سٹیٹ بینک کی رپورٹ کی روشنی میں معیشت کو بہتر بنانے کی ضرورت

سٹیٹ بینک کی رپورٹ کی روشنی میں معیشت کو بہتر بنانے کی ضرورت


سٹیٹ بینک نے متنبہ کیا ہے کہ سیاسی بحران اور سیلاب معیشت کے لئے خطرہ ہیں، اس سے ملک میں مہنگائی بڑھ سکتی ہے، سیلاب کے حوالے سے اس اندیشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ خریف کی بعض فصلوں کو نقصان پہنچے گا، غذائی اشیا کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، نجی شعبے کے لئے قرض کی فراہمی پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، اگلے دو ماہ کے لئے مانیٹری پالیسی کا جو اعلامیہ جاری کیا گیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ سیاسی صورت حال سے غیر ملکی سرمایہ کاری کم ہو گئی ہے، پہلی ششماہی میں مالیاتی خسارہ اور افراطِ زر قابو میں رہا۔ نجی شعبے کے قرضے میں اضافہ ہوا، خسارہ کم رکھنے کے لئے ٹیکس اصلاحات ضروری ہیں، جس کے لئے شرح سود موجودہ سطح پر، یعنی 10فیصد برقرار رکھی گئی ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ رواں سال معیشت بہتر ہوئی، جس کی بڑی وجہ زرمبادلہ مارکیٹ میں استحکام ہے، حکومت نے303ارب کا قرض لیا، بجلی پر سبسڈی کم کرنے اور گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس لگانے سے چیزوں کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔

اسلام آباد میں ایک ماہ سے جاری دھرنوں کا ملک کی مجموعی سیاسی اور اقتصادی صورت حال پر منفی اثر پڑا ہے اور معیشت کا جو پہیہ کچھ عرصہ پہلے چلنا شروع ہوا تھا وہ رُکتا ہوا محسوس ہوتا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھنے سے روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت کم ہو گئی تھی اور یہ 98روپے کے مساوی ہو گیا تھا، بعض ماہرین اس خیال کا اظہار بھی کر رہے تھے کہ ڈالر کی قیمت مزید نیچے آ سکتی ہے، اگر ایسا ہوتا تو ہمارے غیر ملکی قرضوں میں معتدبہ کمی آ جاتی، جس سے معیشت کو آگے بڑھنے میں مدد ملتی، لیکن کئی ماہ تک روپے کی قیمت میں استحکام رہنے کے بعد دھرنوں کی وجہ سے سٹاک مارکیٹ بھی متاثر ہونا شروع ہو گئی اور ڈالر ایک بار پھر بڑھ کر102روپے سے اوپر چلا گیا اور اگر موجودہ صورت حال مزید کچھ عرصے کے لئے جاری رہتی ہے تو خدشہ ہے ڈالر کی پرواز تیز تر ہو جائے گی۔

سیاسی دھرنوں کی وجہ سے تین ملکوں کے صدور کے دورے منسوخ یا ملتوی ہو گئے، جن میں سب سے اہم دورہ چینی صدر ژی کا تھا جو پاکستان میں 34ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے لئے معاہدے کرنے والے تھے، لیکن بدقسمتی یہ ہوئی کہ چین کی جو ٹیم یہ جائزہ لینے کے لئے اسلام آباد آئی تھی کہ کیا چینی صدر کے دورہ پاکستان کے لئے حالات ساز گار ہیں یا نہیں، اس کی رپورٹ پر دورہ موخر ہو گیا، جو اگرچہ اب بعد میں کسی وقت ہو سکتا ہے، لیکن نہیں کہا جا سکتا کہ ایسا کب ہو گا، کیونکہ ایسے دورے بہت پہلے شیڈول ہو جاتے ہیں اور کئی کئی ماہ، بلکہ برسوں کا پروگرام پہلے سے بنا کر رکھنا پڑتا ہے۔ اس دورے کی منسوخی کا ایک اور منفی پہلو یہ ہے کہ چینی صدر نے اپنے دورہ بھارت کے دوران بھارت میں مختلف شعبوں میں بھاری سرمایہ کاری کا اعلان کر دیا، حالانکہ دونوں ملکوں میں سرحدی کشیدگی اب بھی موجود ہے، جبکہ پاکستان کے لئے جگ ہنسائی کا سامان پیدا ہوا اور دورے کے سلسلے میں بہت پہلے سے جو محنت کی جا رہی تھی وہ سب اکارت گئی۔

