بھارت تیسرا طیارہ بردار کیوں بنا رہا ہے؟

بھارت تیسرا طیارہ بردار کیوں بنا رہا ہے؟
بھارت تیسرا طیارہ بردار کیوں بنا رہا ہے؟

  



اس خبر میں اب کوئی تازہ پن نہیں رہا کہ امریکہ نے اپنی وزارتِ دفاع (پینٹاگون) میں ہمارے ہمسائے بھارت کے لئے ایک سپیشل محکمہ کھول دیا ہے۔ یہ اعزاز آج تک کسی اور ملک کے نصیب میں نہیں ہوا اور انڈیا وہ پہلا ملک بن گیا ہے، جس کے لئے امریکہ کے دفاعی ناخداؤں نے انڈین نیوی کو ایک بلیوواٹر نیوی بنانے کے لئے دفاعی پروڈکشن کے اپنے اداروں کے گیٹ کھول دیئے ہیں۔ ہفتہ بھر پہلے کی اس خبر میں اہلِ ہند کو یہ نوید بھی سنائی گئی ہے کہ پینٹاگون کے اس خصوصی سیل میں بھارت کے لئے جدید ترین اسلحہ جات کی پروڈکشن کے لئے معمول کے ٹائم شیڈول کی پاسداری نہیں کی جائے گی۔ جو کام برسوں میں تکمیل پاتے تھے وہ اب ہفتوں بلکہ دنوں میں مکمل کر لئے جایا کریں گے۔ بھارت کے اسلحہ سازوں کو ٹریننگ دی جائے گی کہ وہ اپنے ہاں جا کر جدید اور ہائی ٹیک ملٹری ہتھیاروں کی پیداوار تیزتر کردیں۔ اسی برس کے اوائل میں جب صدر اوباما انڈیا تشریف لے گئے تھے تو بھارت نے تو اپنے ہاں اسی وقت ہی یہ سیل قائم کر دیا تھا جس کا نام Rapid Re-action Cellرکھا تھا جبکہ امریکہ نے اب اس نئے سیل کو اپنے ہاں قائم کرکے ایک نائب وزیر دفاع Keith Webster کو اس کا انچارج بنا دیا ہے۔ امریکی وزارتِ دفاع میں قائم اس نئے سیل کا نام ’’انڈیا ریپڈ ری ایکشن سیل‘‘ رکھا گیا ہے۔ امریکہ کے سات دفاعی ماہرین اس نئے سیل میں بھارت کے ساتھ مل کر دفاعی تعاون کے جن منصوبوں پر کام کررہے ہیں ان کی تعداد ویسے تو کُل ملا کر 25بنتی ہے لیکن چار منصوبے ایسے ہیں جن کی تحقیق اور پروڈکشن کو اولیت دی جا رہی ہے۔ ان میں (1) ڈرونوں کی جدید ترین نسل (2) سی۔ 130 طیاروں میں ریکی کرنے کے نئے آلات کی تنصیب (3) مختلف اسلحی مشینوں کے لئے پاور مہیاکرنے کی جدید بیٹریاں ۔۔۔اور (4) سولجرز کے لئے جوہری حملوں کے دوران خود کو محفوظ رکھنے کے لئے سپیشل لباس شامل ہیں۔

کہا گیا ہے کہ بھارتی وزیر دفاع منوہر پریکر جلد ہی امریکہ کا دورہ کریں گے اور نریندر مودی بھی جب ستمبر کے اواخر میں اقوام متحدہ سے خطاب کے لئے نیویارک جائیں گے تو وہاں صدر اوباما سے ملاقات میں اس موضوع پر بھی تفصیلی گفتگو کریں گے۔ امریکی نائب وزیر دفاع مسٹر Webster نے انڈیا کی نیوز ایجنسی (پریس ٹرسٹ آف انڈیا) کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک نیوز بریک کی ہے۔ یہ کالم ، میں اپنے قارئین کو اسی خبر کے مالہ وماعلیہ کے بارے میں کچھ آگہی دینے کے لئے لکھ رہا ہوں۔۔۔جنابِ Websterنے اس انٹرویو میں یہ انکشاف کیا ہے کہ : ’’امریکہ اور بھارت دونوں مل کر اگلی نسل کے طیارہ بردار کو بھارت میں تیار کرنے کے موضوع پر مذاکرات کریں گے۔ یہ طیارہ بردار جب تیار ہو جائے گا تو بھارت کے نیلے پانیوں کے بحریہ کی پروفیشنل کارکردگی میں ایک انقلابی تبدیلی کا باعث ہوگا!‘‘

