کانگو بخار مویشیوں اور اونٹ کی جلد میں پرورش پانے والے چیچڑ کے کاٹنے سے پھیلتا ہے‘ بیوپاری اور خریدا رمحتاط رہیں: محکمہ صحت

کانگو بخار مویشیوں اور اونٹ کی جلد میں پرورش پانے والے چیچڑ کے کاٹنے سے ...
کانگو بخار مویشیوں اور اونٹ کی جلد میں پرورش پانے والے چیچڑ کے کاٹنے سے پھیلتا ہے‘ بیوپاری اور خریدا رمحتاط رہیں: محکمہ صحت

  



لاہور (اے پی پی) کانگو بخار بھیڑ بکریوں، مویشیوں اور اونٹ کی جلد میں پرورش پانے والے چیچڑکے کاٹنے سے پھیلتا ہے جس سے جانوروں کے ساتھ ساتھ انسان بھی متاثرہوتے ہیں۔ محکمہ صحت نے مویشی منڈیوں، قربانی کے جانور فروخت کرنے کے سیل پوائنٹس اور جانوروں کے باڑوں میں کام کرنے والے افراد کے علاوہ مویشیوں کے بیوپاریوں اور قربانی کے جانور خریدنے والے عام لوگوں کو بھی مکمل احتیاط برتنے کی ہدایت کر دی۔ محکمہ صحت کے ترجمان نے بتاےا کہ محکمہ کی طرف سے ہداےت کی گئی ہے کہ عےد الاضحیٰ کے موقع پر جانوروں کے سیل پوائنٹس اور دیگر مقامات پر چیچڑ کش سپرے کروایا جائے، جانوروں کے باندھنے کی جگہوں پر چونے کا چھڑکاﺅ کیا جائے اور قربانی کے جانور خریدنے والے عوام جانور کی صحت کے بارے میں یقین کر لیں اور اس کی جلد کا خصوصی طور پر معائنہ کر لیں کہ جانور کی کھال میں چیچڑ پیوست تو نہیں، ایسے جانوروں کی جلد پر بھی سپرے کیا جا سکتا ہے۔ جانوروں مےں موجود چیچڑ اگر کسی انسان کو کاٹ لے تو مریض کانگو بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے اور یہ وائرس سے پھیلنے والی بیماری ہے جس سے مویشی پال حضرات جانوروں کو ہینڈل کرنے اور مویشی منڈیوں میں کام کرنے والے بیوپاری اور ورکر متاثر ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں ہسپتالوں میں کانگو بخار میں مبتلا مریضوں کا علاج معالجہ کرنے والے ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف انتہائی رسک پر ہوتا ہے۔ کانگو وائرس میں مبتلا مریض کو تیز بخار کے ساتھ سر میں شدید درد، متلی، پیٹ اور پٹھوں میں بھی درد ہوتا ہے اور مریض کے مسوڑوں، منہ، ناک اور مقعد سے خون رسنا شروع ہو جاتا ہے۔ ترجمان کے مطابق اگرچہ پاکستان اور پنجاب میں کانگو وائرس کے مریض بہت کم رپورٹ ہوتے ہیں تاہم ہر سال عید الاضحی کے موقع پر بڑے پیمانے پر قربانی کے جانوروں کی نقل و حمل کی وجہ سے اس بیماری کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

مزید : لاہور