کراچی نے ثبوت دے دیا اب لاہور کی باری ہے، نواز شریف کا استعفیٰ اور عوام کے حقوق لے کر جائیں گے: عمران خان

کراچی نے ثبوت دے دیا اب لاہور کی باری ہے، نواز شریف کا استعفیٰ اور عوام کے ...
کراچی نے ثبوت دے دیا اب لاہور کی باری ہے، نواز شریف کا استعفیٰ اور عوام کے حقوق لے کر جائیں گے: عمران خان

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ کراچی جلسے کی کامیابی ہمارے دھرنے کی کامیابی کا ثبوت ہے، اب اس اتوار کو لاہور میں مینار پاکستان میں عوام کا سمندر اکٹھا کریں گے، عوام جاگ چکے ہیں اب نواز شریف کا استعفیٰ اور اپنے حقوق لئے بغیر واپس نہیں جائیں گے، عوام کے شور مچانے پر حکومت بجلی کے اضافی بلوں کو واپس لینے پر تیار ہو گئی ہے، امریکہ میں نواز شریف کا بہت برا استقبال ہونے جا رہا ہے، لوگوں کو ان کے حقوق دے دیں یہ لوگ خود ترقی کر لیں گے، آزادی رضاکار پروگرام شروع کر رہے ہیں۔

