کیا جرگہ کامیاب ہوگا؟

کیا جرگہ کامیاب ہوگا؟
کیا جرگہ کامیاب ہوگا؟

  

جرگہ اپنا ایک مخصوص قبائلی پس منظر رکھتا ہے اس کی سب سے زیادہ شہرت پشتون اوربلوچ معاشرے میں موجود ہے۔ قبائلی جھگڑوں میں خواہ وہ دو قبائل کے درمیان ہوں یا ایک قبیلہ کا آپس میں جھگڑا ہو تو جرگہ تشکیل دیا جاتا ہے اور دونوں طرف سے قبائل کے معتبرین جرگہ تشکیل دیتے ہیں اور مسئلہ کو حل کرتے ہیں ،لیکن اس جرگہ کی اولین شرط یہ ہوتی ہے کہ دونوں فریق اس تشکیل شدہ جرگہ کو مکمل اختیار سونپتے ہیں اس کے بعد جرگہ فریقین سے مذاکرات کرتا ہے معلومات حاصل کرتا ہے۔ فریقین کو بلاتا ہے اور اپنا فیصلہ سناتا ہے اس کے بعد جرگہ کے فیصلے کو کوئی بھی مسترد نہیں کرسکتا اور نہ قبائلی معاشرے میں اس جرگہ کے فیصلے کو توڑنے یا تسلیم نہ کرنے کی روایات موجود ہیں۔

آج کی جدید دنیا میں افغانستان وہ واحد ملک ہے جہاں جرگے کو دستوری حیثیت حاصل ہے۔روایات ہیں اس کی تشکیل احمد شاہ ابدالی کے دور میں شروع ہوئی اور غازی امان اللہ خان نے جب پہلی بار افغانستان کے لئے دستور کی تشکیل کی تو اس میں دستوری تحفظ جرگہ کو حاصل ہو گیا افغانستان کے عوام صوبوں سے دو افراد کو منتخب کرتے تھے اور پھر جو دستور بنایا گیا تھا اس کو جرگہ میں پیش کیا گیا جب جرگہ نے اکثریت سے اس کو منظور کرلیا تو دستور کو قانونی تحفظ حاصل ہوگیا اس کے بعد اس کو ملک کا دستور تسلیم کرلیا گیا افغانستان کے حکمرانوں نے برصغیر ہند پر جتنے حملے کئے ان کو جرگہ کی حمایت حاصل تھی ۔ افغانستان میں جب مارکسٹ انقلاب برپا ہو گیا تو بھی جرگہ کو قانونی اور دستوری تحفظ حاصل تھا۔

پاکستان میں جرگہ بلوچ اور پشتون معاشرے کا ایک انتہائی اہم حصہ ہے نواب بگٹی شہید نے بھی جب جنرل مشرف سے دو دو ہاتھ کرنے کا فیصلہ کیا تو اپنے قبیلے کے تمام وڈیروں کو جمع کیا اور ان سے رائے طلب کی اور نواب کے فیصلے کو اکثریت نے تسلیم کرلیا۔ برطانوی استعمار کے دور میں حکومت نے مسائل کو حل کرنے کے لئے ایک شاہی جرگہ بھی تشکیل دیا تھا اور اس کو سالانہ مراعات ملتی تھیں اس جرگہ میں بلوچستان کے بلوچ اور پشتون قبائل کے انتہائی اہم سردار اور نواب صاحبان موجود تھے اس کا مقصد خان قلات کے قبائلی اثرات کو کم کرنا تھا۔ یوں بلوچ سرداروں اور قلات کے خانوں کے درمیان ایک نئی کشمکش پیدا کی گئی اس طرح نواب بگٹی کی شہادت کے بعد خان قلات سلیمان داﺅد نے بلوچستان کا گرینڈ جرگہ بلایا اس میں تمام قبائل موجود تھے اور اس میں متفقہ فیصلے کئے گئے ایک فیصلہ یہ بھی تھا کہ ریاست قلات کی حیثیت کو بحال کیا جائے گا خان قلات کو اختیار دیا گیا ،وہ برطانیہ گئے ۔وہ اپنی ریاست کی بحالی کی کوششوں میں تو کامیاب نہ ہو سکے۔بالآخر سیاسی پناہ کی درخواست دے دی یوں خان قلات برطانوی جہاں پناہ کی پناہ میں چلے گئے۔ نواب خیر بخش خان مری نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اب بات ریاست قلات کی بحالی سے کسی اور طرف چلی گئی۔

