حقائق

حقائق
 حقائق

  



امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی دہشت گردی سے متعلق ایک ڈیسک کے انچارج مائیکل شیور نے اپنی کتاب میں لکھا: وہ لامحدود صبر رکھتے ہیں۔ ‘‘جی ہاں! بات اس سے بھی ذراآگے کی ہے۔ وہ پلٹ کر وار کرتے ہیں۔ اور اُن کے خاتمے کا ہر یقین جھوٹا نکلتا ہے۔ پھر کیا کیا جائے؟ عسکریت پسندوں سے نمٹنے کا راستا کیا ہے؟

بڈھ بیر کے فضائی کیمپ پر عسکریت پسندوں کا حملہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ یہ ہمارے ناقص تصورات پر بھی ایک کامیاب حملہ ہے۔ اس نے حُب الوطنی کے جذباتی بیانیوں سے لے کر قومی سطح کے تمام تعصبات کو بھی عریاں کر دیا ہے۔ مگر کوئی کبوتر کی طرح اپنی آنکھیں موند رکھے تو اُنہیں کو ن بیدار کر سکتا ہے۔ بلوچ کہاوت یاد آتی ہے: آنکھ خود کے عیوب دیکھنے کے لئے اندھی ہوتی ہے۔‘‘

بڈھ بیر پشاور کے جنوب میں واقع کوہاٹ روڈ پر ایک نواحی علاقہ ہے جو مرکزی شہر سے تقریباً دس کلومیٹر دور ہے۔ حملہ آوروں نے پاک فضائیہ کے جس کیمپ کو نشانا بنایا۔ وہ پشاور سے تقریباً چھ کلومیٹر دور انقلاب شاہراہ پر واقع ہے۔ جسے 1980ء میں ایک باقاعدہ کیمپ کی شکل دی گئی۔عسکریت پسندوں نے اس کیمپ کا انتخاب کیا۔ مگر ایک مقام کے طور پر یہ کوئی چونکا دینے والا انتخاب نہیں تھا۔ ان علاقوں میں مختلف مواقع پر مختلف نوعیت کے حملے ہوتے رہے ہیں۔ ایک ایسے موقع پر جب ضربِ عضب جاری ہے پہلے سے ہی عسکریت پسندوں کے نشانے پر رہنے والے علاقے بھی زیادہ محفوظ نہیں بنایے جاسکے۔ یہ امر اس تناظر میں زیادہ تکلیف دہ ہو جاتا ہے کہ اگر دہشت گرد’’ مقام‘‘ کے طور پر چونکا دینے والے اہداف کا انتخاب کریں تو ہماری صلاحیت پر اس سے زیادہ سوالات اُٹھ سکتے ہیں۔ پھر یہ خبر’’ نامعلوم‘‘ وجوہ کی بنا پر زیادہ پذیرائی حاصل نہیں کر سکی کہ عسکریت پسندوں نے جس فضائی کیمپ کو نشانا بنایا، ٹھیک اُسی کو نشانا بنانے کی اطلاع پہلے سے موجود بھی تھی۔ اگر مقام کے تعین کے باوجود اس طرح کے حملے نہ روکے جاسکیں تو یہ زیادہ خطرناک بات بن جاتی ہے۔مقام کے انتخاب کے طور رپر ایک دوسرا پہلو بھی ہمارے غوروفکر کی صلاحیت پر سوال اُٹھاتا ہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے جاری آپریشن ضربِ عضب میں فضائیہ کا کر دار انتہائی اہم ہو چکا ہے۔ اور یہ خصوصی طور پر عسکریت پسندوں کے لیے پریشانی کا باعث بنا ہے۔چنانچہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے پیشگی تدابیر کے ضروری فہم کا یہ ایک بنیادی نُکتہ ہونا چاہیے تھا کہ عسکریت پسند اپنے اہداف کی ترتیب میں کیا ترجیحات رکھتے ہوں گے؟ ابھی کچھ دن پہلے ہی وادئ شوال میں فضائی حملوں میں کامیابی کی خبریں باربار چلائی جارہی تھیں۔ افسوس اس ضمن میں ہمارا پیشگی تدابیر کا فہم بھی ناقص رہا۔

