بچوں کی اچھی تربیت میں معمولی باتوں کا بھی خیال رکھیں

بچوں کی اچھی تربیت میں معمولی باتوں کا بھی خیال رکھیں
بچوں کی اچھی تربیت میں معمولی باتوں کا بھی خیال رکھیں

  

لاہور(نیوزڈیسک)بچوں کی پرورش اور تربیت کا موضوع نہایت ہی اہم ہے۔ بچوں کی تربیت آپ سے وقت اور منصوبہ بندی کی متقاضی ہے تربیت کا عمل آپ کی ذمہ داری ہے جسے بھرپور توجہ چاہیے۔ عام مشاہدہ ہے کہ بچے ہی نہیں بڑے بھی دوسروں کی عادات سے متاثرہ ہوکر ان کا انداز فوری اپنا لیتے ہیں مگر خاص طور پر بچے زندگی کے اصول قاعدے اور طور طریقے نہیں سیکھ سکتے اس کے لئے وہ والدین اور سرپرستوں کے محتاج ہوتے ہیں۔ اگر کسی کی اولاد سماجی برائیوں میں مبتلا ہوجائے تو یقیناً والدین کی زندگی نہایت تکلیف دہ ہوجاتی ہے۔ اس مسئلے پر سمجیدگی سے غور کرنے کی صورت ہے بچوں کی تربیت اور پرورش ایک بہت ذمہ داری کا کام ہے ماہرین نفسیات کی یہ رائے ہے کہ بچے ہمیشہ والدین کے غلط سلوک سے بگڑتے ہیں اگرچہ اس میں دوسرے عامل بھی شامل ہیں لیکن عام طور پر والدی جو غلطیاں کرتے ہیں ان کا اثر بچوں پر پڑتا ہے۔

بچوں کو مارنا پیٹنا

والدین کے نزدیک کسی غلط کام کی صورت میں بچوں کو مارنا پیٹنا ان کے لئے سود مند ہوسکتا ہے اور اس عمل سے اپنی اولاد میں بہتری کی امید کرتے ہیں اہم ماہرین نفسیات اسے برا جانتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ مارپیٹ اور اسی طرح کی دوسری سزائیں نہیں دینی چاہئیں ان سے بچوں میں ذہنی ارتقاءکا عمل متاثر ہوتا ہے سزا والدین کے خلاف ردعمل ظاہر کرنے پر آمادہ کرتی ہے اور بعض صورتوں میں شدید قسم کی بغاوت پیدا ہوتی ہے۔

بچوں کو سمجھیں

والدین کو جاننا چاہیے کہ بچہ ان سے کیا چاہتا ہے یاد رکھے محبت اور شفقت کی بھوک ہمیشہ بچوں میں بہت زیادہ ہوتی ہے انہیں محبت اور شفقت ملنی چاہیے اسی سے یہ ننھے پودے نشوونما پاتے ہیں ان کا ذہنی ارتقا درست سمت میں ہوتا ہے تاہم بے جا لاڈپیار اور ان کی ہرجائز و نائز خواہش پوری کرنا ان کی ہاں میں ہاں ملانا ان کی بری عادتوں کو نطر انداز کرنا بھی نقصان دہ ہے۔ اس عمل میں توازن اور احتیاط کی ضرورت ہے۔ بچے کو ایک طرف محبت کی ضرورت ہوتی ہے تو دوسری طرف اس کی شخصیت احترام بھی چاہتی ہے ماہرین کے نزدیک بچے کے بنیادی مطالبات کو پورا کرنا اور اس کے جذبات کی قدر کرنا ہی اس کا احترام ہے۔

بچے کو تحفظ فراہم کریں

تحفظ بچے کی بنیادی ضرور ہے۔ وہ کسی مشکل سے دوچار ہونے کے بعد اپنے والدین کی طرف دیکھتا ہے جو اس کے لئے اس وقت نجات دہندہ کی حیثیت رکھتے ہیں ایسی صورتحال میں بچے کے ساتھ والدین کا سلوک ایسا ہونا چاہیے کہ بچہ اپنے آپ کو محفوظ محسوس کرے۔