اب جو جرگہ سراج الحق نے تشکیل دیا ہے اس حوالے سے سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس جرگہ کو کیا اختیارات حاصل ہیں سراج الحق نے ایک بہت پیچیدہ مسئلہ کو ہاتھ میں لیا ہے اور ان کے راستے میں ایک نہیں کئی خطرناک مشکلات حائل ہیں اس جرگہ میں پیپلزپارٹی شریک ہے وہ اس سیاست میں ڈبل گیم کھیل رہی ہے۔ ایم کیو ایم کا کھیل پیپلزپارٹی سے بھی زیادہ خطرناک ہے یہ دونوں پارٹیاں جنرل مشرف کے بہت قریب رہی ہیں پیپلزپارٹی نے تو خفیہ طور پر جنرل مشرف سے ڈیل کی ہوئی تھی اس کا راز تو سابق وزیر اعظم گیلانی نے طشت ازبام کردیا تھا اور ایم کیو ایم تو جنرل مشرف کی پارٹی بن گئی تھی 12 جولائی کا واقعہ سب سے اہم ثبوت ہے۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور جمعیت علماءاسلام (ف) اس معاملہ میں بالکل واضح موقف کے ساتھ جرگہ میں موجود ہیں شیر پاﺅ بھی کھلے موقف کے ساتھ شامل ہیں۔ جاوید ہاشمی کے بیان اور پریس کانفرنس نے چھپے کھیل سے پردہ اٹھا دیا ہے اس لئے عمران خان بھی گلہ پھاڑتے ہوئے اعلان کررہے تھے کہ مجھے فوج کی کوئی ضرورت نہیں ہے پولیس کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ یہ بیان ان کی فرسٹریشن کو ظاہر کرتا ہے۔

سب سے اہم سوال تو یہ ہے کہ کیا حکومت نے اس جرگہ کو اختیار دیا ہے کہ جو فیصلہ آپ کریں گے ہم اس کو من وعن قبول کرلیں گے یا عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے جرگہ کو اختیار دیا کہ جو فیصلہ جرگہ کرے گا ہم اس کو قبول کریں گے چونکہ معاملہ بہت اہم ہے دونوں طرف سے تحریری اختیار موجود ہونا اس کے لئے شرط اول ہے ،لیکن ایسا لگتا ہے کہ کسی بھی فریق نے اس جرگے کو یہ اختیار نہیں دیا ، اس کو جرگے کا نام نہیں دینا چاہئے تھا اس کی بجائے اس کو مصالحتی کمیٹی یا سیاسی کمیٹی کا نام دینا چاہئے تھا ،جب پارلیمنٹ موجود ہے تو پھر جرگہ کی کوئی ضرورت نہ تھی اس لئے جرگہ اپنے منطقی انجام کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے جب جرگہ با اختیار ہے ہی نہیں تو وہ اتنے گھمبیر مسئلہ کو کیسے حل کرسکتا ہے حکومت پہلے ہی اعلان کرچکی ہے کہ ایک شرط کے سوا باقی شرائط قبول ہےں تو جرگہ کیا کررہا ہے۔ دونوں ایک نکتے پر جمع ہیں کہ نواز شریف استعفا دیں باقی شرائط کو وہ دونوں پرکاہ کے برابر بھی اہمیت نہیں دے رہے سب سے اہم بات اس وقت یہ ہے کہ جرگہ کی سیاست داﺅ پر لگی ہوئی ہے۔

مزید : کالم