گوشت کے برآمد کنندگان صوبائی دائر ہ کار سے باہر ہیں ،بلا جوز ہراساں نہ کیا جائے ،نسیب سیفی

گوشت کے برآمد کنندگان صوبائی دائر ہ کار سے باہر ہیں ،بلا جوز ہراساں نہ کیا ...

  



لاہور ( اسد اقبال)دنیا بھر میں گوشت برآمد کر نے والی تنظیم آل پاکستان میٹ پر و سیسرز اینڈ ایکسپورٹرز ایسو سی ایشن کے چیئر مین نسیب احمد سیفی نے کہاہے کہ گو شت برآمد کنندگان صو بائی حکو مت یا اس کے محکموں کے دائرہ کار میں نہیں آتے ہم وفاقی حکو مت کی جاری کر دہ پالیسی کے تحت کام کر تے ہیں اور ہمار ا چیلنج ہے کہ کو ئی بھی غیر جانبدار ادارہ ہمار ے سلا ٹر ہاؤ سز میں آ کر ہمارا معیار اور صفائی کا نظام چیک کر لے اور اس کا تقابلی جائزہ سرکاری بو چڑ خانوں سے کر لیا جائے تو آپ کو زمین آسمان کا فر ق صاف پتہ لگ جائے گا ہمیں بلا جواز اور غیر قانو نی طورپر تنگ کیا جارہا ہے یہ ہزاروں میٹ ایکسپورٹرز کے معاشی قتل کے مترادف ہے جس سے پاکستان کی برآمد ات پر منفی اثرات مر تب ہورہے ہیں بعض قو تیں پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کر نے کی مذمو م سازش میں شر یک ہیں ہمارا وزیراعظم پاکستان اور وزیر اعلی پنجاب سے مطالبہ ہے کہ وہ ہمارے معیار اور حفظان صحت کے معاملات جانچنے کے لیے غیر جانبدار ٹیکنیکل کمیشن مقر ر کر دیں اگر ہم عالمی معیار سے کم پائے جائیں تو ہمیں سخت تر ین سز ادی جائے لیکن جو نا عاقبت اندیش افسران اپنی گڈی چڑھانے کے لیے محض نمو دو نمائش کی خاطر چھاپے اور مہم جاری رکھے ہوئے ہیں انھیں لگام دی جائے بصورت دیگر ہم عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبو ر ہو نگے ۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے گزشتہ روز پاکستان کو دیے گئے خصو صی انٹر ویو میں کیا ۔آل پاکستان میٹ پر و سیسرز اینڈ ایکسپورٹرز ایسو سی ایشن کے چیئر مین نسیب احمد سیفی نے کہا کہ ایک طر ف حکو مت برآمدات بڑھانے کے لیے صنعتکاروں پر زور ڈال رہی ہے دوسری جانب پنجاب حکو مت کے افسران سستی شہرت حاصل کر نے کے لیے پنجاب فو ڈ اتھارٹی کے زیر اہتمام میٹ ایکسپورٹرز کا جینا محال کر تے ہوئے معاشی چھری چلا رہے ہیں جس کی بھر پور مذمت کر تے ہیں انھوں نے کہا کہ رولز آف بزنس 1973کے تحت پنجاب فو ڈا تھارٹی کے پاس کو ئی اختیار نہیں کہ وہ میٹ ایکسپورٹرز کے سلاٹر ہاؤس اور معیار کو چیک کرے کیو نکہ ہم لو گ وفاقی حکو مت کے ماتحت ہیں اور جو جانور ہمارے سلاٹر ہاؤ س میں ذبح ہوتے ہیں ان کا معیار سر کاری سلاٹر ہاؤ س کے مقابلہ میں بہت بڑھ چڑھ کرہے اور ہمیں اینمل کورن ٹائن ادارہ مانیٹر نگ کر تا ہے جہاں پر ڈاکٹر ہمارے سلاٹرہاؤ س میں گوشت کے معیار کو چیک کر تے ہیں اس کے بعد پاکستان ایئر پورٹ پر اور اس کے بعد باہرکے ممالک کے ایئر پورٹ پر کوالٹی کو چیک کر کے پاس کیا جاتا ہے ۔انھوں نے بتایا کہ جو گو شت ہم برآمد کر تے ہیں اس کے کارگو کا خرچہ پیشگی ادا کرتے ہیں جس میں حکو مت کی جانب سے عائد کردہ ٹیکسز بھی ایڈوانس دیے جاتے ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ میٹ ایکسپورٹرز فی میل جانوروں کو ذبح کر نے کو قانون کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں کیو نکہ فی میل پروڈکشن دیتی ہے جس کا نہ صر ف مالک کو فائدہ ہو تاہے بلکہ معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ ہمارا گو شت ہائی جینک اور بہترین ہے جس کے لیے باقاعدہ طورپر معیار کے مطابق لیبارٹریاں بنائی گئی ہیں جبکہ سر کاری مذبحہ خانوں کے پاس کوئی لیبارٹری مو جو دہی نہیں ہے ۔انھوں نے بتایا کہ ہمارے سلاٹر ہاؤ س اور لیبارٹریوں کو چیک کر نے کے لیے ملائشیا ، سعو دی عرب اور دبئی کے ماہر وفود کی شکل میں آڈٹ کر تے ہیں جو ہمارے معیار سے ہمیشہ مطمئن ہی ہو کر جاتے ہیں ۔ نسیب احمد سیفی نے وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شر یف اور وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شر یف سے مطالبہ کیا ہے کہ پنجاب فو ڈ اتھارٹی کو ہوش کے ناخن دلوائیں اور ہمارے خلاف جھوٹی کارروائیاں کر نابند کر یں ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...