محافظ لٹیرے بن گئے

محافظ لٹیرے بن گئے
 محافظ لٹیرے بن گئے

  



بوڑھی عورت کا مدعا عجیب و غریب تھا جو وہ حاکم وقت کے پاس فریاد کی صورت لے کر پہنچی تھی۔ ایک خالی بوتل اس کے ہاتھ میں تھی ۔ کہنے لگی کہ تم خلیفہ وقت ہو!انصاف کرو۔ میری یہ بوتل تیل سے بھری ہوئی تھی فلاں مقام پر میں لاغر کمزور اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی اور کچھ اس طرح سے گری کہ سارا تیل زمین پر اوندھ گیا اور زمین اسے چوس گئی۔ حاکم وقت نے نہایت نرم لہجے میں کہا !تو اب تم کیا چاہتی ہو ؟ بڑھیا بولی ! مجھے زمین سے میرا تیل واپس دلاؤ ۔ حاضرین بڑھیا کے مطالبے پر حیران تو ہوئے، مگر حاکم کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے سوال کرنے کی کسی میں ہمت نہ ہوسکی ۔ بظاہر بڑھیا کا مطالبہ بڑا عجیب اور ناقابل عمل لگتا تھا، مگر حاکم اس مطالبے پر ذرا حیران نہ ہو ا، بلکہ اس نے مسکراتے ہوئے بڑھیا پر محبت کی نظر کی اور ایک خط پر چند الفاظ لکھ کر اسے تہہ کیا اور بڑھیا کو دیتے ہوئے کہا جاؤ اور اس خط کو زمین کے اس مقام پر رکھ دوجہاں اس نے تمہیں تمہارے تیل سے محروم کیا ہے۔ تمہیں تمہارا تیل واپس مل جائے گا۔اگرچہ بڑھیا کی سمجھ میں کچھ نہ آیا، مگر حاکم کا حکم تھا سو وہ خط لے کر اس مقام پر پہنچی اور اسے زمین پر رکھ دیا چند لمحوں بعد ہی زمین میں جنبش پیدا ہوئی اوروہاں سے تیل ابل پڑا بڑھیا نے اپنی بوتل بھری اور حاکم کو دعائیں دیتی ہوئی اپنے گھر کی راہ لینے کو پلٹی ہی تھی کہ دفعتاًاسے خیال آیا کہ آخر حاکم نے اس خط میں ایسا کیا لکھا تھا کہ زمین نے فوراًہی میرا تیل مجھے واپس کردیا ۔ اس نے لپک کر خط اُٹھایا اور کھول کر پڑھا تو خط میں تحریر تھا ’’اے اللہ کی زمین ! میں بحیثیت حاکم اور خلیفتہ المسلمین تجھے حکم دیتا ہوں کہ غریب بڑھیا کا تیل واپس کردے اگر تونے حکم عدولی کی تو یاد رکھ میں تیری اسی جگہ پر کسی بے نمازی کو دفن کرادوں گا‘‘۔

یہ جلیل القدر حاکم کون تھا کہ زمین بھی اس کا حکم مانتی تھی ؟یہ کوئی اور نہیں مسلمانوں کا حاکم تھا ’’ عمر بن خطابؓ ‘‘جو صدق وصفا کے امین بھی اور امن ومساوات کے نکین بھی جنہوں نے اپنے قول وفعل کی یکسانیت سے اسلامی تعلقات کے وہ چراغ روشن کئے جن کی تابندگی تا قیامت رہے گی ۔ مذکورہ بالا حکایت کے حوالے سے دواہم باتیں پیش نظر ہیں اوّل نماز کی اہمیت اور دوم حاکم وقت کا اتنا بااختیار ہونا کہ زمین بھی اس کے حکم کو نہ ٹال سکتی ہو۔اخبارات میں ظلم وستم کے بیسیوں واقعات رپورٹ ہوتے ہیں، مگر ان سے بڑھ کر ایسے ہوتے ہیں جن کا اندراج نہیں ہوتا۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اثر رسوخ رکھتے ہیں اور نہ ہی کسی سے تعلقات ہوتے ہیں۔چند دن قبل لوہار کالونی شجاع آباد کی ایک عمر رسیدہ خاتون اپنی بیٹی کے ساتھ میرے گھر آئیں تو میں نے ان کی گفتگو ریکارڈکی ۔ جنہوں نے بتایا کہ ان کانام نسرین بی بی ہے اور وہ بیوہ ہے ۔ آپ ہم لاچار اور بے بس لوگوں کی مدد فرمائیں۔ صاحب اقتدار تک ہماری دادرسی کریں ’’روزنامہ پاکستان ‘‘ کے صفحات سنجیدہ لوگوں میں خاص مقام رکھتے ہیں ۔ حق ان کا شیوہ ہے۔ یہ خاتون انصاف کی تلاش میں ہر دستیاب ذریعہ استعمال کررہی ہے۔ میرے ضمیرنے اصر ار کیا کہ اس مظلوم کی مدد کرو۔مظلوم کی مدد ہر مسلمان کافریضہ ہے، لیکن یہ فرض ان لوگوں کے لئے زیادہ موثر ہوجاتا ہے ،جن کے پاس اپنی آواز عوام اور احکام تک پہنچانے کے ذرائع موجود ہیں۔ ان کی اس داستان ظلم سے میں ان ہی کی زبان میں چیدہ چیدہ باتیں یہاں عرض کرتاہوں اس امید اور اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ اس آواز کو متعلقہ حکام تک پہنچا وے اور ان کے دلوں میں نیکی کے جذبے سے نہ سہی اس خوف سے ان کی دادر سی کردیں کہ مظلوم کی دعا بہت جلدی اللہ تعالیٰ سنتے ہیں اوراس کے نتیجے میں بہت ساری دنیا وی اور دینی آفتیں ظالم کا نصیب بن جاتی ہیں۔

