نظریۂ ضرورت سے اشد ضرورت تک

نظریۂ ضرورت سے اشد ضرورت تک
 نظریۂ ضرورت سے اشد ضرورت تک

  



قیا م پاکستا ن سے اب تک کے 68بر سو ں میں بارہا ایسے مو اقع آ ئے کہ سو ل حکو متو ں کو در پیش مسا ئل و مشکلات خصوصاً عملی امداد کی ضرروت پڑی، افواج پاکستان نے ہر مشکل گھڑی میں ملک و قو م کے لئے بے مثال خدما ت سر انجا م دیں۔ جغر افیا ئی سر حد وں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ افو اج پا کستا ن نے سیلا ب، زلزلوں، قحط سالی، دہشت گر دی ،تخریب کاری اور کر پشن کے خلا ف بھی سول حکو متو ں کے شانہ بشانہ قابل قدر خدمات سے اپنی قدر و منزلت میں اضا فہ کیا ۔تعمیر ات کے شعبہ میں پاک فو ج کے ذ یلی ادارہ ایف ڈبلیو او (فرنیٹرورکس آرگنائزیشن) این ایل سی (نیشنل لا جسٹک سیل )زرعی شعبے میں فو جی فرٹیلائزر کا ر پو ر یشن نے نمایا ں خدما ت سرانجا م دیں۔ واپڈا میں بے لگام کرپشن اورو سیع پیما نے پر بجلی چو ری کے خلا ف بھی حتمی کا رروائی پاک فو ج نے ہی کی جبکہ دہشت گر دی کے خلا ف عا لمی جنگ میں تو پاک فوج کی خد ما ت او ر قربانیا ں دنیا بھر میں رو شن مثا ل بن چکی ہیں۔

پا کستان کے طول و عر ض میں دہشت گر دی کے خلاف 2001ء سے برسر پیکا ر پا ک فو ج نہا یت جا نفشا نی سے ڈٹی ہو ئی ہے۔ سلالہ چیک پو سٹ سے لے کر جی ایچ کیو حملے تک اور پی این ایس مہران پر ہو نے والے حملے سے آ رمی پبلک سکو ل کے لگ بھگ ڈیڑھ سو بچو ں کی المنا ک شہا دت تک، پا ک فوج کو د ہشت گر دی کے خلا ف جنگ کی بہت بھا ری قیمت چکانا پڑ ی ہے تاہم وہ پو رے عزم اور آ ہنی استقلال کے ساتھ دہشت گردی کے خلا ف اپنا جہاد جا ری رکھے ہو ئے ہے وادی سوات سے لے کر وزیرستا ن کے پیچیدہ پہا ڑی سلسلو ں تک اور فا ٹا سے لے کر گو ادر کے سا حلوں تک ہر جگہ ،ہر وقت ، ہر لمحہ پا ک فو ج د ہشت گر د وں کی بیخ کنی میں مصروف عمل ہے جس کے ثمر ات ملنا شر وع ہو گئے ہیں۔ اس حوالے سے جاری جامع آ پر یشن ضرب غضب اپنے اہداف کے حصول کے قریب تر پہنچ چکا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ دہشت گر دی کی لعنت کو نیست و نا بو د کرنے کے لئے پا ک فو ج بیر و نی مدا خلت کا ر قو تو ں اور اندورنی ایجنٹو ں کی سرکو بی کا حتمی مر حلہ شر و ع کر چکی ہے ۔ دہشت گر دی کے لئے اندر ونی و بیر ونی فنڈنگ اورسہو لت کا روں کے خلاف بھر پور کار روائی جا ری ہے اور اس کے مثبت نتا ئج بر آمد ہو رہے ہیں۔ دہشت گردی کا ملک گیر منظم نیٹ ورک تہس نہس ہو چکا ہے، انفراسٹر کچر تباہ ہو چکا ہے، تر بیتی کیمپوں کا خا تمہ ہو چکا ہے اور محفو ظ کمین گا ہیں اور ٹھکا نے بھی ٹھیک ٹھاک انداز سے ٹھکانے لگائے جا رہے ہیں ۔

اس حوالے سے جاری کارروائی میں جب کر پشن اور دہشت گر دی کے امتزاج پرہا تھ ڈالا گیا اور ابھی چند بڑی مچھلیوں کو پکڑا گیا تو کر پشن کے دلدادہ اور ملک وقو م کے بد خو ا ہو ں نے اسے سیاسی انتقا م کا نام دے کر واویلا مچانا شر و ع کر دیا۔ یہ با ت خلا ف حقائق اور اصل جر ائم سے تو جہ ہٹا نے کی ناکا م کا وش ہے۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو بھی خصو صی حا لا ت اور پیچیدہ صور ت حال میں دہشت گردی کے خلا ف کا ررو ا ئی کا تسلسل برقرار رکھنے کے لئے مد ت ملازمت میں یکمشت تین سال کی تو سیع دی گئی تھی ۔ اس توسیع پر اعترض کر نے وا لو ں نے بھی بعد ازاں یہ بات تسلیم کر لی کہ تو سیع کا فیصلہ در ست اور قو می ضر وریا ت سے ہم آ ہنگ تھا ۔ آ ج پھر پا کستا ن اپنے جر ی قا ئد کی زیر قیادت دہشت گر دی کے تا بو ت سی آ خری کیل ٹھو نکنے کی جا نب کا میا بی سے گا مزن ہیں تو آ رمی چیف جنر ل را حیل شریف کی معینہ مدت ملا زمت قر یب الا ختتام ہے ۔ اس حوالے سے مختلف آ را ء زیر بحث ہیں تا ہم پو ری قو م دہشت گر دی کے خلا ف ان کی جرات مندانہ پا لیسیو ں اور واضح کا میا بیو ں کو سراہتے ہو ئے عسا کر پا کستا ن کے شا نہ بشانہ کھڑ ی ہے آ ج پو ری قوم بر ملا یہ مطا لبہ کر رہی ہے کہ نظر یہ ضرورت نہیں بلکہ اشد قو می ضرورت کے تحت آرمی چیف کی مدت ملا زمت میں3سال کی تو سیع کی جا ئے ۔

مزید : کالم


loading...