سیلاب متاثرین کیلئے امداد، حکومتی پالیسی کے پیش نظر محکمہ ریونیو نے ہاتھ کھینچ لئے

سیلاب متاثرین کیلئے امداد، حکومتی پالیسی کے پیش نظر محکمہ ریونیو نے ہاتھ ...

  

لاہور(اپنے نمائندے سے)سیلاب متاثرین اور قدرتی آفات نازل ہونے کی صورت میں متاثرین کی بڑھ چڑھ کر مدد کرنے اور بڑے پیمانے پر امداد اکھٹی کرتے ہوئے بھجوانے والے محکمہ ریونیو کے ملازمین نے گورنمنٹ پالیسی کے پیش نظر اپنے ہاتھ کھینچ لئے ،اس دفعہ محکمہ ریونیو کے ملازمین کی جانب سے نہ تو علاقائی سطح پر مخیر حضرات سے امداد بھجوانے کی اپیل کی گئی ہے اور نہ ہی متاثرین کےلئے راشن ،کمبل،بستر اور کھانے پینے کی اشیائے خوردونوش اکھٹی کی گئی ہیں روزنامہ پاکستان کو ملنے والی معلومات کے مطابق گزشتہ دنوں سے پنجاب بھر میں سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحا ل ،نقصانات اور تباہی کے بعد متاثرین کی امداد اور راشن بھجوانے کےلئے ہمیشہ سے متحرک نظر آنے والے محکمہ ریونیو نے اپنی خدمات ترک کر دی ہیں جس کی وجہ سے ریونیو سٹاف کی جانب سے پٹوار کلچر کا خاتمہ اور موجودہ حکومت کی ریونیو سٹاف کے ساتھ کھلم کھلا دشمن پالیسی بتائی جارہی ہیںریونیو ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت پر جب بھی کوئی مصیبت آتی ہے یا قدرتی آفت نازل ہوئی ہے تو محکمہ ریونیو کے تمام ملازمین نے اضافی ڈیوٹیوں اور انتظامی معاملات میں تمام محکموں سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے اور حکومت کا بھر پور ساتھ بھی دیا ہے تاہم محکمہ ریونیو کی حکومت کو دی جانے والی تمام خدمات نظر انداز کی جاچکی ہیںاور ریونیوسٹاف کو اچھوت اور دیگر سنگین الزامات میں مبتلا کرکے انکی ایک الگ شناخت بنا دی ہے،ریونیو سٹاف کا کہنا ہے کہ ہم بھی اس معاشرے کا حصہ ہیںاگر کوئی ایک بندہ غلط ہے تو اس میں پورے محکمہ کا تو کوئی قصور نہ ہے جن پٹواریوں اورریونیون آفیسران غلط کام کئے ہیں انکے خلاف قانونی کاروائی کی جانی چاہئے مگر جس ریونیو سٹاف نے اچھے انتظامی کام کئے ہیں تو اس کی حوصلہ افزائی بھی ہونی چاہیے مگر ہمیں حکومت کی جانب سے نظر انداز کئے جانے اور متنازعہ بنانے پر اب ہم بھی حکومتی رویہ کے پیش نظر محتاط ہو کر کام کررہے ہیں اس دفعہ ریونیو سٹاف کی جانب سے علاقائی سطح پر بھی کسی مخیر حضرات سے امداد کی اپیل نہ کی گئی ہے ،ریونیو ملازمین کا کہنا ہے کہ پھر بھی ہمارے محکمہ کے ملازمین نے اپنی مد د آپ کے تحت جتنی امدادہو سکتی تھی وہ متاثرین کی ہے دوسری جانب اعلیٰ افسران کا کہنا ہے کہ پٹواریوں کے ذریعے امدادلینے کا کلچر اب ختم ہو چکا ہے وہ اگر نیکیاں کمانا چاہتے ہیں اور اپنی رضا مندی سے متاثرین کی امداد کر نا چاہتے ہیں تو ان کو کوئی نہیں روک سکتا تاہم ہماری طرف سے کوئی ایسی ہدائت نہ دی گئی ہے پٹوار کلچر میں تبدیلی عوام الناس ے ریلیف کےلئے ہے۔

 محکمہ ریونیو

مزید :

صفحہ آخر -