تجارتی سرگرمیوں کے لیے مظفرآباد،سرینگر روٹ کا استعمال کریں گے

تجارتی سرگرمیوں کے لیے مظفرآباد،سرینگر روٹ کا استعمال کریں گے

  



سرینگر(کے پی آئی) مقبوضہ کشمیر کی تاجربرادری نے جموں کے ہندو تاجران کے ساتھ تعلقات توڑنے اور کاروبار کے لیے مظفر آباد،سرینگر روٹ استعمال کرنے کی جوابی دھمکی دے دی ہے ۔ یہ دھمی وی ایچ پی کی جانب سے وادی کی معاشی ناکہ بندی کے جواب میں دی گئی ہے ۔ کشمیر ٹریڈرز اینڈ مینو فیکچرز فیڈریشن کے صدر یاسین خان نے کہا کہ ہم جموں کے اپنے رفقاء کو یہ واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ وی ایچ پی کے بیان پر اپنا موقف صاف کریں کیا وہ ہمارے ساتھ کاروبار کرنا چاہتے ہیں یاوی ایچ پی جیسی کٹرتنظیم کی تائید کرتے ہیں جو فرقہ وارانہ خطوط پر ریاست کو تقسیم کرنے کے درپے ہے۔یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب جمعہ کو وی ایچ پی نے دھمکی دی تھی کہ جموں میں 2008ء جیسا آپریشن شروع کیا جائے گا اور اگر بیف کی فروخت پر پابندی کی منسوخی سے متعلق بحث کی ریاستی اسمبلی میں اجازت دی جائے تو کشمیر کی معاشی ناکہ بندی کی جائے گی۔

یاسین خان نے جو کشمیر معاشی محاض کے صدر نشین بھی ہیں کہا کہ اب فیصلہ جموں کی تاجربرادری پر منحصر ہے ہم چاہتے ہیں کہ وہ اس مسئلہ رپ برسرعام اپنے خیالات کا اظہار کرے کیونکہ ان کی خاموشی کو فرقہ پرست طاقتوں کے عزائم کو قبول کرنے کے مترادف سمجھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر ایسی صورتحال پیدا ہوئی تو وہ تجارتی سرگرمیوں کے لیے مظفرآباد،سرینگر روٹ کا استعمال کریں گے۔

مزید : عالمی منظر


loading...