حکومت چاول بحران پر قابوپانے کے لیے فوری اقدامات کرے

حکومت چاول بحران پر قابوپانے کے لیے فوری اقدامات کرے

  



لاہور (کامرس رپورٹر) فیڈریشن آف پاکستان چیمبر زآف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی )کے ریجنل چےئرمین خواجہ ضرار کلیم کی زیر صدرارت’’رائس ملرز کے مسائل ‘‘ کے حوالے سے ریجنل آفس میں خصوصی اجلاس منعقد کیا گیا۔اس موقع پر خواجہ ضرار کلیم نے کہا کہ اگر حکومت نے چاول بحران پر قابوپانے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے تو دھان کی فصل کوڑیوں کے بھاؤ بکے گی جس سے کسان تباہ و برباد ہوگا اور ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا ۔انہوں نے مزید کہاکہ کاشت سے لیکر ایکسپورٹ تک پالیساں ترتیب دینے اور ان پر عملدآمد کرانے کیلئے حکومتی سطح پر ایک بورڈ تشکیل دیا جائے جس میں زمیندار،رائس ڈیلرز،ایکسپورٹرز،حکومتی نمائندے شامل ہوں تاکہ رائس ایکسپورٹر کے مسائل کم کئے جا سکیں۔پاکستان رائس ملز ایسوسی ایشن کے چےئرمین مختار احمد بلوچ نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کسان ریلیف پیکج میں رائس ملرز کے لئے کوئی بھی ریلیف نہیں رکھا گیا۔رائس ملوں میں موجود تقریبا 5 لاکھ ٹن سپر باسمتی چاول گوداموں میں پڑا ہے جس کا کوئی خریدار نہیں ہے۔ مختار احمد بلوچ نے مزید کہاکہ اگر ایک ہفتے کے اندر چاول مارکیٹ سے اٹھانے کیلئے اقدامات نہ کئے گئے تو پورے پاکستان کی رائس شیلر انڈسٹری غیر معینہ مدت تک بند کر دی جائے گی اورکسان اور رائس ملرز سٹرکوں پر ہوں گے اور یہ حکومت کیلئے ایک بہت بڑا چیلنچ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ فوری طور پر رائس ملوں سے پانچ لاکھ ٹن چاول سپر باسمتی پاسکو کے ذریعے خرید کرکے ایکسپورٹ کیا جائے۔ پاکستان رائس ملز ایسوسی ایشن کے وائس چےئرمین فیصل مقصود چیمہ نے کہا کہ چاول کی قیمت میں 60فی صد کمی کی وجہ سے 90فی صد رائس ملرز مالیاتی اداروں کے ڈیفالٹرہو چکے ہیں۔ پاسکوچاول کی خریداری کے لیے کوئی عملی اقدامات نہیں کر رہا جس کی وجہ سے کسان ، رائس ملرز تباہ حالی کے خطرہ سے دوچار ہیں۔

اس لئے رائس ملرز کو پچھلے دو سال کا مارک اپ ختم کر کے اصل زر میں ایڈجسٹ کیا جائے اور باقی نقصان کی آسان اقساط بنائی جائیں،کیونکہ رائس ملز کوکافی زیادہ نقصان ہو چکا ہے جس کی تلافی حکومت کی سپورٹ کے بغیر ممکن نہیں۔ایف پی سی سی آئی قائمہ کمیٹی برائے ’’رائس‘‘ کے چےئرمین چوہدری محمد یوسف نے کہا کہ رائس ڈیلر ،کاشتکار،ایکسپورٹر اور جو بھی چاول کے کاوربار سے منسلک افراد ہیں ان کے مسائل کو جاننا اور ان کے حل کیلئے کوئی مثبت لائحہ عمل طے کرنا ہوگا۔چاول کے کاوربار ست وابستہ افراد وطن عظیم کی معیشت میں نہایت اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔افغانستان کی طرح ایران سے بھی پاکستانی کرنسی میں تجارت کی اجازت دی جائے۔ اس موقع پر انعام اللہ ،محمد جمیل،راشد علی،آفتاب باجوہ،غلام مصطفی،سمیر فیاض،حاجی طاہر،ہاشم طارق، محمد حنیف اور دیگر شرکاء نے بھی اپنی اپنی تجاویز سے آگاہ کیا۔

مزید : کامرس


loading...