اس حوالے سے ایک دوسری بات اس سے بھی کہیں زیادہ اہم ہے کہ پاک فوج کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف نے چند دن پیشتر ہی قوم کو یہ نوید سنائی تھی کہ ضربِ عضب کامیابی کے ساتھ اب اپنے فیصلہ کن موڑ میں داخل ہو چکا ہے۔ اور اب عسکریت پسندوں سے خالی کرایے گیے علاقے کبھی بھی اُن کے زیر قبضہ نہیں آنے دیے جائیں گے۔ وہ جس جراحت (آپریشن) میں کامیابی کی نوید سنا رہے تھے ، بڈھ بیر کا واقعہ اس کے بالکل برعکس تاثر پیدا کرنے کا باعث بنا۔عسکریت پسندوں نے اس طرح اپنی مرضی کاوقت منتخب کرکے ہمارے تصورات کی قائمہ صورتوں کو نشانا بنایا۔ اس اعتبار سے مزید سوچا جائے تو ہماری قومی استعداد کی ایک برعکس تصویر اُبھرتی ہے جو زیادہ خوش کن نہیں۔

کیایہ ایک خطرناک احتساب کا موضوع نہیں کہ عسکریت پسند اکثر اپنے اہداف کا تعین اور اُس کے لیے طریقہ کار میں یکساں ہوتے ہوئے بھی ہمارے پیشگی اقدامات کی گرفت میں نہیں آپاتے۔ عسکریت پسند ’’جیسا دیس ویسا بھیس‘‘ کے اُصول پر کارروائیاں کرتے ہیں۔ اور تقریباً تمام فوجی تنصیبات پر حملوں میں وہ ہدف کے مطابق وہاں رائج وردی استعمال کرتے ہیں۔ فوجی اداروں میں وردیوں کا معاملہ نہایت حساس ہوتا ہے۔ اور یہ مجاز اداروں کے علاوہ مارکیٹ میں عام طور پر فروخت نہیں ہو سکتیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر دہشت گرد تقریباً تمام اہداف میں یہ وردیاں کیسے بآسانی حاصل کر لیتے ہیں؟ اس ضمن میں ایک بیرونِ صندوق (آوٹ آف باکس) حل بھی تلاش کیا جا سکتا ہے۔ مگر ہمارے ادارے اس پر ابھی تک سوچ بچار سے کترا کیوں رہے ہیں؟اس کے علاوہ عسکریت پسندوں کے پاس ضرورت کے عین مطابق ہر جگہ ایک ہی طرح کے ہتھیاروں کی دستیابی بھی کئی طرح کے سوالات اُٹھاتی ہیں مگر ایک قومی سطح پر پھیلایے جانے والے تاثر کا فوری جواب بھی دیتی ہے کہ عسکریت پسندوں سے تمام علاقے خالی کرا لئے گئے ہیں۔ عسکریت پسندوں کی طرف سے ایک جگہ سے دوسری جگہ آسانی سے نقل وحرکت کی بات تو قابلِ فہم ہو سکتی ہے مگر اتنی ہی آسانی سے وہ اپنے ہتھیار بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ لا اور لے جاسکتے ہوں، یہ کچھ قابلِ فہم بات نہیں لگتی۔ یقیناًعسکریت پسندوں کے پاس ہتھیار کی فراہمی کا ایک ایسا محفوظ اور مناسب بندوبست موجود ہے جو ہمارے اندازوں سے زیادہ محفوظ اور مختلف ہیں۔ مگر اس حوالے سے مزید غوروفکر کے نتائج ہمارے پاس نہیں ہیں۔

عسکریت پسندوں کے بارے میں مبالغہ آمیز دعوے کوئی دانشمندانہ روش نہیں، بلکہ یہ قومی کارکردگی کے حوالے سے مایوسی پیدا کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اور عوامی سطح پر پھر اُن دعووں کی روشنی میں ہی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتاہے۔ اس ضمن میں کچھ ٹھوس حقائق کا دیانت دارانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ عسکریت پسندی اب کو ئی مقامی مسئلہ نہیں رہا۔ یہ ایک عالمی نوعیت کی معلوم لہر ہے۔ دراصل جدید ریاستوں میں اجتماعیت کی نہاد طاقت اور بے طاقتی کے عملی فلسفے پر رکھی گئی ہے۔ جس پر دنیابھر میں غوروفکر کیا جارہا ہے۔ عسکریت پسندی کے جائزے کی فلسفیانہ بنیادیں طے ہورہی ہیں اور یہ اب کم وبیش تسلیم کیا جانے لگا ہے کہ اس کے مکمل خاتمے کے لیے اب تک قائم ریاستی اور بین الریاستی تصورات ناکافی اور غیر تسلی بخش ہیں۔ اس کاجائزہ اب ایک دوسرے پیمانے سے لیا جا رہا ہے جس میں جدید ریاست کو اس سے’’ نباہ ‘‘کرنے کے نیے طریقوں کی مناسب تفہیم درکار ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ دنیا جب اس بارے میں مختلف نتائج تک پہنچنے کے قریب ہے اور نئے طریقوں کا جائزہ لے رہی ہیں تو ہم پُرانے اور ناکام طریقوں پر اپنی کامیابی کے دعوے کیے جارہے ہیں۔

دنیا بتدریج اس فہم کو پارہی ہے کہ عسکریت پسندی کا خاتمہ جدید ریاستوں کے موجودہ ڈھانچوں میں بہت بڑے بدلاؤ کا تقاضا کر رہا ہے۔ اس کے بغیر ہماری کوششیں رائیگاں رہیں گی۔ اور عسکریت پسند وقفوں وقفوں سے قومی زندگی کو ناہموار کرتے رہیں گے۔ اُن کے لامحدود صبر کا ایک مطلب یہ بھی ہے وہ ہماری غفلت کے بارے میں بھی ہم سے بہتر اندازے لگاتے ہیں۔ اور اُن کے خاتمے کے دعووں کا جائزہ تو اس امر سے لیا جاسکتا ہے کہ جو لوگ بڈھ بیر کے فضائی کیمپ پر حملے کے مرتکب ہیں اُن میں سے جتنوں کی بھی اب تک شناخت ہوئی ہیں ، اُس کی تفصیلات سرکاری موقف کو بھک سے اڑا ددیتی ہے۔ اب تک حملے میں باور کئے گئے 14 عسکریت پسندوں میں سے جن پانچ کی شناخت ہوئی ہیں اُن میں 19 برس سے 27 برس تک کے نوجوان شامل ہیں اور وہ پاکستانی شناختی کارڈ بھی رکھتے تھے۔جب آپ ہر کارروائی میں روز ایسے لوگوں کے چہرے دیکھتے ہوں جنہیں پچھلی کارروائیوں میں نہ دیکھا ہو تو پھر سنجیدگی سے اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آخر انہیں یہ لوگ میسر’’ کیوں ‘‘آجاتے ہیں؟ اس کے بجائے ہم اس پر غور کرتے رہتے ہیں کہ انہیں یہ لوگ میسر’’ کہاں‘‘ سے آتے ہیں؟ پہلے سوال پر غور کریں گے تو وہ ہمیں اسباب پر پہنچائے گا اوردوسرے سوال پر غور کریں گے تو یہ ہمیں کچھ گھروں تک پہنچائے گا جو ہر بار بدل جاتے ہیں ۔ اور کسی بار بھی فائدہ نہیں پہنچاتے !۔۔۔جبکہ ’’وہ‘‘ اپنے لامحدودصبر کے ساتھ اپنے خاتمے کا ہر یقین جھوٹا ثابت کر دیتے ہیں۔

مزید : کالم