ڈی چوک میں دھرنے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں خاندان ہم پر مسلط کر دئیے گئے ہیں، یہ لوگ اپنا پیٹ بھرنے میں مصروف ہیں، ان کے اثاثے بڑھ رہے ہیں اور پورا ملک غریب ہو رہا ہے، کسی بھی اچھے اور کامیاب لیڈر میں 4خوبیاں ہوتی ہیں، وہ سچا ہوتا ہے اور بزدل نہیں، ہمیشہ اپنے ڈر پر قابو پاتا ہے، لیڈر ہمیشہ انصاف کرتا ہے، وہ اپنے فیصلے میں ہمیشہ میرٹ کا خیال رکھتا ہے اور وہ اپنی ’میں‘ ختم کر دیا ہے، وہ اپنی زندگی انسانیت کے لئے گزارتا ہے،آج آپ بھی فیصلہ کریں کہ آپ نے مزید ظلم برداشت نہیں کرنا، آپ میں سے ہر کوئی لیڈر بننے والا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے نیا پاکستان سامنے نظر آ رہا ہے، نیا پاکستان میٹروں بسوں سے نہیں بنتا، آئی ایم ایف یا ورلڈ ہمیں قرضے دے دے کر نیا پاکستان نہیں بنائیں گے، یہ نیا پاکستان پاکستانی عوام بنائیں گے، جو یہاں موجود ہیں، اس قوم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ پاکستان کے حسنی مبارک سے جان چھڑانی ہے، ہم اس کے استعفے اور اپنے حقوق واپس لئے بغیر واپس نہیں جائیں گے۔ امریکہ میں وزیر اعظم نواز شریف کے جلسے کے دوران احتجاج ہو گا اور وہاں پوری دنیادیکھے گی کہ ہم نواز شریف کو اپنا وزیر اعظم تسلیم نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ اس مہینے میں بجلی کے بلوں میں70 ارب روپے کی اوور بلنگ کی گئی، لوگوں نے بلز کو آگ لگائی تو اب وزیر اعظم کہہ رہے ہیں کہ ہم دوبارہ بلوں کو دیکھتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ آواز اٹھائیں تو ہمیں ہمارے حقوق ملیں گے، آزادی رضا کار پروگرام شروع کر رہے ہیں، جمعے کو یہاں بڑا دھرنا ہو گا اور اتوار کے روز لاہور میں مینار پاکستان پر جلسہ کر کے تو ہم اپنا ریکارڈ ہی توڑیں گے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ اللہ نے کہا ہے کہ میں اس قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلنا چاہے، اب لوگ حالت بدلنا چاہتے ہیں، لوگ جاگ گئے ہیں، کراچی کی عوام نے باہر نکل کر ثابت کر دیا کہ سب لوگ جاگ گئے ہیں اور سب کا نعرہ ایک ہی ہے اور وہ ’گو نواز گو‘ ہے، جہاز میں مجھے ایک بچے نے بڑے پیار سے آ کر کہا ’گو نواز گو‘ ، ایئر پورٹ سے مزار قائد تک سارے کراچی میں کل ہر سڑک پر گو نواز گو کا نعرہ تھا، ہماری جلسے کی جگہ ہی کم پر گئی تھی، لوگ اردگرد درختوں پر بھی چڑھے ہوئے تھے۔ کپتان نے کہا کہ ہم نے کراچی میں بہت بڑا جلسہ کیا، ہر طرف عوام کا سمندر تھا لیکن ہمارے کراچی کے جلسے میں سب سے منفرد بات یہ تھی کہ ہمارے ساتھ تمام زبانیں بولنے والے لوگ موجود تھے، وہاں سندھی، بلوچی ، پشتون اور اردو بولنے والے سب لوگ تھے، ہم اس قوم کو تقسیم نہیں بلکہ ایک کر رہے ہیں، نواز شریف کا استعفیٰ لینے بعد میں نے اندرون سندھ اور بلوچستان کے دورے کرنے کا ہیں کیونکہ سب سے زیادہ ظلم تو وہاں ہوتا ہے، وہاں سے بہت حکمران آئے مگر وہاں عوام کا کبھی فائدہ نہیں ہوا،عوام کو کبھی حقوق نہیں دیئے گئے، اس عوام کو حقوق ہم دلائیں گے۔ انہوں نے آزادی مارچ کے شرکاءسے کہا کہ یہ ملک 2حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے، ایک پاکستان غریب کا ہے اور دوسرا امیر کا ،پاکستان میں تعلیم میں تو تین درجے بنا دئے گئے ہیں، انگلش میڈیم ، اردو میڈیم اور مدرسے ہیں، ایک نظام تعلیم نہیں ہے،8لاکھ بچے انگلش میڈیم اور 3کروڑ اردو میڈیم جبکہ 20لاکھ مدرسوں میں پڑھتے ہیں۔کپتان نے انکشاف کیا کہ 10کروڑ پاکستانیوں کے پاس بیت الخلاءکی سہولت موجود نہیں ہے،لاہور میں 65فیصد علاقے میں پانی میں آرسینک نامی کیمیکل ہے جو کہ زہر یلا ہوتا ہے، بارش ہوتی ہے تو سارا سیوریج کا پانی پینے کے پانی سے مل جاتا ہے اور وہی پانی ہمارے شہری پیتے ہیں، دیہات میں بنائے گئے بنیادی ہیلتھ کے مراکز میں ڈاکٹرز اور دوائیں دستیاب نہیں ہیں اور شہروں میں یہ حال ہے کہ پنڈی میں چوہا کاٹنے سے بچہ فوت ہو گیا اور ویہاڑی میں تو 6بچے آکسیجن نہ ہونے پر جاں بحق ہوئے، اس کے مقابلءامیروں اور حکمرانوں کا رہن سہن دیکھ کر بطور پاکستانی ہمیں شرم آنی چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے سب سی زیادہ بجٹ تعلیم پر خرچ کیا، اپنا 28فیصد بجٹ صرف تعلیم کے لئے دے دیا،خیبر پختونخواہ میں ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ایک نظام تعلیم لے کر آئیں ، امیر اور غریب کا بچہ ایک جیسی تعلیم حاصل کرے، جب ہم تعلیم پر زور دیں گے تو ہمارا اصل ٹیلنٹ اوپر آئے گا، اس وقت ہی ہمیں اقبال کے شاہیں ملیں گے، ہم نے اس پسے ہوئے طبقے کی بات کرنی ہے جس دو وقت کی روٹی نہیں کھا سکتا، اگر ہم ان کو تعلیم دیں گے تو یہ لوگ ہمارے معاشرے کی تعمیر خود ہی کر دیں گے۔

مزید : قومی /Headlines