ہم حالت جنگ میں ہیں

ہم حالت جنگ میں ہیں
 ہم حالت جنگ میں ہیں

  



پشاور ایک بار پھر دہشت گردوں کا نشانہ بن گیا۔ تمام کے تمام دہشت گرد اپنے انجام کو پہنچے لیکن ہمارا بھی جانی نقصان ہوا۔ ہمارے فوجی اور ایئر فورس کے ملازمین شہید ہو گئے۔ دہشت گردی کے اس واقعہ میں تو جو کچھ ہوا اسے ٹی وی نے نشر کر دیا۔ فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ دہشت گردی کی اس کارروائی کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی، وہیں سے اس پر عمل در آمد کی ہدایات دی گئیں اور نگرانی کی گئی۔ انہوں نے اس بات کو سمجھانے کی کوشش بار بار کی کہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کی سرحد بہت طویل ہے ، کئی سو کلو میٹر کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔ وہ یہ بتانے کی کوشش کر رہے تھے کہ اس کھلی ہوئی سرحد کی نگرانی نہیں کی جاسکتی ۔ ٹھیک ہے کہ سرحد طویل ہے اور نگرانی نہیں ہو سکتی ۔ کیا اس کا یہ مطلب لیا جائے کہ جو کچھ ہوا وہ ہوتا ہی رہے گا؟ میں نے ان کالموں میں کئی بار لکھا ہے کہ پشاور، کوئٹہ یا کراچی میں ہونیو الی دہشت گردی کے ملزمان آسمان سے وارد نہیں ہوتے ہیں بلکہ ان ہی شہروں میں پہلے سے آ کر قیام کرتے ہیں، اپنے اہداف کا جائزہ لیتے ہیں، اپنا سامان ’’ حرب‘‘ ضرب لگانے کے لئے اکٹھا کرتے ہیں اور کسی ایک روز ایسی کارروائی کر گزرتے ہیں کہ ہم ہاتھ ملتے ہی رہ جاتے ہیں ۔ دہشت گردی کی اس جنگ میں ہمیں ایسے دشمن کا سامنا ہے جو چھپ کر حملہ کرتا ہے، نتائج سے بے پرواہ ہوتا ہے، اس کا نقصان تو ہوتا ہی ہے جس کے لئے وہ تیار ہو کر آتا یا بھیجا جاتا ہے لیکن وہ ہمیں بھی نقصان پہنچا دیتا ہے۔ دہشت گردی کی کوئی ایک بھی کارروائی ایسی نہیں ہے جس میں دشمن کو نقصان ہوا ہو اور ہم محفوظ رہ سکے ہوں۔ جب ہم محفوظ ہی نہیں رہ پاتے ہیں تو پھر ہم کیوں نہیں سوچتے کہ ہمیں کہیں بھی کسی بھی حالت و حالات میں دہشت گردوں کو کسی قسم کی کوئی سہولت فراہم نہیں کرنی ہے۔

بقول فوج کے ترجمان، ہم حالت جنگ میں ہیں۔ پشاور میں حملہ آورافغا نستان سے کسی ایک جست میں پشاور نہیں پہنچے ہوں گے۔ وہ پہلے سے آئے ہوئے ہوں گے، انہوں نے کہیں قیام کیا ہوگا، انہوں نے اپنا سامان کہیں محفوظ مقام پر رکھا یا چھپایا ہوگا۔ کسی نے اس سامان کی نگرانی کی ہوگی ۔ انہیں کسی نے سہولت پہنچائی ہوگی۔ کوئی ان کے سہولت کار ہوں گے۔ کوئی مدد گار ہوں گے۔ علاقہ پولس کے مخبر ، پولس انٹیلی جنس، حساس اداروں کی انٹیلی جنس اور دیگر وہ لوگ جنہیں اطلاعات جمع کرنے اور آگے پہنچانے کی ذمہ داری ادا کرنا ہوتی ہے، کہاں رہ گئے تھے۔ پشاور تو ایسا شہر نہیں ہے جہاں سب لوگ خراٹے لے کر سو رہے ہوتے۔ اگر ذمہ دار ہی چوکس نہیں تھے تو پھر کسی سے کیا شکایت کرنا۔ پشاور شہر کی ناکہ بندی کس کی ذمہ داری ہے؟ پشاور میں داخلی اور خارجی راستے کیوں کھلے ہوئے پائے گئے ؟ حساس ادارے، رینجرز، پولس موجود ہوتے ہیں۔ شہری دفاع کے ادارے کو متحرک کیا جاسکتا ہے۔ قومی رضاکار وں کی ٹیمیں بنائی جاسکتی ہیں ۔ جب کوئی قوم حالت جنگ میں ہوتی ہے تو اسے اپنے طور طریقوں میں تبدیلی لانا بھی ضروری ہوتی ہے۔ صرف فوج یا رینجرز یا پولس کی ذمہ داری تصور کر کے سو جانا عقل مندی قرار نہیں دی جا سکتی۔ اس ان دیکھی جنگ میں شہریوں کو حصہ بنانے کی کوئی کوشش ہی نہیں کی گئی ہے۔ نہ جانے ایسا کیوں نہیں ہوا۔