منفی احکامات نہ دیں

بچے کو منفی احکامات دینے سے گریز کریں۔ عام طور پر ایسا مت کرو یہاں مت بیٹھو، وہ مت اٹھاﺅ جیسے جملے بچے کو کہے جاتے ہیں۔ جس سے وہ اپنی آزادی سلب ہوتی ہوئی محسوس کرتا ہے۔ اگرچہ روک ٹوک ضروری ہے لیکن اس میں شدت اور غیر ضروری احکامات شامل نہ ہوں اس کے برعکس بچے کو کسی کام سے روکنے کے لئے اس کے نقصانات کے بارے میں بتانا چاہیے اس طرح وہ خود اس سے باز رہنے کی کوشش کرے گا۔

بچے کا مقابلہ کسی سے نہ کریں

ماہرین مقابلے اور موازنے کے عمل کو والدین کی بڑی غلطی تصور کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ایک بچے سے دوسرے بچے کا مقابلہ نہیں کرنا چاہیے اس سے بچوں میں احساس کمتری پیدا ہوتا ہے اور وہ دوسروں سے حسد محسوس کرتے ہیں جو ایک منفی رجحان ہے۔

بچوں سے سمجھداری کی امید نہ کریں

ایک اور غلطی والدین یہ کرتے ہیں کہ وہ بچوں سے دانش مندی کی امید کرتے ہیں نئے معاملات اور تجربات سے گزرنے والے بچے کے والدین اس سے یوں گویا ہوتے ہیں کہ ایسا نہیں کرتے تمہیں نہیں معلوم یہ غلط ہے تم نے ایسا کیوں کیا یہ وہ جملے ہیں جو بچے کے کانوں میں پڑتے ہیں مگر وہ یہ سب کہاں سوچ سکتا ہے۔ والدین کو ایسی امید نہیں کرنی چاہیے کہ ان کا بچہ کسی موقعے پر بڑوں کی طرح دانشمندی اور سمجھداری سے کام لے گا۔

بچے کو کھیلنے سے نہ روکیں

بچے کو مٹی میں کھیل کود کرنے یا بعض ایسے کام کرنے سے نہیں روکنا چاہیے جس سے اس کی جسمانی گندگی کا امکان زیادہ ہو یاد رکھیے ان کاموں میں بچے کی زندگی کا ارتقاءیہاں ہوتا ہے۔

بچے کو کسی شے سے نہ ڈرائیں

ایک اور بڑی غلطی بچوں کو ذہنی طور پر کمزور اور بزدل بناسکتی ہے اس کے علاوہ ان میں غلط رجحانات بھی فروغ پاتے ہیں بچوں کے دل میں کسی شے، والدین یا کسی بڑے کا ڈر نہیں بٹھانا چاہیے بلکہ اسے ہر ایک چیز سے مانوس ہونے کا موقع فراہم کرنا چاہیے۔ بچوں کے روبرو والدین کو اپنے قول و فعل پر کنٹرول اور توازن رکھنا چاہیے کیونکہ انہی کی چال چلن سے بچےت بہت کچھ سیکھتے ہیں۔

بچے والدین کی زندگی میں کس حد تک اور کیسی خوشحالی لاتے ہیں یہ سب اس بات پر منحصر ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں جسمانی کمزوریاں تو علاج معالجے سے دور ہوجاتی ہیں لیکن اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کا درست سمت دینے کے لئے زیادہ محنت درکار ہوتی ہے۔ اس کے لئے بچے کے طرز عمل پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

بچے کہیں روٹی نہیں کھاتے اور ماں کو طرح طرح سے پریشان کرتے ہیں نہاتے وقت اودھم مچاتے ہیں، گھر سے پیسے چرا کرلے جاتے ہیں، اکثر جھوٹ بولتے ہیں، محلے کے بچوں سے بات بات پر لڑتے ہیں، پڑھنے میں دل نہیں لگتا، گھر میں ہنگامہ برپا کرتے رہتے ہیں وغیرہ ایسی حالت میں والدین اپنیز ندگی کو دوزخ تصور کرنے لگتے ہیں لیکن والدین اپنے سلوک پر تحمل سے غور نہیں کرتے سچ تو یہ ہے کہ 99 فیصد ماں باپ بچے کی برائیوں یا غلطیوں کو دور کرنے کے لئے مارپیٹ سے کام لیتے ہیں۔ یہ سراسر غلط ہے اپنے بچے کی اچھی پرورش کریں یہ وہ چیز ہے جو آگے چل کر آپ کا سہارا ہے۔

مزید : تعلیم و صحت