عمران خان اور انتخابی ضابطہ اخلاق

عمران خان اور انتخابی ضابطہ اخلاق

  



تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے الیکشن کمیشن کی طرف سے انہیں انتخابی مہم میں حصہ لینے سے روکنے کو غیر جمہوری و غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کر دیا۔انہوں نے یہ فیصلہ الیکشن کمیشن کے ضمنی انتخابات سے متعلق ضابطہ اخلاق کا نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے بعد کیا۔عمران خان نے اتوار کو تحریک انصاف کے چےئرمین سیکرٹیریٹ میں دھواں دار پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور ساتھ ہی 4اکتوبر کو الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے جلسہ کرنے کا اعلان بھی کر دیا۔انہوں نے پریس کانفرنس میں حکومتی جماعت اور الیکشن کمیشن کو آڑے ہاتھوں لیا۔وہ ضمنی انتخابات سے پہلے ہی اس بات کے’’قائل‘‘ ہوچکے ہیں کہ مسلم لیگ(ن) اور الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو ہرانے کے لئے آپس میں’ ’مک مکا‘‘ کر لیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس الیکشن کمیشن کوتو تمام سیاسی جماعتیں مستر دکرچکی ہیں،2013 ء کے عام انتخابات میں دھاندلی سے متعلق جوڈیشل کمیشن کے فیصلے میں بھی اس الیکشن کمیشن کے خلاف بے ضابطگیوں کے 40نکات دےئے گئے ، اب وہی الیکشن کمیشن دوبارہ انتخابات کرانے جا رہا ہے، اور اس کی پوری کوشش ہو گی کہ تحریک انصاف کو شکست ہو لیکن اس دفعہ الیکشن کمیشن اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو گا ۔ان کا کہنا تھا کہ ان ضمنی اور بلدیاتی انتخابات میں مسلم لیگ(ن) نے دھاندلی کی مکمل تیاری کر رکھی ہے لیکن انہوں نے بھی اپنے کارکنوں کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ ویڈ یواور تصاویر بنا کر انہیں دیں، ان کے ایک بٹن دبانے سے یہ فیس بک پر لاکھوں لوگوں تک پہنچ جائیں گی۔دھاندلی سے روکنے کے لئے پو لنگ سٹیشنوں کے باہر کیمرے بھی لگائے جائیں گے ۔انہوں نے زور دیا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکو مت زیادہ دیر نہیں چلے گی اوروہ اقتدار میں آکر دھاندلی میں ملوث پو لیس افسروں کے خلاف کارروائی کر یں گے۔یاد رہے کہ چند روز قبل انہوں نے بعض پولیس افسران پر بھی حکومتی امیدواروں کی انتخابی مہم چلانے کا الزام لگایا تھا۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے حکومت کی دانش سکول، میٹرو بس اور نندی پاور پراجیکٹ میں ’خوردبرد‘ بھی منظر عام پر لانے کا وعدہ کیا۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے5 مئی کو ضمنی انتخابات کا ضابطہ اخلاق جاری کیا تھا ، اس کے مطابق انتخابات کا شیڈول جاری ہونے کے بعد وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ، وزراء، مشیر، قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان سمیت کوئی بھیشخص کسی امیدوار کی انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکے گا۔وہ کسی قسم کے خفیہ فنڈ جاری نہیں کر سکیں گے، حلقے کے لوگوں سے کوئی وعدے نہیں کئے جائیں گے، اور کسی قسم کے ترقیاتی پیکج کا اعلان بھی نہیں کیا جائے گا۔نیز یہ تمام لوگ انتخابی شیڈول جاری ہونے کے بعد سے انتخابی نتائج آنے تک حلقے کا دورہ بھی نہیں کر سکیں گے۔

