حکمرانوں کے خلاف مقدمات ۔۔۔ ؟

حکمرانوں کے خلاف مقدمات ۔۔۔ ؟
حکمرانوں کے خلاف مقدمات ۔۔۔ ؟
کیپشن: nawaz

  

وزیر اعظم میاں نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کو نیب کی عدالت کی جانب سے منی لانڈرنگ اور دیگر الزامات سے بری کر دیا گیاہے۔ یہ فیصلہ اس وقت آیاہے جب تحریک انصاف کے قائد عمران خان روزانہ میاں نواز شریف اور ان کے اہل خانہ پر کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات لگا رہے ہیں۔

شاید اس فیصلہ کی ٹائمنگ درست نہیں ہے ، اسی لئے اس فیصلہ پر بے شمار سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ اس فیصلہ نے نیب کی غیر جانبداری پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ نوازشریف کے اقتدار میں آنے کے نتیجے میں ان پر اور ان کے اہل خانہ پر قائم 243نیب کیسز ختم کر دیئے گئے ہیں۔

حکمران جماعت اور میاں نواز شریف کا موقف ہے کہ نوازشریف اور ان کے اہلِ خانہ پر جتنے بھی جھوٹے کیسز قائم کئے گئے ان کا سامنا عدالتوں میں کیا گیا۔یہ مقدمات سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں قائم کئے گئے تھے۔ اس لئے اگر ایک بھی مقدمہ سچ ہو تا تو پرویز مشرف اور ان کے ہم نوا جج نوازشریف کو نہ چھوڑتے ۔ میاں نواز شریف کا موقف ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف نے ان کے خلاف جھوٹے مقدمات کو درست ثابت کرنے کے لئے اربوں روپے خرچ کئے لیکن اللہ نے انہیں ایک ایک مقدمے میں سرخرو کیا اور مشرف کے ہاتھ کچھ نہ آیا ۔

میاں نواز شریف پہلے حکمران نہیں ہیں جو اپنے دور حکومت میں اپنے اوپر مقدمات میں بری ہو ئے ہیں۔ اس سے قبل سابق صدر آصف زرداری کے خلاف بھی جتنے مقدمات تھے ان کے فیصلے بھی ان کے دور حکومت میں ہی ہوئے۔ گو کہ آصف علی زرداری نے صدارتی استثناء حاصل کیا تھا لیکن باقی لوگ جو ان کے ساتھ مقدمات میں ملزم تھے وہ سب بری ہو گئے۔ اس لئے اب ان مقدمات کی بھی آصف زرداری کے صدر نہ رہنے کے بعد کوئی حیثیت نہیں رہی ہے۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک دوسرے پر الزامات لگانے کا سلسلہ نیا نہیں ہے‘ایسا ہمیشہ سے ہوتا آیاہے اور اب بھی ہورہا ہے‘ا س کی تازہ مثال تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے قومی اسمبلی میں قائدحزب اختلاف سید خورشید شاہ پر لگائے گئے الزامات ہیں‘اس کے جواب میں خو رشید شاہ نے عمران خان سے کہا ہے کہ وہ ان پر لگا ئے گئے الزامات تین دن کے اندر ثا بت کر دیں ورنہ وہ عدالت میں جا ئیں گے‘ اگر وہ الزام ثا بت نہیں کر سکتے تو مجھ سے نہیں بلکہ عوام سے معا فی ما نگیں کیو نکہ انہوں نے مجھ پر الزام بھی عوام کے سامنے ہی لگا ئے تھے‘ شائد خورشید شاہ اور عمران کان دونوں کو علم ہے کہ جب معاملہ عدالت میں جائے گا تو کئی سال لگ جائیں گے۔

سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے۔ کیوں عدالتیں حکمرانوں کے مقدمات کا فیصلہ ان کے دور حکومت میں ہی کرتی ہیں جبکہ یہ مقدمات ان کے اپوزیشن کے دور میں قائم ہوتے ہیں۔ پاکستان کے نظام انصاف کا یہ المیہ رہا ہے کہ یہ عام آدمی کا اعتماد نہیں جیت سکا ہے۔ کہاجا تاہے کہ انصاف ہو نا نہیں چاہئے بلکہ ہو تا نظر آنا چاہے‘ یعنی انصاف وہی ہے جس کو عام آدمی بھی کہے کہ انصاف ہوا ہے۔

سابق وزیر اعظم ذولفقارعلی بھٹو کو بھی عدالت نے جو سزا دی تھی اس کو بھی آج تک عام آدمی نے قبول نہیں کیا ہے۔ خود عدالتیں بھی اس سزا کو انصاف نہیں کہتی ہیں۔ لیکن اس کو درست کرنے کے لئے بھی ابھی تک عدالتوں نے کچھ نہیں کیا ہے۔ خود سابق صدر آصف علی زرداری آٹھ سال قید میں رہے، لیکن اس دوران ان کے کسی ایک مقدمہ کا فیصلہ بھی نہیں کیا گیا۔ جاوہد یاشمی بھی کئی سال قید رہے، یو سف رضا گیلانی نے بھی قید کاٹی۔ ان کے مقدمات بھی زیر التواء رہے۔ اسی طرح میاں محمد نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف بھی مقدمات سابق صدر پرویز مشرف اور ا س سے بھی قبل محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور وزارت عظمیٰ میں قائم ہوئے تھے۔ لیکن ان مقدمات کا کئی سال تک فیصلہ نہیں کیا گیا اور اب جب ان کے فیصلہ کئے جا رہے ہیں تو سوال اٹھنا کافی حد تک جائز قرار دئے جا سکتے ہیں۔

تا ہم ان سولات کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ مقدمات درست ہیں اور ان میں صداقت ہے۔ بلکہ سوال تو نظام عدل کی غیر جانبدار ی اور اس کی کارکردگی پر ہے۔ جو عدالتیں کئی سال کسی ایک ملزم کے مقدمہ کا فیصلہ نہیں کر سکتیں انہیں اس بات کا احساس ہو نا چاہئے کہ ہر گزرتا دن ان کی غیر جانبداری پر سوال پیدا کرتا ہے۔ اور دیر سے آنے والا فیصلہ انصاف کے تقاضوں کوپورا نہیں کرتا۔کاش اس ملک کا عدالتی نظام اس بات کا فیصلہ کر لے کہ وہ مقدمات کا جلد فیصلہ کرنے کا پابند ہو گا، تب ہی اس کے فیصلوں کو عوامی پذیر ائی حاصل ہو سکے گی۔

آج بھی نظام عدل کے ذمہ داران کویہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ ملک میں زیر التوا ء مقدمات کا فوری فیصلہ کرنے کی حکمت عملی بنائی جائے۔ تا کہ ملک میں انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔ عدالتوں کو اس بات کا احساس کرنا ہو گا کہ اگر ان کی وجہ سے ایک بے گناہ بھی ایک دن زیادہ قید رہا تو وہ روز حشر اس کے جوابدہ ہیں اور اگر ایک بھی گناہ گار ان کی وجہ سے ایک دن بھی آزاد رہا تو بھی وہ اس کے جوابدہ ہوں گے، جب تک ہم اپنے عدالتی نظام کے ذمہ داروں کے اندریہ احساس نہیں پیدا کریں گے۔ عدالتوں میں تاریخ پر تاریخ کا کلچر ختم نہیں ہو گا ‘اس وقت تک بر وقت انصاف ممکن نہ ہو گا۔

آج ملک میں دھاندلی کا جو شور ہے ، وہ بھی ایک طرح سے عدالتی نظام کی نا کامی ہے، عدالتوں کو بر وقت اس بات کا فیصلہ کرنا چاہئے تھا کہ ان حلقوں میں دھاندلی ہوئی ہے کہ نہیں۔ اس ملک کی عدالتوں کو ملک میں جمہوریت کی بقاء کی خاطر اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہو گا۔

مزید :

کالم -