نویں ،دسویں کے ناقص نتائج کی بنیاد پر اساتذہ کوسزائیں دینا قابل مذمت ہے ،سجاد کاظمی

نویں ،دسویں کے ناقص نتائج کی بنیاد پر اساتذہ کوسزائیں دینا قابل مذمت ہے ...

  



لاہور( خبرنگار) پنجاب ٹیچرز یونین کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس گزشتہ روز مرکزی صدر سید سجاد اکبر کاظمی کی زیر صدارت لاہور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں مرکزی عہدیداران کے علاوہ ضلعی صدور و جنرل سیکرٹریز نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری سرفراز ، رانا انوار، جام صادق، اسلم گھمن، سعید نامدار، ساجد محمود قریشی ، منیر انجم ، ایوب سیال ، عبدالرزاق جوئیہ، راؤ شمشاد ، راؤ تصور، الطاف نائیج ، منور بھٹی، ارشاد رندھاوا، شعبان بھٹی ، ملک سعید، میاں ارشد ، حاجی اسلام ، آصف گوندل ، اقبا ل بریار و دیگر نے کہا ہے کہ اساتذہ پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے جا رہے ہیں۔ اساتذہ کا معاشی استحصال کیا جا رہا ہے۔ ڈراپ آؤٹ ، PEC اور 9th, 10th کے نتائج کی بنیاد پر اساتذہ و ہیڈ ٹیچرز کو سخت سزائیں دیکر خوف و ہراس کی فضاء پیدا کر دی گئی ہے۔ اساتذہ ذہنی طور پر مفلوج ہو گئے ہیں۔ بیوی بچوں سمیت والدین و عزیز و اقارب ی تیمارداری اور غمی و خوشی میں شرکت اساتذہ کے لئے عذاب بن چکی ہے۔حقائق کے برعکس آمرانہ فیصلوں سے تعلیمی ترقی شدید متاثر ہو رہی ہے۔نہم میں فیل شدہ بچوں کو زبردستی 10th کلاس میں بٹھانے سے ڈرآپ آؤٹ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ٹیب پر ٹیست سے بچے کنفیوژن کا شکار ہو کر نتائج دینے سے قاصر ہیں ۔ PEC کا امتحانی سسٹم نظام تعلیم کے لئے زہر قاتل ہے۔کڑوڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود اس کے نتائج پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ حکومتی تعلیمی اہداف کا حصول ناممکن ہے۔ کیونکہ اس کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ مصنوعی اعداد و شمار ہماری بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ افسران حقائق جاننے کے باوجود ان سے نظریں چُرا کر سب اچھا کی رپورٹس ارسا ل کر رہے ہیں۔ نت نئے تجربات نے ہمارے نظام کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔ اساتذہ سے طے کئے گئے معاملات سے انحراف مایوسی کا باعث بن رہا ہے۔ پنجاب ٹیچرز یونین ہی اساتذہ کی آس و اُمید ہے۔ بلند و باغ دعوے کرنے والے 4 ماہ برداشت نہیں کر سکے۔پنجاب ٹیچرز یونین کی تاریخ قربانیوں سے بھر ی پڑی ہے۔ اساتذہ حقوق کی پاداش میں سید سجاد اکبر کاظمی کو جبر ی ریٹائر ہوئے ایک سال چار ماہ ہو چکے ہیں۔ اُن کا پایہ استقلال میں ذرا سی بھی لغزش پیدا نہیں ہوئی۔ جبکہ رانا لیاقت علی اور ظفر سندھ کو بھی انتقام کا نشانہ بنایا گیاہے۔ لیکن وہ مسلسل جدو جہد میں مصروف ہیں ۔ مشکلات و کٹھن حالات کا مقابلہ کرنا پنجاب ٹیچرز یونین کا وطیرہ ہے۔ ہمیں اپنی قیادت پر فخر ہے۔ جو آج بھی اساتذہ کے حقوق کے تحفظ کے لئے آواز بلند کر رہی ہے۔ سید سجاد اکبر کاظمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اساتذہ حقوق کا تحفظ میرا نصب العین ہے۔ اساتذہ برادری کے لئے ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہوں۔ اساتذہ کا استحصال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ہمیں مفاد پرست کہنے والے آج اپنے گریبان میں جھانکیں۔پنجاب ٹیچرز یونین نے ہمیشہ اساتذہ کے حقوق کی جنگ لڑی ہے۔ہم تعلیمی ترقی میں موٗثر کردار ادا کرنا چاہتے ہیں لیکن مفاد پرست عناصر اساتذہ برادری کیخلاف سازشیں کر رہے ہیں۔تعلیمی اداروں میں افس شاہی افراتفری پیدا کر کے نظام تعلیم کو تباہ کر رہی ہے۔ محکمہ تعلیم میں غیر اعلانیہ مارشل لاء لگا ہوا ہے۔ یہ سلسلہ زیادہ دیر تک چلنے والا نہیں۔ ہمیں میدان عمل میں اُترنا ہو گا۔ وعدہ خلافیوں کو نظر انداز کرنا مشکل ہو چکا ہے۔ ہر ناکامی کا ذمہ دار اساتذہ کو ٹہرانا درست نہیں ۔وزیر اعلی پنجاب ، وزیر تعلیم پنجاب ، چیف سیکرٹری پنجاب اور سیکرٹری سکولز پنجاب حالات کی سنگینی کا جائزہ لیں ۔زمینی حقائق کے بر عکس اہداف مقرر کرنے اور ایسے اقدامات جن سے اساتذہ کی عزت نفس اور وقار کی پامالی کا ندیشہ ہو سے گریز کیا جائے۔سالانہ ترقیوں کی بندش اور سروس کی ضبطگی جیسی سزاؤں کا خاتمہ کیا جائے۔ 6 مئی 2015 کو طے پانے والے ٹیچرز ایشوز پر من و عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔وگرنہ پنجاب ٹیچرز یونین راست اقدام اُٹھانے پر مجبور ہو گی۔ آخر میں مرکزی سینئر نائب صدر چوہدری سرفراز احمد کی سربراہی میں 5 اکتوبر "سلام ٹیچر ڈے" کو موثر انداز میں منانے کے لئے کمیٹی تشکیل دی گئی۔

مزید : میٹروپولیٹن 4


loading...