حیدرآباد میں لطیف آباد بستی میں 15 ستمبر کو کراچی سے آ کر حساس اداروں نے دو مقامات پر چھاپے مارے۔ بعض لوگوں کو گرفتار کیا، ان کے قبضے سے بارود بر آمد کیا۔ ایس ایم جی (سب مشین گن) بر آمد کیں۔ غیر مصدقہ اطلاعات ہیں کہ جیکٹ بھی ملیں۔ ذرائع نے بتایا کہ گرفتار شدہ شخص کالعدم تنظیم سے تعلق رکھتا تھا۔ ان لوگوں نے اسٹیٹ ایجنٹ کے ذریعہ مکان کرایہ پر لے لیا۔ ڈیڑھ ماہ سے وہ لوگ اس گھر میں قیام پذیر تھے۔ گھر گنجان آبا دی میں واقع ہے۔ پڑوسیوں نے زحمت ہی نہیں کی کہ نئے پڑوسیوں سے ان کی خیریت ہی معلوم کر لیتے تاکہ اندازہ کر پاتے کہ کون لوگ ہیں، کہاں سے منتقل ہوئے تھے۔ حیدرآباد میں گھر حاصل کیا گیا ، رہائش اختیار کی گئی۔ پڑوسیوں نے تو کوئی معلومات حاصل نہیں کیں لیکن پولس نے بھی جاننے کی کوشش نہیں کہ کہ ان کی حد میں کون نئے لوگ رہائش اختیار کرنے آئے ہیں۔ اسٹیٹ ایجنٹ نے بھی پولس کو آگاہ نہیں کیا۔ وہ کرایہ داروں کے بارے میں پولس کو آگاہ کرنے کا پابند ہے ۔ مالک مکان نے بھی زحمت نہیں کی کہ حکومتی فیصلے کی روشنی میں پولس کو آگاہ ہی کرتا۔ مالک کو کرایہ اس کی توقع سے کہیں زیادہ ملا، اس نے مکان کرایہ پر دے دیا۔ اسے غرض نہیں کہ اس مکان میں نئے کرایہ دار اس کے شہر میں ہی موت بکھیرنے کا سامان پھیلا رہے ہیں۔ کسی بھی علاقے میں نئے کرایہ داروں کی آمد پر مالک مکان، اسٹیٹ ایجنٹ کو لازم ہے کہ پولس کو مطلع کریں ۔ حکومتوں نے تو حکم صادر کر دیا ہے لیکن عمل در آمد نہیں ہوتا ۔ یہ دیکھنا یا جائزہ لینا کس کی ذمہ داری ہے کہ حکومت کے احکامات پر کس حد تک عمل در آمد ہو رہا ہے ۔

اس تماش گاہ میں کسی بھی محکمہ یا شعبہ کو دیکھیں،افسوس ناک رائے قائم ہوگی کہ یہاں تو کوئی پوچھنے والا، دیکھنے اور نگرانی کرنے والا موجود ہی نہیں ہے۔ جو چاہو کر گزرو۔ حالانکہ ہم حالت جنگ میں ہیں۔ ہمارا پورا وجود داؤ پر لگا ہوا ہے۔ ہمارا المیہ ہے کہ حکومت بڑے سے بڑے منصوبے اور چھوٹے سے چھوٹے حکم کی مانیٹرنگ نہیں کرا پاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شائد کوئی خود کار نظام ہی موجود نہیں ہے ۔ ذمہ دار افراد اور افسران ، کن مسائل میں الجھے رہتے ہیں یا شکار ہوتے ہیں کہ دہشت گردی کا کوئی نہ کوئی واقعہ رونما ہوجاتا ہے۔ موبائل فون کی سموں کا معاملہ آج تک اپنے حتمی انجام تک نہیں پہنچایا جا سکا ہے۔ ادھورا ہی رہ گیا ہے ، سندھ میں اسلحہ لائسنس والا معاملہ ادھورا پڑا ہے۔ مدرسوں کی جانچ پڑتال مکمل نہیں ہو سکی ہے ۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو معاملات کو تن دہی سے تو دیکھنا ہی ہوگا تاکہ دہشت گردی کی اس جنگ میں ہم دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے ہر دم ہر محاذ اور ہر موقع تیار رہیں۔

مزید : کالم


loading...