سٹیٹ بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیاسی صورت حال کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاری کم ہو گئی ہے۔ موجودہ دور میں امیر ممالک بھی اپنے ہاں غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کے لئے کوشاں رہتے ہیں اور کم از کم سرمایہ کاری کرنے والوں کو بھی پُرکشش مراعات اور سہولتوں کی پیشکش کرتے ہیں۔ امریکہ جیسی سپر طاقت اور کینیڈا جیسے بڑے ملک بھی سرمایہ کاروں کو سہولتیں دیتے ہیں انہیں اپنے ملکوں کی شہریت تک پیش کرتے ہیں، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے جیسے ترقی پذیر ملکوں کے لئے غیر ملکی سرمایہ کاری کتنی ضروری ہے۔ اگر یہ سرمایہ کاری رُک جائے، تو ملکی صنعتی ترقی کا پہیہ بھی سست رو ہو جاتا ہے، شرح نمو کے اہداف حاصل نہیں ہوتے، مہنگائی، بیروزگاری اور افراط زر کے بڑھنے کے امکانات بھی پیدا ہو جاتے ہیں، پاکستان میں ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدنی بہت کم ہے اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو کم از کم دوگنا کرنے کی ضرورت ہے، لیکن ہم ایسا کرنے میں بھی بُری طرح ناکام رہے اور اپنے وسائل سے جو ریونیو ہم جمع کرتے ہیں وہ ہماری ضروریات سے بہت ہی کم ہے، نتیجے کے طور پر غیر ملکی قرضوں اور امداد پر انحصار کرنا پڑتا ہے، ان حالات میں غیر ملکی سرمایہ کاری بھی کم ہو جائے تو انداہ کیا جا سکتا ہے کہ اس کے معیشت پر کیا اثرات ہوں گے۔

سیاسی صورت حال تو جو بُرے اثرات ڈال رہی تھی اس کے ساتھ ہی بارشوں اور سیلاب سے ہونے والی تباہی نے ملک کے لاکھوں عوام کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔ غریب عوام کا انحصار جن فصلوں پر ہوتا ہے وہ سیلاب کی نذر ہو گئی ہیں، مال مویشی غریب اور امیر دیہاتیوں کی دولت ہوتے ہیں، کروڑوں اربوں روپے کے یہ مویشی بھی سیلاب میں بہہ گئے ہیں اور اس دولت سے مالا مال لوگ بھی اچانک بے وسیلہ ہو گئے ہیں۔ یہ زرعی دولت پاکستان کی قومی معیشت میں بھی اپنا معقول حصہ ڈالتی ہے۔ سٹیٹ بینک کو خدشہ ہے کہ سیلاب کے نتیجے میں زرعی اجناس کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کی وجہ سے مہنگائی بڑھنے کا بھی امکان ہے۔

