ”کرپٹ“ حکومت کا خاتمہ کئے بغیر ہرگز نہیں ٹلیں گے۔حکومت اور عوام کی جانب سے انہیں مشورہ دیا جا رہا ہے کہ تباہ کن سیلاب اور بارشوں کی وجہ سے جو لاکھوں افراد بری طرح متاثر ہوئے ہیں فی الحال دھرنوں کی سیاست چھوڑ کر ان کی مدد اور بحالی کے کاموں پر توجہ دی جائے۔

 ڈاکٹر طاہر القادری تو تادم تحریر ایک روز کے لئے بھی اپنے علاقے تک بھی نہیں گئے۔ دوسری طرف عمران خان صرف چند گھنٹوں کے لئے متاثرین کو دور سے دیکھ کر واپس آگئے ۔ شمالی وزیرستان میں آپریشن سے متاثر ہونے والوں کو بھی تباہ حال لوگوں میں شامل کر لیا جائے تو ان کی مجموعی تعداد بیس سے تیس لاکھ تک پہنچ گئی ہے ان کے دکھوں کا مداوا کرنے کے بجائے عمران خان اور ان کی پارٹی سے تعلق رکھنے والے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک ڈانس اور رقص و سرور میں مصروف ہیں ۔حد تو یہ ہے کہ قدرتی آفت کے باوجود عمران خان کی ہدایت پر اسلام آباد اور کراچی میں دھرنے کا ایک ماہ مکمل ہونے پر جشن آزادی منایا گیا ہے ان دھرنوں سے قوم کو فائدہ پہنچے یا نقصان اس کی پروا دھرنوں کو جاری رکھنے والوں کو پرکاہ کے برابر بھی نہیں۔ سینکڑوں بے روزگار مرد اور خواتین کو پیسے دے کرلایا گیا ہے۔یہ بے روزگار لوگ دعا کرتے ہیں کہ دھرنے اسی طرح جاری رہیں،چار پانچ گھنٹوں کی حاضری کی اُجرت غریبوں کے لئے پانچ سو روپے کچھ کم نہیں ہے باقی رہے ان سے اونچے درجے کے شرکاءتو وہ پہلے ہی عمران خان اور طاہر القادری کے اداروں سے اپنی ملازمت کی تنخواہ اور یومیہ بنیادپردھرنا الاﺅنس علیحدہ سے وصول کر رہے ہیں۔ ادھر کراچی پریس کلب نے عمران خان کو کلب کی تا حیات رکنیت یاد دلاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کو صحافیوں کے ساتھ بدتمیزی سے روکیں جنہوں نے دھرنوں کی رپورٹنگ کرنے والے ایک درجن سے زائد صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ہراساں کیا اور گالیاں دیں جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔ خیبر پختونخوا میں اپنی حکومت کے باوجود عمران خان اور ان کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک سیلاب زدگان اور شمالی وزیرستان میں آپریشن کے متاثرین کے لئے کچھ نہ کرسکے۔

وزیراعظم میاں نواز شریف یہ تو کہہ رہے ہیں کہ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے ہم ابھی تک دھرنوں میں پھنسے ہوئے ہیں لیکن اس کا اہم سبب یہ بھی ہے کہ حکومت چند ہزار افراد پر مشتمل دھرنوں پر قابو پانے میں ناکام ہے آخر وہ صبر و تحمل اور برداشت کے نام پر ملک و قوم کو شدید نقصان پہنچانے والوں کے خلاف قانون حرکت میں کیوں نہیں لاتی؟دھرنے کے شرکاءکے خلاف کارروائی سے گریز بہتر ہے تاہم تحریک انصاف کے کارکنوں کے استعفے منظور کرکے ان کی نشستوں پر ضمنی انتخابات کرا دیتے جائیں تو اس سے یہ بھی اندازہ ہو جائے گا کہ تحریک انصاف کی سیاسی حیثیت کیا رہ گئی ہے۔

مزید :

کالم -