بڈھ بیر حملہ ،دوٹوک بات کیلئے ثبوتوں کیساتھ وفد افغانستان بھیجنے کا فیصلہ

بڈھ بیر حملہ ،دوٹوک بات کیلئے ثبوتوں کیساتھ وفد افغانستان بھیجنے کا فیصلہ

  



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک+آن لائن+ اے این این )اعلیٰ ترین سول اور عسکری قیادت نے پشاور میں پاک فضائیہ کے بڈھ بیر کیمپ پر حملے کامعاملہ ناقابل تردیدثبوتوں کیساتھ باضابطہ طورپرافغانستان کیساتھ اٹھاتے ہوئے اس سے دوٹوک بات کرنے کا فیصلہ کیاہے، وزیراعظم نوازشریف کے زیرصدارت اجلاس میں حملے کی تحقیقات کے دوران میں ملنے والے تمام شواہدکاتفصیلی جائزہ لیا گیا اور افغان حکومت کے سپرد کئے جانے والے شواہد علیحدہ کردیئے گئے، دستاویزی ثبوت لے کر پاکستانی وفد جلد کابل جائے گا، اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ انسداددہشت گردی کے نیشنل ایکشن پلان پرعملدرآمدکی رفتار تیز اور پاک افغان سرحدپرسیکورٹی مزیدسخت کی جائے گی،اجلاس کے شرکاء نے بھارتی فوج کی طرف سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں پر اظہار تشویش ،ملکی سرحدوں کا تحفظ ہر صورت میں یقینی بنانے کے عزم کااعادہ کیا۔تفصیلات کے مطابق پیر کو یہاں وزیراعظم سیکرٹریٹ وزیراعظم نواز شریف کے زیرصدارت اعلیٰ سطح کااجلاس ہوا جس میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیرخزانہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان، قومی سلامتی اورخارجہ امورکے مشیرسرتاج عزیز ، بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف،ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر ، فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ، ڈی جی ملٹری آپریشنز میجر جنرل عامر ریاض، ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس میجر جنرل ندیم ذکی اوردیگرحکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملکی سلامتی اور امن و امان کی مجموعی صورتحال خاص طورپرپشاورحملے کے بعدکی صورتحال کا جائزہ لیاگیا۔ وزارت داخلہ کے حکام نے بڈھ بیر حملے کی ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے آگاہ کیا اوریہ بھی بتایا کہ فرقہ وارانہ مواد کے حوالے سے اقدامات کیے جارہے ہیں ۔ اجلاس میں بڈھ بیر حملے کے محرکات کا جائزہ لیا گیا اورفیصلہ کیاگیاہے کہ یہ معاملہ ثبوتوں کے ساتھ وزارت خارجہ اورعسکری سطح پر افغانستان کے ساتھ اٹھایا جائے گا ، 16 دسمبر کے واقعہ کے بعد معاملات افغانستان کے ساتھ طے ہوئے تھے جن میں انٹیلی جنس انفارمیشن شیئر نگ اور بارڈر مینجمنٹ بھی شامل ہے، ان کے حوالے سے امور افغانستان سے اٹھائے جائیں ۔اجلاس میں پاک فضائیہ کے بڈھ بیرکیمپ حملے کے بارے میں بہت سے شواہد پیش کیے گئے جن میں ان شواہد کو علیحدہ کیا گیا جو افغان حکام کے حوالے کیے جائیں گے اور یہ دستاویزی ثبوت لے کر پاکستانی حکام بہت جلد کابل جائیں گے۔ اجلاس میں افغانستان کو اس حملے کے بارے میں شواہد کی فراہمی کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر دہشت گردوں کی آمدورفت روکنے کے لیے تجاویز پر بھی بات کی گئی ۔یہ بھی فیصلہ کیا گیا شدت پسندوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی ، انسداددہشت گردی کے نیشنل ایکشن پلان پرعملدرآمدکی رفتارتیز اورپاک افغان سرحدپرسیکورٹی مزیدسخت کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق شرکاء نے اپنے اس عزم کااعادہ کیاکہ پاکستان بقائے باہمی پریقین رکھتاہے وہ نہ تواپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال ہونے دے گانہ یہ برداشت کرے گاکہ کسی دوسرے ملک کی سرزمین اس کے خلاف استعمال ہو ۔ اجلاس میں وزیر اعظم کے دورہ امریکا پر بھی تبادلہ خیالات کیا گیاجبکہ بھارتی فوج کی طرف سے کنٹرو ل لائن اور ورکنگ باؤنڈری کی مسلسل خلاف ورزیوں پر تشویش کااظہارکرتے ہوئے بھارت پرزوردیاگیاکہ وہ جنگ بندی کی پاسداری کرے۔

مزید : صفحہ اول


loading...