گیٹس برگ میں ابراہم لنکن سے ملاقات

گیٹس برگ میں ابراہم لنکن سے ملاقات

  



(گزشتہ سے پیوستہ)

امریکہ کے صدر مقام کی ایک جھلک دکھانے کے بعد مسرور نے وہ جگہ بھی دکھائی ،جہاں تقریباً ڈیڑھ سو سال قبل سیاہ فاموں کو غلام رکھنے کی مخالف اور حامی ریاستوں کے درمیان ایک اہم جنگ لڑی گئی تھی، جس میں غلامی کی حامی قوتوں کو جو دو سال سے فتوحات حاصل کر رہی تھیں، پسپا ہونا پڑا تھا اور اس کے بعد وہ 1865ء میں ہتھیار ڈالنے تک قدم نہیں جما پائی تھیں۔ اس فیصلہ کن جنگ کے نتیجے میں ہی غلامی سے پاک، انسانوں کی برابری پر یقین رکھنے والے موجودہ جمہوری امریکہ کا قیام ممکن ہوا،جس میں آزادی اظہار سمیت ہر شخص کے اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کے حق کو آئینی ضمانت دی گئی ہے۔ بصورت دیگر امریکی ریاستیں آپس میں لڑ لڑ کر ہی اگر ختم نہیں ہوتیں تو انتہائی کمزور ضرور ہو جاتیں۔ فریڈرک شہر سے ریاست پنسلوینیا (Pennsylvania) میں واقع گیٹس برگ (Gettys Burg) کے مقام تک فاصلہ اگرچہ چھتیس میل ہے، لیکن وہاں تک پہنچنے میں ایک گھنٹہ اس لئے لگ گیا کہ راستے میں ہم ایک فارم پر بغیر کیمیائی کھاد کے اُگائی گئی سبزیاں اور پھل خریدنے کے لئے رُک گئے تھے۔پھلوں میں کیمیائی کھاد کے استعمال کے خلاف چلائی گئی عورتوں کی تحریک کے نتیجے میں اب یہاں بغیر کیمیائی کھاد کے لگائی جانے والی اجناس پھلوں اور سبزیوں وغیرہ کے استعمال کا رواج عام ہوتا جا رہا ہے جو اگرچہ نسبتاً مہنگی ہوتی ہیں، لیکن جو بھی استطاعت رکھتا ہے، ان کے استعمال کو ترجیح دیتا ہے۔

پاکستان میں بھی بغیر کیمیائی کھاد کے پھل اور سبزیاں اُگائی جاتی ہیں لیکن ان کی پیداواراور سپلائی بہت محدود ہے۔ کیمیائی کھاد کے استعمال کے خلاف آگاہی بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ گیٹس برگ میں جنگ کی یاد میں بنائے گئے میموریل میں سب سے زیادہ پرکشش مجھے ابراہم لنکن کا وہ مجسمہ لگا،جس میں انہیں میموریل سے باہر ایک بنچ پر بیٹھا دکھایا گیا ہے۔ بے اختیاری میں لنکن کے ساتھ بیٹھ کر تصویرکھنچوائی، جو فیس بک پر ڈالی تو سب نے بے حد پسند کی۔ ایک مہربان نے تصویر پر تبصرے میں تو یہ بھی لکھا کہ اتنے قریب بیٹھے تھے تو راز کی بات ہی پوچھ لیتے۔ اب میں ان کو کیا بتاتا کہ مَیں نے پہلے ہی پوچھ لیا تھا جس پر انہوں نے کہا تھا کہ اس جیسی ایک جنگ آج کل تم بھی تو لڑ رہے ہو، جس میں پاکستان کے شاندار مستقبل کا فیصلہ اس بنا پر کیا جا رہا ہے کہ بابائے قوم محمد علی جناح نے جو ملک تشکیل دیا تھا، وہ ایک جمہوری ملک تھا اور اس میں مذہبی جنونیت کی کوئی گنجائش نہیں۔ جب مَیں نے پوچھا کہ یہ تقابل آپ کس بنا پر کررہے ہیں تو کہنے لگے کہ میری گیٹس برگ کی مشہور زمانہ تقریر پڑھ لو جو تمہیں میرے نام کے ساتھ انٹرنیٹ پر بھی مل جائے گی۔ یہ وہی تقریر ہے ، جس سے ’’عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے، عوام کے لئے‘‘ کا تاریخی نعرہ نکلا تھا۔ مَیں نے فوراً انٹرنیٹ کا بٹن دبایا۔

19نومبر 1863ء کو کی جانے والی مختصر سی تقریر میں جو خاص خاص باتیں سمجھ میں آئیں وہ یوں تھیں: ’’ستاسی سال قبل (1776ء میں ) ہمارے آباؤ اجداد نے یہ ملک اس بنیاد پر حاصل کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو برابر پیدا کیا ہے اور ہر شخص کو مکمل آزادی اظہار سمیت آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی مرضی سے زندگی بسر کرنے کا حق حاصل ہے‘‘۔ جنگ میں اپنی جانیں قربان کرنے والے سپاہیوں کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم ایک ایسی جنگ میں الجھے ہوئے ہیں جو ہمارے لئے اپنے نصب العین پر قائم رہنے کی آزمائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور امریکی قوم خدا کی مہربانی سے آزادی کا نیا جنم دیکھے گی اور ’’عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے، عوام کے لئے‘‘ دنیا سے ختم نہیں ہوگی۔ لنکن کی یہ تقریر اس قدر تاریخی اہمیت کی حامل تھی کہ اس کی گونج آج بھی دنیا بھر کے ایوانوں میں سنائی دیتی ہے۔ یکم جولائی سے تین جولائی 1863ء تک لڑی جانے والی اس خونریز جنگ میں اکیاون ہزار فوجی مارے گئے تھے، جبکہ 1861ء سے 1865ء تک جاری رہنے والی خانہ جنگی میں 6لاکھ سے زائد فوجی مارے گئے۔ اس خانہ جنگی کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب نومبر1860ء میں امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ابراہم لنکن صدر منتخب ہوگئے ،جس کا مطلب تھا امریکہ سے غلامی کا خاتمہ، کیونکہ ان کی ری پبلکن پارٹی اس نعرے پر انتخابات جیتی تھی۔