قارئین اس بات سے تو کچھ نہ کچھ آگاہ ہیں کہ ’’بلیوواٹر نیوی‘‘ کس نیوی کو کہا جاتا ہے، لیکن اس بات سے شائدکم آگاہ ہوں گے کہ امریکہ اگر یہ ٹیکنالوجیکل استعداد بھارت کو فراہم کررہا ہے تو اس کا اصل فائدہ انڈیا کو نہیں خود امریکہ کو ہوگا۔۔۔ باالفاظ دیگر امریکہ نے اپنی وزارت دفاع میں انڈیا کے لئے یہ خصوصی سیل انڈیا کے لئے نہیں، اپنے لئے قائم کیا ہے جس میں بھارتی بحریہ کے تولید کاروں (Producers) کو طیارہ بردار بحری جہاز کی ’’جلد‘‘ پروڈکشن سے متعلق فنی امور کی ٹریننگ دی جائے گی ۔اور دوسرے متعلقہ شعبوں میں بھی ان کی مدد کی جائے گی۔۔۔سوال یہ ہے کہ امریکہ کو یکایک اس ’’جلدی‘‘ کی کیا ضرورت آن پڑی ہے؟۔۔۔اور بھارت جیسے ملک کی کثیر التعداد آرمی اور ائر فورس کو پسِ پشت ڈال کر اس کی کم تعداد نیوی کو اولیت دینے کی کیا تُک بنتی ہے ؟۔۔۔اور جدید نسل کے ڈرونوں، سی۔130 جیسے طیاروں میں ریکی اور سروے لینس آلات کی نئی جنریشن کی تنصیب اور بھارتی سولجرز کے لئے جوہری حملوں سے بچاؤ کے لئے جدید لباس/ وردی کی تیاریوں جیسے منصوبوں کو باقی دفاعی شعبوں پر فوقیت دینے کے پیچھے کیا حکمت عملی کارفرما ہے ۔تو اس کا واحد جواب یہ ہے کہ امریکہ، بھارت کو چین کے خلاف اپنے ’’فاروڈ مورچے‘‘ کے طور پر تیار کرنا چاہتا ہے۔

امریکہ کی یہ لَت پرانی ہے!

آپ کو یاد ہوگا امریکہ نے قیامِ پاکستان کے فوراً بعد 1950ء کے عشرے کے اوائل میں ہمارے ساتھ بھی ان نوازشات کے مماثل ’’حسنِ سلوک‘‘ ۔۔۔کیا تھا۔ہمیں سیٹو اور سنٹو کا ممبر بنایا گیا، ساڑھے چار ڈویژن فوج کھڑی کرنے کا خرچہ دیا گیا، ان ڈویژنوں کے اسلحہ جات بھی فراہم کئے گئے، ایک آمرڈ ڈویژن کے لئے کھاریاں کی نئی چھاؤنی اپنے خرچے سے تعمیر کرکے دی، پٹین ٹینک اور جدید توپخانہ دیا، ہمارے افسروں کو اپنے ہاں اپنے تدریسی اداروں میں تربیت دی، انڈیا سے بہتر طیارے فراہم کئے، ہماری ایس ایس جی کی تشکیل اور ٹریننگ کی ۔۔۔اور اس کے بعد فرمایا کہ پاکستانی افواج کا مشن اپنے ہمسائے انڈیا کے ساتھ لڑنا نہیں، بلکہ سوویٹ یونین کے پھیلاؤ کے خلاف ایک ہلالی حصار بنانا ہے جو ترکی سے ایران، پاکستان، فلپائن اور جنوبی کوریا تک پھیلا ہوگا۔۔۔ لیکن جب انڈیا نے کشمیر کو غصب کرنے کا فیصلہ کر لیا اور 1965ء میں پاکستان نے آپریشن جبرالٹر کے نام سے بھارت کو یہ پیغام دیا کہ کشمیر کو آسانی سے ہڑپ نہیں کیا جا سکتا تو امریکہ نے فوراً ہماری عسکری امداد بندکر دی۔۔۔ گولہ بارود نہ ہو اور جنگ میں ضائع شدہ ہتھیاروں کی جگہ نئے ہتھیار فراہم نہ ہوں تو فوج کیسے لڑ سکتی ہے؟ ۔۔۔چنانچہ صرف 17دنوں میں ہم فارغ ہو کر بیٹھ گئے۔

