فلسطین ، اسرائیل مذاکرات جلد شروع ہونے کا امکان

فلسطین ، اسرائیل مذاکرات جلد شروع ہونے کا امکان


غزہ(اے این این)اسلامی تحریک مزاحمت۔حماس کے سیاسی شعبے کے نائب صدر ڈاکٹر موسی ابو مرزوق نے بتایا ہے کہ ان کی جماعت اور صدر محمود عباس کی جماعت الفتح کے درمیان مفاہمتی بات چیت کا آغاز پرسوں منگل کے روز سے مصر کی نگرانی میں ہور ہا ہے۔مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اپنے ایک انٹرویو میں موسی ابو مرزوق نے کہا کہ دونوں جماعتوں کی قیادت منگل کو قاہرہ میں ملاقات کرے گی اور قومی مفاہمت کے حوالے سے پہلے سے طے شدہ امور کو آگے بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں مصری حکام بھی شریک ہوں گے۔ایک سوال کے جواب میں حماس کے لیڈر نے کہا کہ گذشتہ اپریل میں دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان قومی مفاہمت کا ایک معاہدہ طے پایا تھا جس میں بعض امور بعد میں زیربحث لانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

دونوں جماعتوں نے شیڈول کے مطابق دوبارہ بعض امور پر مذاکرات کا فیصلہ کیا ہے۔ منگل کو قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات میں الفتح کی جانب سے عزام الاحمد، جبریل الرجوب، صخر بسیسو، حسین الشیخ، محمود العالول شرکت کریں گے۔ابو مرزوق کا کہنا تھا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان بات چیت میں التوا کا شکار ہونے والے بعض معاملات زیر بحث لائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ مفاہمت کو آگے بڑھانے اور قومی حکومت کی کارکردگی کو مزید بہتر کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ادھر فلسطینی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ فلسطینی مزاحمتی تنظیموں اور اسرائیل کے درمیان مصر کی ثالثی سے بالواسطہ مذاکرات کا بھی جلد آغاز ہو رہا ہے۔ فریقین میں چھبیس اگست کو ہوئے جنگ بندی معاہدے کے تحت بعض معاملات پر ایک ماہ کے بعد بات چیت کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے فلسطینی مزاحمت کاروں کے ساتھ بات چیت کے لیے مصر سے رابطے کیے گئے ہیں۔ امکان ہے کہ اگلے چند روز کے دوران فلسطین۔اسرائیل مذاکرات بھی دوبارہ شروع ہو جائیں گے۔

مزید : عالمی منظر