جہاں تک مہنگائی کا تعلق ہے یہ پہلے ہی بہت زیادہ ہے، روزمرہ استعمال کی اشیاء اتنی گراں ہیں کہ غریب تو غریب اچھی خاصی آمدنی والے بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہے۔ رمضان المبارک میں گرانی کا جو سیلاب آیا تھا وہ اب تک جاری ہے اور روایتی طور پر گراں فروش تاجر اب تک گرانی کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔ اس موسم میں جو سبزیاں با افراط اور سستی دستیاب ہوا کرتی تھیں، اُن کی قیمتیں بھی عام لوگوں کی پہنچ سے بہت دور ہو گئی ہیں۔ حکومت اگرچہ متاثرین سیلاب کی امداد کے لئے کوشاں ہے اور عید قربان سے پہلے ان میں امدادی رقوم بھی تقسیم کرنا چاہتی ہے، لیکن یہ عبوری اقدامات لوگوں کی ضروریات کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ اصل ضرورت تو یہ ہے کہ ان لوگوں کو جلد سے جلد اُن کے گھروں میں آباد کیا جائے اور کوشش کی جائے کہ آئندہ وہ سیلاب جیسی آفتوں سے محفوظ رہیں، جو اب کئی برسوں سے معمول بنتے جا رہی ہیں۔

لیکن زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ آئندہ ان سیلابوں سے بچنے کے لئے ہم نے کیا منصوبہ بندی اور تیاری کر رکھی ہے؟ ہمارے دریاؤں میں معمول کے دنوں میں تو پانی کم ہوتا ہے، لیکن جب بارشوں کی وجہ سے پانی مُنہ زور ہو جاتا ہے تو ہم اس پانی کو سنبھال نہیں پاتے، یہی پانی اگر ہم ڈیموں میں جمع کرنے کی صلاحیت پیدا کر لیتے، تو ہمارے لئے نعمتِ خداوندی ہوتا، جس سے ہم بجلی پیدا کرتے اور فصلوں سے سونا اُگاتے، لیکن بڑے ڈیم نہ بنا کر ہم نے بطور مجموعی جس مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا ہے اس نے ہماری مشکلات کو بہت بڑھا دیا ہے۔ ہم لوڈشیڈنگ کا عذاب بھگت رہے ہیں اور مہنگے ذرائع سے بجلی پیدا کر رہے ہیں، یہ مہنگی بجلی عام لوگوں کے لئے قابلِ برداشت نہیں رہی، یہی وجہ ہے کہ دھرنے میں عمران خان نے بجلی کے بل بھی جلائے ہیں اور یہ بات لوگوں کے دِلوں کو لگتی ہے۔ لوگوں کا احتجاج بھی ریکارڈ ہو گیا، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بل جلانے سے بجلی سستی ہو جائے گی؟ اگر ایسا ہو سکتا تو بڑے بڑے صنعتکار زیادہ مالیت کے بل جلا دیتے، بجلی تو تب سستی ہو گی، جب سستے ذرائع سے پیدا کی جائے گی اور اب تک کے معلوم ذرائع میں سب سے سستا ذریعہ ہائیڈل ہی ہے جتنی زیادہ ہائیڈل بجلی پیدا ہو گی اتنی ہی سستی ہو گی، اس کے علاوہ سارے ذرائع درجہ بدرجہ مہنگے ہیں، جب تک پانی سے بجلی پیدا کرنے کو اولین ترجیح نہیں بنایا جائے گا اس وقت تک یہ بنیادی ضرورت نہ سستی ہو سکتی ہے، نہ لوڈشیڈنگ ختم ہو سکتی ہے، اس لئے حکومت کا فرض ہے کہ وہ سیاسی بحران کو حل کرے اور سیلابوں کے اثرات سے نمٹنے کے لئے موثر منصوبہ بندی کر کے اور آئندہ کے لئے سیلابوں کی آمد سے پہلے تیاری کی جائے۔ ایک اندازے کے مطابق پنجاب کی حکومت کو سیلابوں سے100ارب روپے کا نقصان ہوا ہے یہ نقصان آسانی سے پورا نہیں ہو گا،اندرونی وسائل کو پیداواری لحاظ سے متحرک کرنا ضروری ہے ساتھ ہی ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے بھی فضا ساز گار بنانے کی ضرورت ہے۔

مزید : اداریہ