پھر 1980ء کی دہائی یاد کیجئے۔ وہ سوویت یونین جو 1950ء کے عشرے میں بحیرۂ عرب کی طرف نہیں آ سکا تھا وہ 25،30برس بعد بصد سازوسامان آن دھمکا۔ پھر یہ ہوا کہ امریکی اربابِ اختیار نے پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی پتھر (Corner Stone) ڈکلیئرکر دیا اور یہاں تک فرمایاکہ پاکستان، ناٹو سے باہر، ہمارا پسندیدہ ترین ملک ہے۔اس کرم گستری کا نتیجہ یہ نکلا کہ جو کام امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے 40برس تک (1950ء تا 1980ء) نہ ہو سکا وہ پاکستان نے افغان مجاہدین سے مل کر ایک آدھ عشرے میں مکمل کر دیا۔۔۔ سوویٹ یونین ٹوٹ پھوڑ کر بکھر گیا اور صرف رشین فیڈریشن بن کے رہ گیا!۔۔۔ دنیا کی دوسری سپرپاور کا اعزاز اس سے چھن گیا اور وہ ممالک جو 1990ء سے پہلے سوویت یونین کے زیرنگیں اور کاسہ لیس تھے ان میں سے بہت سے اس کے بدترین دشمن بن گئے!

پھر نئی ہزاری شروع ہوئی تو حالات نے گلوبل توازنِ اقتدار درہم برہم کر دیا۔ کسی کو امیدنہ تھی کہ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد ایک ایسا ملک اس کی جگہ لے لے گا جو نصف صدی پہلے تک ’’گراں خواب‘‘ افیونیوں کا دیس کہلاتا تھا۔ ہم نے اسی ماہ ستمبر 2015ء کے اوائل میں بیجنگ میں چینی عسکری قوت کا جو مظاہرہ دیکھا، اس نے یقیناًامریکیوں کو بوکھلا کے رکھ دیا ہے۔۔۔ امریکی ،انڈیا سے بھی وہی گیم کھیلنا چاہتے ہیں جو پاکستان سے گزشتہ نصف صدی میں دوبار کھیل چکے ہیں۔

لیکن مجھے یہ بھی یقین ہے کہ بھارتی افواج کے سینئر آفیسرز اتنے بدھو نہیں کہ ان کو ماضی میں پاک امریکہ تعلقات کی ’’گرم جوشی‘‘ کا عرفان حاصل نہیں۔ وہ امریکہ کی خود غرضی اور سیماب صفتی کے شربت فولاد کو بین الاقوامی سیاسیات کی باریک آہنی چھلنی سے گزارتے ہیں تو ان کا گلاس گدلے پانی سے بھر جاتا ہے۔ میری سوچ یہ ہے کہ بھارتیوں کا سٹرٹیجک مقصد یہ ہے کہ پاکستان اور چین کی دشمنی کا لبادہ اوڑھ کر امریکہ سے عسکری ٹیکنالوجی کی وہ است و بود حاصل کر لی جائے جو بھارت کے عسکری تولیدی اداروں کو اب تک حاصل نہیں ہو سکی۔ ان کے (Defencee Research and Development Organisation کی ناکامیوں کی ایک لمبی چوڑی فہرست ہے جو قارئین انٹرنیٹ پر جا کر دیکھ سکتے ہیں۔ ان کا ’’تیجا‘‘ طیارہ، ’’ارجن‘‘ ٹینک اور ’’دھرو‘‘ ہیلی کاپٹر، کئی عشرے گزرنے کے بعد بھی وہیں کے وہیں کھڑے ہیں جہاں تھے۔ بھارتی افواج کی عددی کثرت اور بھاری ہتھیاروں کے انبار ایک طرف، عصرِ حاضر میں ہائی ٹیک اسلحہ جات کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا ثبوت اگر کسی کو مقصود ہو تو عرب اسرائیل کی چار جنگوں (1948ء ،1956ء ، 1967ء اور 1973ء) میں دیکھا جا سکتا ہے۔

بھارت کے پاس دو طیارہ بردار تو پہلے ہی سے موجود ہیں( ویرات اور بکرماجیت)۔ یہ تیسرا طیارہ بردار ہوگا جو بھارت میں بنایا جائے گا۔ پہلے دو کے دھانچے (Hull) سیکنڈ ہینڈ ہیں اور ان کو اوور ہال (Refurbish)کرکے انڈین نیوی میں شامل کیا گیا ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ آبنائے ملاکا سے آبنائے ہرمز تک اس چینی بحری ٹریفک میں مداخلت (Interdiction) کر سکے جو اگلے پانچ سات برسوں میں پاک چین اقتصادی راہداری کی تکمیل کے بعد ایک معمول بن جائے گا۔ یہ بحری ٹریفک چین کی اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کی عسکری قوت میں بھی اضافہ کرے گا۔ سب سے بڑا فائدہ چین کو یہ ہوگا کہ وہ اس تجربے سے اس امریکی بحری برتری کو چیلنج کر سکے گا جو آج اسے دنیا کے تینوں بڑے سمندروں (بحرالکاہل، بحراوقیانوس اور بحر ہند) میں حاصل ہے۔آج امریکہ کے پاس گیارہ طیارہ بردار ہیں۔۔۔

طیارہ بردار صرف ایک جہاز نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ کئی آبدوزیں ،کروزر، فریگیٹ اور ڈسٹرائر ہوتے ہیں جو اس کی حفاظت کرتے ہیں۔آج کسی بھی کیرئر گروپ کو چونکہ اصل خطرہ میزائلوں سے ہے اس لئے ہر کیرئیر گروپ (طیارہ بردار بردار کو پہلے کیرئر بیٹل شپ گروپ کہا جاتا تھا، آج کل اس کو صرف ’’کیرئیر گروپ‘‘ کہا جاتا ہے) کے ساتھ میزائل شکن فریگیٹوں کا ایک سکواڈرن (کم از کم دو بحری جنگی جہاز) ہوتا ہے۔ جن ممالک کے پاس آج بلیوواٹر نیوی ہے ان میں امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس شامل ہیں۔ گرین واٹر نیوی اور براؤن واٹر نیوی بھی جدید بحری اصطلاحیں بن چکی ہیں۔ وہ ملک جو اپنے علاقائی سمندر میں اپنے بحری جہازوں کو آپریٹ کرنے کے قابل ہو، اس کی بحریہ کو گرین واٹر بحریہ کہا جاتا ہے اور ایسا ملک جو اپنے دریاؤں میں چھوٹے بحری جنگی جہازوں کے آپریشن کر سکے، اس کی نیوی کو براؤن واٹرنیوی کہاجاتا ہے۔

ہمارے پریس میڈیا میں بحری آپریشنوں پر جو مضامین شائع ہوتے ہیں یا ای (E) میڈیا پر جو مواد آن ائر کیا جاتا ہے، وہ افسوسناک حد تک کم ہے بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس طرف توجہ دیں۔ مثلاً یہ بحث کہ پاکستان نیوی کو آئندہ برسوں میں کہ جب گوادر بیس (Base) پوری طرح فنکشنل ہو جائے گی کیا کیا فوائد حاصل ہوں گے اور (ساتھ ہی) کیا کیا چیلنج درپیش ہوں گے، ہم انڈیا کے بلیوواٹر نیوی بن جانے سے کس حد تک متاثر ہوں گے، امریکی بحریہ کا بحرہند میں عمل دخل کتنا بڑھ جائے گا، امریکہ کی ڈیگوگارشیا بیس کی اہمیت اب کیا ہے اور تب کیا ہو جائے گی، امریکہ کی آئندہ نیول ڈیپلائے منٹ کیا ہوگی اور پاکستانی بحری تجارت پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔۔۔ ان سارے موضوعات پر میڈیا پر ٹاک شوز/مضامین / کالم آنے چاہیں۔ یوں لگتا ہے ہمارا میڈیا صرف لوکل میڈیا ہے۔ ہر روز لوکل مسائل و موضوعات زیر بحث لائے جاتے ہیں اور مستقبل میں نہیں جھانکا جاتا۔ جہاں ہمارا میڈیا جاری ہفتے کو موضوع سخن بناتاہے وہاں جدید ممالک آنے والے عشروں پر بحث و مباحثہ کرتے نہیں تھکتے!

مزید : کالم