وہ کہہ رہی تھیں کہ یہ یکم ۔ اگست کا دن تھا شام4بجے کے قریب تھانہ سٹی کے اے ایس آئی محمد الطاف ، محمد اعجاز ، اللہ ڈتہ ، اور محمد طاہر ہمارے گھر زبردستی گھس آئے گھر میں موجود میری ایک بیٹی اور دو بہوئیں تھیں ان سے پوچھا کہ فیصل جو میرا بڑا بیٹا ہے کہاں ہے انہوں نے کہا وہ تو گھر نہیں ہے جس پر ان پولیس والوں نے میری بیٹی اور بہوؤں پر تشدد کیا اور کہا کہ فیصل اور اس کی امی کا فون نمبر دیں۔ پولیس نے ان سے نمبر لے کر مجھے اپنے فون سے کال کے ذریعے بلوایا میں گھبرا کر گھر آئی تو دیکھا ہر طرف سامان بکھرا پڑ اہے میں نے ان پولیس والوں سے کہا کہ یہ سب کچھ کیا ہے جواب میں انہوں نے مجھ سے کہا کہ فیصل کہاں ہے اسے بلواؤ میں نے فیصل بیٹے کو فون کر کے بلوایا اور اسے کہا کہ ہمارے گھر پولیس آئی ہوئی ہے آپ فوری گھر آجاؤ۔ اس کے بعد پولیس نے تمام گھر کی تلاشی لی اور کہا کہ آپ لوگ منشیات کا دھندہ کرتے ہیں۔ ہم نے کہا کہ توبہ توبہ ہمارے گھر میں کوئی شخص یہ کام نہیں کرتا ۔پولیس والوں نے میری الماری تو ڑدی اور اس میں 30,000روپے ، 3۔تولہ سونے کی بالیاں ، 2۔عدد قمیتی موبائل یہاں تک کہ میری دوا تک لے گئے۔ میرا بیٹا گھر آرہا تھا کہ پولیس نے راستے سے اس کو پکڑا اور تھانے لے گئی۔ وہاں پولیس نے مجھے فون کرکے تھانے بلوایا اور کہا کہ 2لاکھ روپے دے دو ورنہ تمہارے بیٹے کو منشیات کے کاروبار میں ملوث کرکے بھاری منشیات کی برآمدگی کا مقدمہ درج کردیں گے میں نے بتایا کہ ہم بہت غریب لوگ ہیں میرا بیٹا ہر گز منشیات کا کاروبار نہیں کرتا ۔ میں یہ رقم کہاں سے دیتی میرے بیٹے تو رکشا چلاتے ہیں اور ان کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں گھر کے اخراجات پورے نہیں ہوتے ۔ پولیس نے میری ایک بھی نہ سنی۔

