ڈنمارک کی بادشاہت میں دھاندلی ،ایک اور دعویدار سامنے آگئی

ڈنمارک کی بادشاہت میں دھاندلی ،ایک اور دعویدار سامنے آگئی
ڈنمارک کی بادشاہت میں دھاندلی ،ایک اور دعویدار سامنے آگئی

  

برمنگھم (نیوز ڈیسک) برطانیہ کی ایک 87 سالہ دادی اماں نے یہ دعویٰ کردیا ہے کہ وہ اصل میں ڈنمارک کی حقیقی ملکہ ہے جس کی دادی کو اس کے پردادا کنگ فریڈرک نے بوجوہ ڈنمارک سے چھپا کر برطانیہ بھیج دیا تھا۔ آج کل ڈنمارک کی ملکہ مارگریتھ دوئم ہیں۔ لیکن آئرین وارڈ نامی برطانوی بڑھیا کی کہانی نے اس ملک میں تہلکہ مچادیا ہے اور لوگ یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ ان کی حقیقی ملکہ کون ہے۔ ڈنمارک کے بادشاہ فریڈرک کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی دو شادیوں سے کوئی اولاد نہ ہوئی جس کی وجہ سے تخت ایک اور شاہی فرد کرسچین کو منتقل ہوگیا اور اس کی اولاد ہی بعد میں حکمران بنتی رہی۔ آئرین کا کہنا ہے کہ یہ کہانی درست نہیں ہے بلکہ اس کے پردادا بادشاہ فریڈرک نے ایک رقاصہ سے خفیہ شادی بھی کی تھی جس سے پیدا ہونے والی لڑکی الزبتھ کو چھپا کر برطانوی سفیر کے ذریعے برطانیہ بھیج دیا گیا کیونکہ بادشاہ رقاصہ سے تعلق کو چھپانا چاہتا تھا۔ برطانیہ میں اس بچی کی جوان ہونے پر شادی ہوئی اور پھر اس کے بیٹے جان سے آئرین کی پیدائش ہوئی۔ دادی اماں کا کہنا ہے کہ اس کے والد تمام عمر اپنے آباﺅ اجداد کی تلاش میں رہے لیکن کامیاب نہ ہوئے۔ والد کی وفات کے بعد انہوں نے تلاش جاری رکھی اور بالآخر ڈنمارک میں ایک خاتون سے ملاقات ہوئی جس کی پردادی وہ نرس تھی جس نے بادشاہ کی بچی کو برطانوی سفیر کے ساتھ ملکر برطانیہ پہنچایا تھا۔ آئرین کا دعویٰ ہے کہ اب سب کڑیاں ملائی جاچکی ہیں اور وہی ڈنمارک کی اصل ملکہ ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -