سیاست میں شدت پسندی

سیاست میں شدت پسندی

  



ذاتی معاملات ذات کے دائرے میں محبوس ہوتے ہیں اور جو معاملات ذات کے دائرے سے نکل کر احساس کے چہرے پر سلو ٹیں بن کر اُبھر آئیں وہ معاملات ذاتی نہیں رہتے۔ دورِ جدید میں الیکٹرانک میڈیا نے خفیہ اداروں کو بھی مات کر دیا ہے۔ آج کا صحافی جیمز بونڈ کا کردار ادا کر رہا ہے کسی کی چڑیا خبر لا رہی ہے تو کسی کا چڑا اور کوئی اندر کی خبر دے رہا ہے، یہ خبریں اس قدر حقائق پر مبنی ہوتی ہیں کہ متعلقہ ادارہ، شخص یا پارٹی مذکورہ خبر کی جتنی بھی تردید کرے اس کی حقیقت اور سچائی کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ صرف اتنا کہہ دینے سے کہ یہ ہمارا ذاتی معاملہ ہے یا پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے اس اندر کی خبر کو پسِ پشت ڈال کر آنکھیں نہیں موندی جاسکتیں جو خبر ایک دفعہ منظرِ عام پر آ جائے وہ پھر ذاتی معاملہ یا اندرونی معاملہ نہیں رہتا وہ قوم کا حق بنتا ہے کہ اس خبر کی حقیقت سے ان کو آگاہ کیا جائے۔

سیاست میں شدت پسندی کا آغاز ضیاء دور میں ہوا جبکہ دینی جماعتوں میں یہ رجحان پہلے سے پایا جاتا تھا ، سیاست میں غیر سیاسی عناصر کی موجودگی تشدد، شدت پسندی اور عدم برداشت کی وجہ بنی اور ایسے عناصر جو ایک مخصوص نظریے کے تحت سیاست میں آئے انہوں نے بھی ایک خاص مقصد کے تحت شدت پسندی کو بڑھاوا دیا ، یہ بات بھی مشاہدے میں آئی ہے کہ سیاست میں وارد نئے حضرات میں ادب و احترام کا بھی فقدان ہے اس کا مظاہرہ ہم دھرنوں کے دوران دیکھ چکے ہیں کس قدر بے ادب گفتگو کی گئی اداروں سے لے کر مقتدر شخصیات کو کس لہجے اور الفاظ سے پکارا جا تا رہا ۔شیخ رشید نے بے ادبی اور شدت پسندی کی انتہا کردی صرف اس وجہ سے کے ان کو مسلم لیگ (ن) میں واپس کیوں نہیں لیا۔

کراچی کے نشتر پارک میں 8 ، اگست 1986ء کو مہاجر قومی مومنٹ ( جو کہ بعد میں متحدہ قومی مومنٹ) کا پہلا جلسہ ہوا۔ جلسے کے اختتام پر سہراب گوٹھ پر ایم کیو ایم کے کارکنان اور سہراب گوٹھ کے مکینوں میں مصلح تصادم ہوا اس تصادم کے بعد سے آج تک کراچی میں امن دیکھنے کو نہیں ملا ، شدت پسندی اور تشدد میں روز بروز اضافہ ہی ہوا ہے۔ کراچی اور سارے پاکستان کے لوگ کراچی کے امن کو ترسنے لگے۔ راقم نے مہاجر اتحاد تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر سلیم حیدر کوجلسوں میں الطاف حسین کو بددعائیں دیتے سنا کہ مہاجر قوم کو تشدد کی راہ پر لگا دیا ہے۔سیاسی جماعتوں میں شدت پسندی اندرونی اختلافات کا بھی سبب بنی۔ تحریکِ انصاف کو عوام نے نجات دہندہ سمجھا لیکن اس جماعت میں شدت پسند عناصر اس قدر قوی اور اثر رسوخ رکھتے ہیں کہ خود چیئر مین تحریکِ انصاف ان کے سامنے بے بس اور لاچار ہیں۔ ان شدت پسندوں کی وجہ سے پارٹی میں ابھی تک الیکشن نہیں ہو سکے۔ پارٹی میں کئی گروپ ہیں۔ پہلے عمران خان گروپ بندیوں کی تردید کرتے رہے پھر مان لیا کہ پارٹی میں پانچ چھ گروپ ہیں پارٹی چیئرمین اگر کسی کو پارٹی سے نکالتا ہے تو وہ چیئر مین کا آڈر ہی نہیں مانتے کہتے ہیں کہ ہم نظریاتی ہیں ہم تحریکِ انصاف میں تھے ہیں اور رہیں گے۔

شدت پسندی، انتہا پسندی اور کرپشن پاکستان کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں، ان کا سدِباب کسی نہ کسی نے تو کرنا ہے نیشنل ایکشن پلان کی تمام سیاسی پارٹیوں نے متفقہ طور پر منظوری دی۔ بعض پارٹیوں کا پہلے سے یہ مطالبہ بھی تھا اب جبکہ اس پر عمل درآمد شروع ہوا تو شدت پسندی کی مذمت کرنے والی پارٹیاں بھی شدت پسندی پر اُتر آئی ہیں۔ اینٹ سے اینٹ بجانے اور کھلی جنگ کی دھمکیاں دینے لگیں۔ کچھ موقع پرست ساتھ مل بیٹھے چودھری شجاعت نے برملا مانا کہ نواز حکومت کو کمزور کرنے کے لئے دھرنوں کی حمایت کی تھی لیکن دھرنوں سے پاکستان کو معاشی نقصان ہوا۔ میرے مرحوم دوست رشید جمال نے ایک خوبصورت انداز میں بات کی تھی کہ : جب احساس کی طنابیں ڈھیلی پڑ جائیں تو دل کی آہنگ کوئی نہیں سنتا :سانحہ آرمی سکول پشاور، کامرہ بیس،پی اے ایف سکول بس، صفورہ گوٹھ اور کتنے ہی ان گنت سانحے جو گزر گئے کیا ہمارا ا حساس جگانے کے لئے کافی نہیں تھے۔ اس شدت پسندی کو کہیں نہ کہیں تو روکنا ہے۔

مزید : کالم