شیطان کے پجاری خاندان کی بیٹی کی شرمناک کہانی

شیطان کے پجاری خاندان کی بیٹی کی شرمناک کہانی
شیطان کے پجاری خاندان کی بیٹی کی شرمناک کہانی

  

لندن (نیوز ڈیسک) خالق حقیقی اور اس کی ہدایت سے منہ موڑنے والے معاشرے یقینی طور پر شیطان کی گمراہی کا شکار ہوجاتے ہیں اور دنیا میں جہنم کا نمونہ پیش کرتے ہیں۔ برطانیہ میں نوجوان لڑکی اینا بیل فورسیٹ کی داستان حیات ایسے ہی دنیاوی جہنم کا نقشہ پیش کرتی ہے۔ اس لڑکی کی بدقسمتی یہ تھی کہ اس کی والدہ شیطان کی پرستش کرنے والے ایک گروہ کی رکن تھی۔ وہ نہ صرف اس نام نہاد مذہبی گروہ کے رہنما اور دیگر پیروکاروں کو اپنا جسم پیش کرتی رہی بلکہ اپنی معصوم بچی کو بھی ہوس کے مارے درندوں کے حوالے کردیا اور 18 سال کی عمر تک اسے 2000 سے زائد مرد اپنی نفسانی خواہشات کا نشانہ بناچکے تھے۔ اینا بیل نے یہ شرمناک واقعات اپنی کتاب "The Devil on the Doorstep" میں بیان کئے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کی ماں کولن بٹیلی نامی مرد کی مذہبی جماعت میں شامل تھی۔ کولن نے اس گروہ کے افرادکو یہ کہہ کر گمراہ کررکھا تھا کہ وہ ان کا نجات دہندہ ہے اور اس کا حکم نعوذ باللہ خدا کا حکم ہے وہ اس جماعت کی خواتین اور یہاں تک کہ معصوم بچیوں سے بھی مذہب کے نام پر درندگی کرتا تھا۔ اینا بیل کو اس نے 11 سال کی عمر میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس کے بعد اسے مسلسل جنسی ہوس کیلئے استعمال کیا جاتا رہا۔ اس جماعت کے چرچ کیلئے رقم اکٹھی کرنے کیلئے بھی اسے جسم فروشی پر مجبور کیا گیا اور 18 سال کی عمر تک وہ 2000 مردوں کی ہوس کا نشانہ بن چکی تھی۔ بالآخر وہ اس جہنم سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی اور اس کی بدکردار ماں اور کولن بٹیلی کا راز فاش ہونے کے بعد انہیں بالترتیب 11 اور 12 سال قید کی سزا ہوچکی ہے۔ اینا بیل کا کہنا ہے کہ اس کا کتاب لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ شیطان صفت جنسی درندوں کو پہچانیں اور آئندہ کوئی بچہ ایسے ظلم کا نشانہ نہ بنے۔

  •  

مزید :

ڈیلی بائیٹس -