وعدوں کی حقیقت ؟

وعدوں کی حقیقت ؟

  



ہمارے موجودہ سیاستدانوں نے عام انتخابات 2013ء کی انتخابی مہم کے دوران عوام سے جو وعدے کئے اور ان کی موجودگی میں جن بلندبانگ دعوؤوں کا اعادہ کیا اُن کو پورا کرنے میں ناکام ہو چُکے ہیں ۔ہر فرد پریشان ہے کسی کا کوئی پُرسانِ حال نہیں ۔حکمرانوں نے عوام کو لالی پاپ دیا تھا کہ اقتدار میں آکر وہ تین ماہ میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کر دیں گے لیکن اقتدار میں آنے کے بعد انھوں نے چھ ماہ پھر ایک سال اور اب 2017ء میں لوڈشیدنگ ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے جبکہ لوڈشیڈنگ کا ان حکمرانوں کے ہاتھوں ختم ہو نا مشکل نظر آرہا ہے ۔وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف جو بعد میں وزیراعظم ہو گئے ان کو عدالتوں میں رسوا کرنے کی بھر پور کوشش کی اور اُن کو راجہ رینٹل تک کا خطاب دیا گیااور ملک میں بجلی کا بُحران ختم ہونے کی بجائے طول پکڑتا گیا ۔اور اب خواجہ آصف خود اس محکمہ کے وزیر ہیں اور اُن کو لینے کے دینے پڑ رہے ہیں اور وہ عوام کا سامنا کرنے سے گھبراتے ہیں کیونکہ انھوں نے عوام سے کہا تھا کہ ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی کوئی ضرورت نہیں، بلکہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے مصنوعی لوڈشیڈنگ شروع کر رکھی ہے تا کہ عوام کو بتا یا جائے کہ ملک میں بجلی کا بحران ہے لیکن خواجہ صاحب آپ نے یہ مصنوعی لوڈ شیڈنگ ختم کرکے بحران ختم کیوں نہیں کیا بلکہ عوام تو اب ان کو خواجہ رینٹل کے نام سے یاد کرتے ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب جو اپنے آپ کو خادم اعلیٰ پنجاب بھی کہلواتے ہیں وہ اب کیوں خاموش ہیں وہ اب مینار پاکستان میں دستی پنکھے لے کرکیوں نہیں بیٹھتے۔

بہت ہی دھوم دھڑکے سے نندی پور پاور پراجیکٹ کے منصوبے کا افتتاح ہوا۔خوب پیسہ خرچ کرکے مردے میں جان ڈال کر اُ س کو کھڑا کیا گیا لیکن پھر اس کے بعد چُراغوں میں روشنی نہ رہی بلکہ دوسروں کو روشنی مہیا کرنے والا یہ منصوبہ خود روشنی کی تلاش میں مبتلا ہو گیاالبتہ اس منصوبہ پر خرچ ہونے والی رقم سے بے شمار لوگوں کے گھروں میں دیوالی اور شب برأ ت کا چراغاں ضرور ہو گیا ہو گا۔اس منصوبہ کے بند ہونے کے سلسلہ میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ کمیٹی اس مردہ بدن میں روح پھونکنے کی خاطر کو ئی لائحہ عمل اختیار کرتی ہے یا پھر وہی روایتی جان چُھڑانے کا سیاسی طریقہ ثابت ہوتی ہے۔ یہ منصوبہ مسلم لیگ (ق) کا تھا لیکن اس کو سابق نگران وزیرا عظم محمد میاں سومرو کے دورمیں27 دسمبر2007ء میں شروع کیا گیا۔اس کی ابتدائی لاگت 39ملین امریکی ڈالر تھی اور منصوبہ کی ای سی سی نے 2007ء میں اس وقت منظوری دی جب وفاقی وزارت خزانہ نے مذکورہ رقم کے قرضہ کی یقین دہانی کروائی۔لیکن یہ منصوبہ چین کی کمپنی ڈانگ فانگ الیکٹرک کارپوریشن لمیٹڈ اور ناردرن پاور جنریشن کارپوریشن لمٹیڈ کے مابین ایک معاہدہ کے بعد 29دسمبر 2008ء کو شروع ہو ا اور اس کی باقاعدہ مشینیں کراچی میں آ چُکی تھیں ۔

مزید : کالم


loading...