مصری حکومت اردنی امدادی وفود کی غزہ آمد میں رکاوٹ بن گئی

مصری حکومت اردنی امدادی وفود کی غزہ آمد میں رکاوٹ بن گئی

  

عمان (اے این این)مصری حکومت کی جانب سے بیرون ملک سے آنے والے امدادی قافلوں کو غزہ کی طرف جانے سے روکنے کے کا سلسلہ جاری ہے۔ اردن کے ایک سرکردہ رکن پارلیمنٹ نے شکایت کی ہے کہ انہوں نے کئی بار ایک وفد کی شکل میں مصر کے راستے جنگ سے تباہ حال غزہ کی پٹی میں امدادی کاموں میں حصہ لینے کے لیے جانے کی کوشش کی لیکن ہر بار مصری حکام انہیں روک دیتے ہیں۔مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اردن رکن پارلیمنٹ اور امدادی وفد کے سربراہ یحییٰ السعود نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مصری حکام کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ ان کی سیکیورٹی کلیئرنس نہ ملنے کے باعث وہ انہیں غزہ کی پٹی کی طرف جانے کی اجازت نہیں دے سکتے ہیں۔

یحییٰ السعود کا کہنا تھا کہ بیرون ملک سے آئے وفود اور دیگر اہم شخصیات کو غزہ سے باہر سیکیورٹی فراہم کرنا مصری فوج اور پولیس کی ذمہ داری ہے اور غزہ کی پٹی کے اندر داخل ہونے کے بعد یہ ذمہ داری فلسطینی حکام پرعائد ہو جاتی ہے۔ مصری حکام کا کہنا ہے کہ وہ العریش شہر اور رفح کے علاقے میں سیکیورٹی کلیر نہ ہونے کے باعث انہیں غزہ جانے کی اجازت نہیں دے سکتے ہیں۔تاہم السعود نے یہ نہیں بتایا کہ آیا مصری حکام کی جانب سے انہیں کس نوعیت کی سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر غزہ جانے اور امددی کاموں میں حصہ لینے سے روکا ہے۔ خیال رہے کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی مسلط کردہ اکاون روزہ جنگ کے بعد بیرون ملک سے امدادی ادارے اور کارکن غزہ کے مفلوک الحال عوام کی مدد کو آ رہے ہیں لیکن مصری حکومت انہیں روک رہی ہے۔

مزید :

عالمی منظر -