اس ضابطے کا نوٹیفیکیشن اس وقت جاری کیا گیا جب پی پی 196، این اے 108 اور پی کے56 میں ضمنی انتخابات ہونے والے تھے ۔پھر دو ماہ قبل پاکستان تحریک انصاف کے ایک وکیل نے لاہور ہائی کورٹ میں ضابطہ اخلاق کی اس شق کے خلاف درخواست دائر کر دی۔ان کا موقف تھا کہ الیکشن کمیشن کے پاس یہ اختیار موجود نہیں کہ وہ ضابطۂ اخلاق کے نام پر کسی بھی سیاسی جماعت کو غیر فعال کر دے، نہ ہی وہ سیاسی جماعت کی سیاسی سرگرمیوں پرکسی قسم کی پابندی لگا سکتا ہے۔لاہور ہائی کورٹ نے درخواست گزار سے اتفاق کرتے ہوئے فیصلہ ان کے حق میں دے دیا۔لاہور ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ 48 گھنٹے پہلے انتخابی مہم ختم کر دینے والی پابندی ہی کافی ہے ۔الیکشن کمیشن نے اس پر سپریم کورٹ کا رخ کر لیا۔سپریم کورٹ نے 8 ستمبر کو لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعد م قرار دے کروزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ، وزراء، مشیروں، قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان سمیت سرکاری عہدے داران پر انتخابی مہم میں حصہ لینے کی پابندی برقرار رکھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے 16 ستمبر 2015 کوحلقہ این اے 122 ،154 اور پی پی 147 کے ضمنی انتخابات کے لئے ضابطہ اخلاق کا نیا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا، جسے تحریک انصاف ’بد نیتی‘ قرار دے رہی ہے، حالانکہ اس کی زد برسراقتدار جماعت پر کہیں زیادہ پڑتی ہے۔

الیکشن کمیشن ضابطہ اخلاق پر سختی سے عملدرآمد کرانے پر ڈٹا ہوا ہے۔اس کا موقف تھا کہ شفاف اور آزادانہ انتخابات کا انعقاد ممکن بنانے کے لئے و زیر اعظم، وزرائے اعلیٰ، وزراء، مشیر، قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان سمیت دوسرے سرکاری عہدے دار اور سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو انتخابی مہم سے دور رکھنا بہت ضروری ہے، اس کا اطلاق تمام سیاسی جماعتوں پر ہوتا ہے اور انہیں اس کااحترام کرنا چاہئے۔دوسری طرف عمران خان نے نوٹیفکیشن کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کاارادہ کر لیا ہے۔ان کا موقف ہے کہ وہ کوئی وزیر ہیں اور نہ ہی ان کے پاس کسی قسم کا کوئی فنڈ ہے، وہ تو صرف لوگوں کو اپنی پارٹی کا منشور دے سکتے ہیں تو بھلا ان پر پابندی لگانے میں کیا مصلحت ہو سکتی ہے؟ ویسے بھی انہوں نے حلقہ این اے122 میں اپنے امیدوار علیم خان کی انتخابی مہم کا آغاز بھی خود کیا، جسے ان کے مخالفین ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی گردان رہے ہیں۔بالکل ویسے ہی جیسے حکومت کے مخالفین اس کی جانب سے پیش کئے جانے والے حالیہ کسان مراعاتی پیکج کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں ۔بہرحال اب یہ کام تو الیکشن کمیشن کا ہے ،لہٰذا اسی پر چھوڑ دینا چاہئے ، کہ خود ہی نوٹس لے اور اس بات کا فیصلہ کرے کہ ضابطۂ اخلاق کس پر نافذ کرنا ہے اور کس پر نہیں ۔بہرحال ضابطہ اخلاق تو جاری ہو چکا ہے اور ہر سیاسی جماعت پر لازم ہے کہ وہ اس کی پابندی کرے،اگر سیاسی جماعتوں کو اس سے اختلاف ہے تو آپس میں بیٹھ کر اتفاق رائے سے ترامیم پر غور کریں اور اپنی تجویز پیش کردیں۔عمران خان کو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا حق بھی حاصل ہے، لیکن خلاف ورزی کا نہیں۔پر تشدد احتجاج، تصادم اور دھینگا مشتی غیر جمہوری رویے ہیں جن سے ہر حال میں گریز کرناچاہئے ۔

مزید : اداریہ