میں جب گھر واپس آئی تو پتہ چلا کہ میرے بیٹے فیصل کے خلاف ایف آر آئی درج ہوگئی ہے جس میں پولیس نے ان پر ایک کلو 120گرام وزن کی چرس ڈال دی ہے۔ اور میرا نام بھی اس ایف آئی آر میں شامل ہے ۔ میں نے عبوری ضمانت کرالی ہے۔ ہمارے خلاف من گھڑت مقدمہ درج کیا ہے۔ ہم ہر قسم کا حلف دینے کو تیار ہیں کہ پولیس نے ہمارے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کیا ہے۔ ہم برباد ہوگئے ہیں ۔ ہمارے گھر فاقے ہورہے ہیں ۔ شجاع آباد تھانہ اس وقت و حشت کی علامت بن چکا ہے ۔ پولیس نے منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن کررکھا ہے۔ جو ایک اچھا اقدام ہے ، لیکن اس کی آڑ میں چنے کے ساتھ گھن تو نہ پیسا جائے ۔ پولیس شجاع آباد کے بڑے بڑے بیوپاریوں کو پکڑا ہے۔ان سے منشیات برآمد کرکے ان کو چھوڑ دیتے ہیں اور شک کی بناپر پکڑے جانے والے اگر رشوت نہ دیں تو یہ برآمدگی ان پر ڈال دیتے ہیں یہ کتنا بڑا ظلم ہے ۔ شجاع آبا د کے شہری محسوس کرتے ہیں کہ وہ جنگل میں رہ رہے ہیں ۔پولیس نے درندوں کا روپ دھار لیا ہے۔ ظلم کی اتنی قسمیں ہیں جتنی شیطان کی تعدا د ہے۔نسرین بی بی کا گھرانہ ایک قسم کے ظلم کا شکار ہے۔ میں بڑی حیرت کے ساتھ نسرین بی بی کی گفتگو سن رہا تھا اس کا ایک ایک لفظ میرے لئے پریشانی کا باعث بن رہا تھا اس نے عجیب عجیب انکشافات کیے میں سوچ میں پڑ گیا کیا واقعی ہماری حفاظت کے ادارے اتنے بے خوف ہوچکے ہیں ؟ کیا ان کے بارے میں حکام بالا کو کچھ معلوم نہیں؟ یہ سب کچھ ان کی آنکھوں سے اوجھل ہے؟ اگر معلوم ہے تو پھر ان کے خلاف کارروائی عمل میں کیوں نہیں لائی جاتی ؟

نسرین بی بی نے آخر میں ایک ایسی بات بتائی جس سے پیروں تلے زمین نکل گئی ا س نے بتایا کہ جس دن مجھے تھانے بلوایا گیا تو پولیس تھانہ شجاع آباد کے انچارج عمردراز نے کہا کہ اگر آپ نے ہمارے خلاف آواز اٹھائی اور رقم نہ دی تو میں تمہیں اور تمہارے بیٹے کو منشیات میں ہی نہیں، بلکہ قتل جیسے مقدمہ میں بھی ڈال دوں گا میں یہ بات سن کر ہل گیا میں یہ سوچنے لگا کہ یہ لوگ اتنے نڈر ہوچکے ہیں کہ ملک کے اہم معتبر اداروں کو بھی بدنام کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔ یہ اتنے ظالم ہوچکے ہیں کہ معصوم شہریوں کے گھروں میں بھی بے خوف گھس جاتے ہیں اور چادر و چار دیواری کے تقدس کوپامال کرتے ہیں ۔ ناجائز مقدمات میں ملوث کرکے ان سے رقوم کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ مطالبہ پورا نہ ہونے پر انہیں خطرناک وارداتوں میں ملوث قرار دیتے ہیں ۔ دنیا کا کون سا ملک ہے جہاں ایسا ظلم ہوتا ہو؟ ایسا تو دور غلامی میں بھی نہ تھا اس وقت بھی انسانوں کے کچھ نہ کچھ حقوق تھے یہاں تو اندھیر نگری ہے۔ ستم بالا ستم یہ کہ سب نے آنکھیں موندھ رکھی ہیں ۔ بار بار یہ لکھا جا چکا ہے کہ پولیس کا ادارہ بے لگام ہو چکا ہے ہماری سلامتی کے اداروں کو اس طرف توجہ دینی چاہیے جو لوگ پولیس کے محکمے میں مزید خرابیاں پیدا کررہے ہیں ایسے افراد کو عبرت کا نشانہ بنانا چاہیے ۔ عدالتوں کو ایکشن لینا چاہیے ۔ ہمارے با اثر حکام اور ادارے اس طرف توجہ دیں ۔ عوام کے محافظ ہی عوام کو لوٹ رہے ہیں ۔ حضرت عمرؓ بھی ہماری طرح کے انسان تھے، مگر فرق یہ ہے کہ وہ بلا کے متقی پرہیز گار او رصادق و امین تھے اسی سبب اللہ کے مقرب بندوں میں ان کا شمار ہے۔ اگر ہمارے ذمہ دار افسران حکام رہنما بھی ویسا ہی طرز عمل ویسا ہی طرز زندگی اپنا لیں ۔ عدل وانصاف کا نظام قائم کردیں تو کوئی بعید نہیں کہ زمین ان کا حکم ماننے سے انکار نہ کرسکے ، تاہم نسرین بی بی آپ مایوس نہ ہوں آپ کی آواز سنی جارہی ہے۔ رائیگاں نہیں جائے گی وہ سمیع علیم آپ کی آواز بھی سن رہا ہے اور آ پ کی حالت زار بھی دیکھ رہا ہے۔

مزید : کالم


loading...