انڈونیشیا کا سعودی عرب سے اپنی 7لاکھ خواتین ملازمین اور ڈرائیورروں کو واپس بلانے کا فیصلہ

انڈونیشیا کا سعودی عرب سے اپنی 7لاکھ خواتین ملازمین اور ڈرائیورروں کو واپس ...

  



جکارتہ (مانیٹرنگ ڈیسک) عرب میڈیا کی حالیہ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انڈونیشیا کے حکام نے بہت بڑا فیصلہ کرتے ہوئے سعودی عرب سے اپنی 7 لاکھ خواتین ملازمین اور ڈرائیوروں کو واپس بلانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔اخبار ’’الحیات‘‘ نے انڈونیشیا کی حکومت کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے کل 21 ممالک سے لاکھوں ملازمین کو واپس بلوایا جارہا ہے جن میں اکثریت خواتین ملازمین کی ہے۔ ذرائع کے مطابق سعودی عرب سے 15 ماہ کے دوران 7 لاکھ گھریلو ملازم خواتین اور ڈرائیوروں کو واپس بلوالیا جائے گا۔ اخبار کے مطابق انڈونیشیائی حکام کا کہنا ہے کہ ملازمین کو واپس بلوانے کا فیصلہ حتمی ہے اور اسے واپس نہیں لیا جائے گا۔ مزید ملازمین کی بھرتی روک دی گئی ہے جبکہ جو خواتین پہلے ہی عرب ممالک میں کام کررہی ہیں ان کے معاہدے مکمل ہونے کا انتظار کیا جارہا ہے۔انڈونیشیا کے نئے صدر جوکو وڈوڈو نے رواں سال فروری میں ہی اشارہ دے دیا تھا کہ عرب ممالک میں کام کرنے والی خواتین ملازمین کو واپس بلوالیا جائے گا۔ انڈونیشیائی حکام کا موقف ہے کہ خواتین کو غیر ممالک میں کام کیلئے بھیجنا ملک کے وقار اور عزت کے خلاف ہے، لہٰذا کوشش کی جائے گی ان کیلئے ملک میں ہی ملازمین کے مواقع پیدا کئے جائیں۔ جن 21 ممالک سے ملازمین واپس بلوائے جارہے ہیں ان میں سعودی عرب، کویت، قطر، بحرین، عمان، متحدہ عرب امارات، لبنان، اردن اور مصر شامل ہیں۔

مزید : صفحہ اول


loading...