متحدہ کے مطالبے نے انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے حامیوں میں روح پھونک دی

متحدہ کے مطالبے نے انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے حامیوں میں روح پھونک دی

  

لاہور(محمد نواز سنگرا)ایم کیو ایم کا نئے صوبے بنانا کا مطالبہ،انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کی حامی تحریکوں میں نئی روح پھونک دی گئی ہے، ملک کی چوتھی بڑی سیاسی جماعت کے میدان میں آنے سے صوبہ ہزارہ،جنوبی پنجاب اور دیگرنئے صوبوں کا مطالبہ کرنے والی قوتوں کو تقویت ملے گی،دنیا کی سیاسی اور معاشی طاقتوں میں اکثریت زیادہ صوبوں پر مشتمل ریاستوں کی ہے،کینیڈا کے دس،چین کے 23،اٹلی کے 110،برطانیہ 55،روس میں21 ،جاپان میں 47،امریکہ میں 50،ویت نام59،ترکی81،فلپائن80اور بھارت میں 28صوبے اور سرکاری نظام موجود ہیں۔زیادہ صوبوں کے قیام سے وسائل کی منصفانہ تقسیم اور اقتدار کی نیچے منتقلی ہوتی ہے،ملک کی چوتھی بڑی سیاسی جماعت ایم کیو ایم کے انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنانے کے مطالبے پر ملک میں پہلے سے موجود نئے صوبوں کی حامی قوتوں میں نئی روح پھونک دی گئی ہے،جس سے ملک میں بلوچستان،جنوبی پنجاب،ہزارہ سمیت نئے صوبوں کے قیام کی کاوشیں مضبوط ہو سکتی ہیں جس سے حکومت کےلئے مزید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔دنیا کے جن ممالک میں زیادہ صوبے اور ریاستیں موجود میں ان میںامریکہ میں 50ریاستیں،بھارت میں28صوبے، سعودی عرب13صوبے، جاپان میں47پرفیکچرز،چین میں 23 صوبے،برطانیہ میں 55متحد اتھارٹیز،اسٹریلیامیں 6ریاستیں،برازیل26ریاستیں،کینیڈا10صوبے،سویٹزر لینڈ میں 26کینٹونز،ہنگری میں 19ممالک،ایران میں 30صوبے،سری لنکا میں 9صوبے،کینیا میں 8صوبے،میکسیکو میں 31سٹیٹس،ملائشیا میں 13ریاستیں،سویڈن میں 21ریاستیں،ترکی میں 81صوبے،تھائی لینڈ میں 75صوبے پائے جاتے ہیں۔دنیا کے غریب ترین ممالک میں بھی پاکستان سے زیادہ صوبے موجود ہیں۔

متحدہ کا مطالبہ

مزید :

صفحہ آخر -