یہ صورت حال دیکھ کر امریکہ کے جنوب میں واقع سات ریاستوں نے جن کا دارو مدار زراعت پر تھا اور جن کے لئے غلام کھیتی باڑی کی مشینوں کی حیثیت رکھتے تھے۔ مرکز سے علیحدگی کا اعلان کر دیا اور اپنی کنفیڈریشن بنا ڈالی، جس کی بنا پر ان ریاستوں کوکنفیڈریٹس کہا جانے لگا۔ علیحدگی کی ابتدا ساؤتھ کیرولینا نے کی تھی، جس کے ساتھ پہلے مرحلے میں ٹیکساس، فلوریڈا، الاباما، جورجیا میسیسپی اور لوئی زینیا شامل ہو گئیں، جبکہ دوسرے مرحلے میں نارتھ کیرولینا، ارکنساس اور ورجینیا بھی ساتھ مل گئیں۔ باغی ریاستوں کو ابتدا میں کامیابیاں حاصل ہوئیں، لیکن بعد میں فوجی شکستوں کے علاوہ شکستہ مالی حالات سمیت دیگر بہت سی وجوہات کی بنا پر انہیں ہتھیار ڈالنے پڑے۔ گیٹس برگ میں فیصلہ کن جنگ کی یاد تازہ کرنے کے لئے ’’سروراما‘‘ (Cirorama) کے نام سے ایک وسیع وعریض نصف کرہ نما بنایا گیا ہے جس میں چاروں طرف تصویروں کے ذریعے میدان جنگ کا منطر پیش کیا گیا ہے، جس میں روشنی اور آواز کے امتزاج کے ذریعے سے جان ڈال دی جاتی ہے اور سچ مچ کی جنگ کا کچھ ایسا تاثر بنتا ہے کہ توپوں کی گھن گرج سے دل دہلے جاتے ہیں۔

یہ ایک متاثر کن تجربہ تھا، جس سے گزرنے کے بعد ہم نے اصلی میدان جنگ بھی دیکھا،جسے یادگار کے طور پر محفوظ کر لیاگیا ہے۔ اسے دیکھ کر انداز ہوتا ہے کہ جنگ کتنے بڑے علاقے میں اور کیسے لڑی گئی ہوگی۔ بڑے پیمانے پر خانہ جنگی کے ایک مرحلے سے تو ہم بھی تینتالیس سال پہلے گزر چکے ہیں، جبکہ دوسری خانہ جنگی سے آج کل گزر رہے ہیں۔ پہلی جنگ کی کوئی یادگار ہم نے اس لئے قائم نہیں کی کہ اس کے نتیجے میں ملک دو ٹکڑے ہو گیا تھا۔ حالانکہ اس کی یاد میں کم از کم ایک ’’دیوار ندامت‘‘ تو بنانی چاہیے تھی جو ہمیں اپنی ان کوتاہیوں کا احساس دلاتی رہتی، جن کے باعث ہم نے دنیا میں مسلمانوں کی سب سے بڑی مملکت ہونے کا اعزاز کھو دیا او ریہ بھی یاد رکھنے کے لئے کہ ہمارے ہمسائے نے کس طرح ہمارے آپس کے جھگڑے سے فائدہ اٹھا کر ایک ملک کو دو بنانے میں کردار ادا کیا۔

16دسمبرہی کے حوالے سے دوسری خانہ جنگی کی یادگار کے طور پر آرمی پبلک سکول پشاور کے اس حصے کو چنا جا سکتا ہے، جہاں مذہب کے نام پر جنونیوں نے معصوم بچوں کا قتل عام کیا تھا، لیکن اس سے قوم کے حوصلے پست ہونے کے بجائے مضبوط ہوئے تھے اور پوری قوم نے یکجا ہو کر جنونیوں کے خاتمے کا فیصلہ کیا تھا جسے ہماری مسلح افواج نے بالآخر اپنے انجام کو پہنچایا۔ آرمی پبلک سکول کو یاد گار بنائے جانے کا حق اس لئے بھی حاصل ہے کہ اس میں رونما ہونے والے اندوہناک واقعہ سے جس نے بڑے بڑوں کے دل دہلا دیئے تھے۔ سکول کے بچوں ،ان کے والدین اور اساتذہ کی ہمت نہیں ٹوٹی اور انہوں نے پوری ثابت قدمی سے تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ سچ تو یہ ہے کہ 1965ء کی جنگ اور 2005ء کے کشمیر کے زلزلے کے بعد یہ تیسرا بڑا واقعہ تھا، جس نے پوری قوم کو یک جان کر دیا(جاری ہے)

مزید : کالم


loading...