مذاکرات کامیاب، ایئر لیگ اور پی آئی اے ملازمین نے ہڑتال ختم کردی

مذاکرات کامیاب، ایئر لیگ اور پی آئی اے ملازمین نے ہڑتال ختم کردی

  

لاہور(سٹاف رپورٹر)لاہور ایئر پورٹ پر کسٹم حکام کی جانب سے لندن سے فلائٹ لانے والے پائلٹ سمیت پی ائی اے عملہ کے خلاف سمگلنگ کے سلسلے میں کاروائی تنازعہ کا باعث بن گئی ۔ ایئر لیگ اور پی ائی اے ملازمین نے عملہ کو حراست میں لئے جانے پر ہڑتال کر دی جس کے باعث مانچسٹر جانے والی فلائٹ کئی گھٹنے تاخیر سے روانہ ہوئی دیگر فلائٹس کا شیڈول بھی شدید متاثر ہوا ۔ بعد ازاں ایف بی ار کے اعلی حکام اور ایئر پورٹ سٹیشن آفیسر کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد پائلٹ سمیت پی ائی اے عملہ کو ریلز کر دیا گیا ۔ مذاکرات کامیاب ہونے پر ایئر لیگ اور پی ائی اے ملازمین نے ہڑتال کی کال واپس لے لی ۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز لاہور ایئر پورٹ پر کسٹم کے ڈپٹی کلکٹر طارق باجوہ نے اپنی ٹیم کے ہمراہ لندن سے فلائٹ پی کے 758 لانے والے پائلٹ عامر ہاشمی سیمت دیگر بارہ کیبن کریو کو چیک کیا تو پائلٹ سے پانچ ہزار برطانوی پاﺅنڈ اور دیگر عملہ سے 50 انتہائی جدید مہنگے موبائل اور الیکٹرونکس کا دیگر سامان برآمد ہوا جس پر کسٹم کی جانب سے پائلٹ سمیت دیگر عملہ جس میں ایئر لیگ کے گیارہ عہدیدار بھی شامل تھے کو حراست میں لے کر تحقیقات شروع کر دیں گئی۔ عملہ کو حراست میں لئے جانے پر فوری طور پر ایئر لیگ کے دیگر عہدیدار بھی موقع پر پہنچ گئے اور انہوں نے کسٹم کی جانب سے دباﺅ قبول نہ کرتے ہوئے عملہ کو رہا کرنے سے انکار پر ہڑتال کا اعلان کر دیا ۔ ہڑتال کے اعلان کے موقع مانچسٹر جانے والی فلائٹ پی کے 709 روانگی کے لئے تیار تھی ہڑتال کی اطلاع پر مانچسٹر جانے والی فلائٹ کے پائلٹ سمیت دیگر کیبن کریو نے فلائٹ لے جانے سے انکار کر دیا اور کارپٹ سے باہر آ گئے ۔ ہڑتال کے باعث دیگر پروازوں کا شیڈول بھی متاثر ہوا جس سے مسافروں کے لئے شدید پریشانی پیدا ہو گئی ۔ اس صورتحال میں وزیر اعظم کے مشیر برائے پی ائی اے شجاعت عظیم نے فوری مداخلت کرتے ہوئے ایف بی آر کے چیرمین اور پی ائی اے کے چیرمین سے رابطہ کیا ۔ ایف بی آر کے چیرمین کی ہدایت پر ایڈیشنل کلکٹر کسٹم مبشر بیگ نے ایئر پورٹ پہنچ کر پی ائی اے کے سٹیشن آفیسر سے مذاکرات کئے مذاکرات کامیاب ہونے پر پائلٹ سمیت دیگر عملہ کو ریلز کر دیا گیا پائلٹ کے پانچ ہزار پاﺅنڈ واپس کر دیئے گئے تاہم موبائل فون اور الیکٹرونکس کا دیگر سامان ضبط کر لیا گیا ۔ اس موقع پر ایئر لیگ اور پی ائی اے ملازمین نے ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ۔ کسٹم کے ڈپٹی کلکٹر طارق باجوہ نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کو کسٹم اینٹی سمگلنگ کی جانب سے اطلاع ملی تھی کہ پی ائی اے کی یونین کے عہدیدار اپنی ڈیوٹیاں تبدیل کروا کر خصوصی طور پر لندن جانے والی فلائٹس پر لگواتے ہیں اور واپسی پر بڑے پیمانے پر موبائل فون سمیت دیگر سامان لے کر آتے ہیں ۔ پی ائی اے کی لندن جانے والی پی کے 758 کی روانگی سے قبل بھی پی ائی اے کے بارہ ملازمین نے پانی ڈیوٹیاں تبدیل کروا کر اس فلائٹ پر لگوائی ۔ اس اطلاع پر جب واپسی پر ان کو خصوصی طور پر چیک کیا گیا تو ان سے رقم سمیت موبائل فونز اور دیگر سامان برآمد ہوا ۔ ان افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا رہی تھی لیکن ایئر لیگ اور پی ائی اے کے اعلی افسران نے دباﺅ ڈال کر معاملہ رفع دفع کر وا لیا ۔ لندن سے فلائٹ لانے والی پائلٹ عامر ہاشمی نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ہنگامی ضرورت کے لئے مختلف ممالک کی کرنسی کی شکل میں اپنے پاس رقم رکھتے ہیں ۔ پائلٹ کو دس ہزار پاﺅنڈ رکھنے کی قانونی طور پر اجازت ہے ۔ ڈپٹی کلکٹر نے ناجائز طور پر ان کو تنگ کیا اس واقعہ سے پوری دنیا میں پی ائی اے کی بد نامی ہوئی ہے میرا مطالبہ ہے کہ ڈپٹی کلکٹر کو فوری طور پر معطل کر دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کے بعد مجھ سمیت تمام پائلٹس کے لئے سیکورٹی کی صورتحال بھی خراب ہو گئی ہے اب راہ زنوں کا پتہ چل گیا ہے کہ پی ائی اے کے پائلٹس اپنے پاس غیر ملکی کرنسی رکھتے ہیں ۔

ہڑتال ختم

مزید :

صفحہ آخر -