، سعودی حکومت اور انسانی ہمدردی کی لاجواب مثال

، سعودی حکومت اور انسانی ہمدردی کی لاجواب مثال
، سعودی حکومت اور انسانی ہمدردی کی لاجواب مثال

  



حال ہی میں سعودی عرب کے شہر مکۂ مکرمہ کے حرم پاک میں کرین کے گرنے سے 110 کے قریب لوگ شہید اور 150کے لگ بھگ زخمی ہو گئے۔ سعودی حکومت نے اس حادثے کے غفلت کا ران کی سر کوبی اور متاثرین کی دل جوئی کے لئے ایسا قدم اٹھایا جس نے پوری دنیا کو چونکا کر رکھ دیا۔ انھوں نے فوری طور پر زخمیوں کو جدید ترین طبی سہولیات فراہم کیں۔ شہد ائے حرم کے لئے فی کس 10لاکھ سعودی ریال ( تقریباً 2کروڑ 70لاکھ روپے ) معذوروں کے لئے بھی 10لاکھ ریال اور زخمیوں کے لئے 5لاکھ ریال کی خطیررقم دینے کا اعلان کیا۔ نیز شاہی خاندان کی جانب سے ہر شہید ہونے والے کے ورثا میں سے دو افراد کو آئندہ سال خادم الحرمین شریفین کے مہمان کے طور پر حج کی ادائیگی کے لئے دعوت دی جائے گی، جبکہ معذوروں اور زخمیوں کو بھی آئندہ سال حج کا دوبارہ موقع دیا جائے گا۔ ان کمال عنایات کے ساتھ ساتھ زیر علاج زخمیوں کو بھرپور مالی وطبی امداد دی جارہی ہے ۔ شاہی خاندان خصوصاً خادم الحرمین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے خود جاکر ایک ایک زخمی کی عیادت کی اور اس کے ویزے میں تو سیع کے علاوہ دیگر مراعات کے لئے ہنگامی فرمان بھی جاری کیا۔ جبکہ متاثرین سانحہ کے لواحقین کے لئے ایک خصوصی اعلان کیا جا چکا ہے کہ اگر ان میں سے کوئی اپنے زخمی کی تیمار داری کے لئے سعودی عرب آنا چاہتا ہے تو سعودی حکومت اس کے تمام اخراجات اٹھانے کے لئے تیار ہے۔

تھا تو یہ بھی حوادثِ زمانہ میں سے ایک حادثہ ، مگر سعودی حکومت نے اس حادثے میں متاثرین کی جس طرح طبی امداد کی، انھیں مضبوط ڈھارس دی ، ان کی تشفی و دل جوئی کے لئے غیر متوقع خوش کن مالی اور اخلاقی اعلانات کیے، فی زمانہ اس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ دوسری جانب جن لوگوں (کمپنی) کی غفلت کاری سے اس غیر موزوں کرین سے حادثہ رونما ہوا، انھیں کڑی ترین سزا دی گئی۔ کمپنی کو ہمیشہ کے لئے بلیک لسٹ کر دیا گیا ۔ سانحہ کے ذمے داران پر قبل از تحقیقات ملک سے باہر جانے پر پابندی عائد کر دی گئی۔

الغرض جس انداز سے سعودی حکومت نے اس حادثے پر انسان اور انسانیت کی قدر وقیمت کو پوری دنیا پرعلمی صورت میں عیاں کیا ، وہ رہتی دنیا کے لئے عموماً اور بہبو دِ انسانی کے لئے کام کر نے والی تنظیموں کے لئے خصوصاً مشعل راہ رہے گا۔ آخر میں ہم ان حضرات سے استدعا کرنا چاہیں گے جو سعودی حکومت کے خلاف خواہ مخواہ پراپیگنڈہ کر تے رہتے ہیں کہ وہ اس واقعے کی روشنی میں اپنے افکار و نظریات پر کچھ غور فرمائیں۔

مزید : کالم


loading...