اُردو زبان اور آزاد اظہار

اُردو زبان اور آزاد اظہار
 اُردو زبان اور آزاد اظہار

  



یہ امر معاشرتی المیہ بن چکا ہے کہ ہم صرف وہی سچ سننا چاہتے ہیں جسے ہم جانتے ہیں یا جو ہم نے کہا ہوتا ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ پورا معاشرہ ہماری ہی ہاں میں ہاں ملائے ۔ اس ضمن میں ہمارے مزاج کے خلاف کوئی بات ہوجائے تو ہم اس قدر جذباتی ہو جاتے ہیں کہ تمیز و تہذیب کے دائرے سے باہر نکل جاتے ہیں اور اخلاقی حدود کی پامالی سے بھی باز نہیں رہتے۔ الٹے سیدھے القابات اور مخصوص طبقے کی چاپلوسی جیسے الزامات لگاکر لکھنے والے کی کردار کشی کی جاتی ہے ۔ تحریر کو صحافتی و قلمی دہشتگردی اور بددیانتی گردانا اور لکھنے والے کو ذہنی غلام قرار دیا جاتا ہے ۔ المیہ تو یہ ہے کہ بدزبانی اور بدکلامی کی حدود پھلانگتے ہوئے انہیں ذرا بھی شرمساری محسوس نہیں ہوتی ۔۔۔ عالم یہ ہے کہ سیاست ہو یا معیشت ، تعلیم ہو یا کوئی اور میدان ، جو بات ہمیں طبیعت پر گراں گزرتی ہو ، ہم جھٹ سے مسترد کردیتے ہیں ، یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اس کا نقصان آنے والی نسلوں کو بھی ہوسکتا ہے ۔ کسی کی رائے کو رد کرکے اس کی تذلیل کرنا ہمارے ہاں بہت آسان ہے جبکہ مثبت مکالمے اور تنقید ہضم کرنے کی روایت تو جیسے ناپید ہی ہوتی جارہی ہے۔ بدقسمتی سے اسی معاشرتی انتہا پسندی نے ہمیں اخلاقی ترقی سے بھی روک رکھا ہے۔ منفی ردعمل کا کلچر ہمارے ہاں پروان چڑھتا جارہا ہے اور زیادہ تر اس میں پڑھا لکھا طبقہ ملوث ہے، حالانکہ تعلیم تو ہمیں اخلاقیات کا درس دیتی ہے۔

کسی موضوع کے حق میں دلیلیں آنا یا اس کے بعض نکات پر تحفظات کا اظہار معمول کی بات ہوا کرتی ہے لیکن ہم لوگ جذبات کی رو میں بہتے ہوئے اس حد تک اخلاقی دہشت گردی کے مرتکب ہوتے ہیں کہ اپنے حق میں بات کرنے والوں کو تو پلکوں پر بٹھاتے ہیں ، جبکہ تحفظات کا اظہار کرنے والوں کو کسی بھی فورم پر معاف کرنے کو تیار نہیں ہوتے ۔۔۔ حتیٰ کہ انہیں احساس کمتری کا شکار ، قلم فروش ، غدار ، ذہنی غلام ، ٹاؤٹ ، نابالغ اور قلمی دہشتگرد ، مخصوص طبقے کا ترجمان اور نجانے کیا کیا قرار دیتے ہوئے کسی نہ کسی سیاسی جماعت سے ان کا تانا بانا بھی ملانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔

کچھ ایسا ہی ردعمل قومی زبان کے نفاذ بارے عدالتی فیصلے کے بعد آج کل بالخصوص سوشل میڈیا پر دیکھنے کو مل رہا ہے جہاں ایک مخصوص مافیا مذکورہ اشخاص کا سوشل میڈیا ٹرائل کرتے ہوئے انہیں آڑے ہاتھوں لے رہا ہے اور اخلاقی دہشتگردی کے بھی تمام ریکارڈ توڑ رہا ہے ۔۔۔ یہ لوگ اس امر سے بے نیاز تو یقیناً نہیں لیکن جان بوجھ کر اس حقیقت کو نظرانداز کررہے ہیں کہ آزادی اظہار ہر کسی کا حق ہے اور اس سے لطف اندوز ہونے کے مستحق صرف وہ اکیلے نہیں بلکہ اس ملک کی 19 کروڑ عوام بھی ہے۔ محوِ حیرت ہوں کہ نجانے قوم کے نونہالوں کی قومی زبان میں تعلیم و تربیت کی بات کرنے والے مذکورہ طرز عمل اختیار کرکے خود اپنی ہی تربیت کو مشکوک بناکر کس منہ سے دوسروں کیلئے آئینہ بننے کی کوشش کرتے ہیں ، کیونکہ یہ لوگ اردو کو شائستہ زبان تو قرار دیتے ہیں لیکن خود ناشائستگی کی بھی حد کردیتے ہیں ۔ ہمیں اسی معاشرتی رویے کو تبدیل کرنا ہے ۔

ہمیں بحیثیت انفرادی پریشر گروپ کے طور پر ابھرنے کا بہت شوق ہے ، لیکن اس ضمن میں ہم یہ امر فراموش کردیتے ہیں کہ اس میں کامیابی صرف اسی صورت میں مل سکتی ہے جب ہم خود پر ہونے والی تنقید یا خلاف توقع بات کو بھی شائستگی کے ساتھ رد کریں ۔ وگرنہ ، یہ اخلاقی کرپشن ہے جس میں کوئی ایک نہیں ، فرداً فرداً ہم سب ہی ملوث ہیں ، اور یہیں سے ہمارے رویوں کا دیوالیہ نکلتا ہے ، یہیں سے خرابی کا آغاز ہوتا ہے اور اسی دوہرے معیار کو ترک کرنے کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ یہاں آزاد کوئی ایک گروپ یا طبقہ نہیں ، بلکہ اس ملک کے 19 کروڑ عوام بھی ہیں ۔ ہمارا معاشرہ کوئی سرکاری سکول نہیں ہے جہاں طالبعلموں کو ڈنڈے کے زور پر ہانکا اور ان پر اپنا ہی نظریہ ٹھونسا جائے ۔ یہاں سب کو آزادی اظہار رائے کا حق حاصل ہے جس کا احترام ہم سب پر فرض ہے ۔ لہٰذا اپنے رویوں کو قاتل مت بنائیے ۔۔۔ آپ اگر امیدیں بر آنے یا من پسند فیصلوں پر لوگوں سے مبارکبادیں وصول کرتے ہیں تو تنقید اور اختلاف پر بھی صبر کریں ۔ ناراض ہونے کی بجائے اختلاف رائے یا تحفظات کا احترام کریں ، کہ یہ ان کا حق ہے ۔

ہمارا معاشرہ بھی اس کا تقاضہ کرتا ہے جبکہ اسلامی تعلیمات بھی یہی سکھاتی ہیں کہ ہم نے کس طرح اپنے جذبات کو ٹھنڈا رکھتے ہوئے اپنے رویوں اور اخلاق کو متوازن رکھنا اور دوسروں کے دلوں میں گھر کرنا ہے ۔۔۔ اور کیسے کسی مخالف رائے کو اپنا حامی بنانا ہے ۔۔۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ مفروضوں کے تعاقب کی بجائے ہر طبقہ مختلف معاملات پر محض اپنی رائے اور نظریات مسلط کرتے ہوئے دوسروں کی وفاداری ٹٹولنے کو شیوہ بنانے کی بجائے اختلاف برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کرے، صبر کا دامن مت چھوڑے اور دیگر کی رائے کا احترام کرتے ہوئے ان سے بولنے کا حق نہ چھینے، کہ یہی اس معاشرے کا حسن ہے ۔

مزید : کالم


loading...