50ارب روپے سے پینے کے صاف پانی کا منصوبہ ،4کروڑ دیہی آبادی مستفید ہو گی ،شہباز شریف

50ارب روپے سے پینے کے صاف پانی کا منصوبہ ،4کروڑ دیہی آبادی مستفید ہو گی ،شہباز ...

  



لاہور(جنرل رپورٹر)وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی زیرصدارت یہاں اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیراعظم محمد نواز شریف کی جانب سے کاشتکاروں کی فلاح وبہبود اور زراعت کی ترقی کیلئے اعلان کئے جانے والے زرعی ریلیف پیکیج پر عملدرآمد کیلئے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف نے کاشتکاروں کی فلاح و بہبود اور شعبہ زراعت کی ترقی کیلئے تاریخی ریلیف پیکیج دیا ہے اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے 341ارب روپے کا تاریخ ساز ریلیف پیکیج دے کر کاشتکاروں اور کسانوں کو ان کا حق دیا ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ زراعت پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، ملک کی معیشت کی ترقی کسان کی خوشحالی سے وابستہ ہے۔ حکومت کسانوں کی خوشحالی کیلئے کئے جانے والے اقدامات پر تیز رفتاری سے عمل کرے گی اور اس ضمن میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ زرعی ریلیف پیکیج پر عملدرآمد کیلئے متعلقہ محکمے فعال انداز میں کام کریں اور زرعی شعبہ کی پائیدار بنیادوں پر ترقی کیلئے لانگ ٹرم منصوبہ بندی کی جائے۔انہوں نے کہا کہ چھوٹے کاشتکاروں کو مالی امداد کی فراہمی کیلئے مستند ڈیٹا کے حصول کیلئے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے سروے کیا جائے گا اور کاشتکاروں کو ان کا حق دیں گے۔وزیراعلیٰ نے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ، سپارکو، اربن یونٹ اور لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کو ٹیکنالوجی لیڈ سروے کیلئے طریقہ کار فوری طور پر وضع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹے کاشتکاروں کے مستند ڈیٹا کے حصول کیلئے جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کیا جائے اور اس ضمن میں جلد سے جلد سروے کا طریقہ کار طے کیا جائے تاکہ چھوٹے کاشتکاروں کو مالی امداد کی تقسیم کے پروگرام کا آغاز کیا جاسکے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ چھوٹے کاشتکاروں میں مالی امداد کی تقسیم کا جامع پروگرام مرتب کرکے حتمی سفارشات پیش کی جائیں۔ صوبائی وزراء ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا، بلال یاسین، ڈاکٹر فرخ جاوید، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اور متعلقہ سیکرٹریزنے اجلاس میں شرکت کی۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف سے یہاں شیرازی برادران نے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور پارٹی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پرعزم ہے۔ حکومت کے ٹھوس اقدامات کے باعث معاشی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی بے لوث خدمت اور ان کی فلاح و بہبود مسلم لیگ (ن) کا اولین ایجنڈا ہے اور وزیراعظم محمد نواز شریف کی قیادت میں ملک کو بحرانوں سے نکالیں گے۔ وزیراعلیٰ سے ملاقات کرنے والوں میں ایم این اے ایاز علی شاہ شیرازی، ایم پی اے سید اعجاز علی شاہ شیرازی، سابق ایم این اے سید شفقات حسین شیرازی اور ضلعی صدر مسلم لیگ (ن) ٹھٹھہ حاجی حنیف میمن شامل تھے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف سے یہاں ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر راشد بن مسعودنے الوداعی ملاقات کی،جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور سماجی شعبوں کی بہتری کیلئے جاری پروگرامز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ بینک کے تعاون سے پنجاب کے سماجی شعبوں کی بہتری کیلئے پروگرامز کامیابی سے چل رہے ہیں۔ پنجاب حکومت نے تعلیم، صحت اور دیگر سماجی شعبوں کی بہتری کیلئے انقلابی اصلاحات کی ہیں جس کے دور رس نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کیلئے شرح ترقی میں اضافے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور حکومت شہری و دیہی علاقوں کی متوازن ترقی کی پالیسی پر گامزن ہے اور پسماندہ علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ جنوبی پنجاب کے اضلاع کیلئے آبادی کے تناسب سے زیادہ وسائل مختص کئے گئے ہیں جبکہ محکموں کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے انفارمیشن ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ پاکستان خصوصاً پنجاب اور ورلڈ بینک کے درمیان مختلف شعبوں میں مثبت اشتراک کار جاری ہے جس کے بہترین نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ورلڈ بینک پنجاب کے تعلیم، صحت،سکل ڈویلپمنٹ اور توانائی کے منصوبوں میں بھر پور تعاون کر رہاہے۔پنجاب حکومت ورلڈ بینک کے ساتھ تعلیم، صحت ، سکل ڈویلپمنٹ ،ڈیزاسٹر مینجمنٹ، توانائی او ر دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کی خواہاں ہے۔ پنجاب میں ورلڈ بینک کے تعاون سے لینڈ ریکارڈمینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے منصوبے پر کام کیا گیا ہے۔ مفاد عامہ کا یہ انقلابی منصوبہ صوبے میں شفافیت اور کرپشن فری کلچر کی جانب اہم اقدام ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی آبادی کا60فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ نوجوانوں کو با اختیار بنانے کے لئے پنجاب حکومت نے انقلابی اقدامات اٹھائے ہیں۔ تعلیم کے میدان میں نوجوانوں کے لئے پاکستان کی تاریخ میں مثالی پروگرام شروع کئے گئے ہیں۔ سکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے ذریعے ہر سال پچاس ہزار نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنر مندبنایا جارہاہے۔ انہوں نے کہا کہ نارتھ پنجاب میں پانی کے ذخائر کی تعمیر کے حوالے سے ورلڈ بینک کا تعاون لائق تحسین ہے۔ نارتھ پنجاب میں ورلڈ بینک چھوٹے ڈیم بنانے کے حوالے تعاون کو مزید فروغ دے سکتا ہے۔ کنٹری ڈائریکٹر ورلڈ بینک راشد بن مسعودنے کہاکہ پنجاب حکومت ادارہ جاتی اصلاحات کے لئے موثر اقدامات کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے زبردست کام کئے ہیں اور سماجی شعبوں کی بہتری کیلئے شہباز شریف کے کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس موقع پر صوبائی وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات، ایڈیشنل سیکرٹری توانائی اور سیکرٹری خزانہ بھی موجود تھے۔

لاہور(جنرل رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پرعوام سے براہ راست رابطہ کرتے ہوئے ویڈیوپیغام کے ذریعے شہریوں کے سوالات کے جواب دےئے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ فیس بک پر عوام سے رابطہ باقاعدگی سے جاری رہے گا کیونکہ فیس بک پر رابطے سے ناصرف مسائل کی نشاندہی ہوتی ہے بلکہ ان کے حل میں مدد بھی ملتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے بھکر کے شہری اکرام ساجد کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ بھکرکے علاقے یار ووالہ میں بچیوں کے سکول میں تعلیمی سرگرمیوں میں ہونے والی تاخیرکا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کا حکم دے دیاگیا ہے اور جو بھی ذمہ دار ہوااس کیخلاف کارروائی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ بچوں کے سکول میں تعلیمی سرگرمیوں کاآغاز کردیاگیا ہے تاہم اس ضمن میں ہونے والی تاخیر پر متعلقہ حکام کی جواب طلبی ہوگی۔ساہیوال سے تعلق رکھنے والے حمید اسلم کے سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ سوشل سکیورٹی کے ادارے کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے پر پوری توجہ مرکوز کرنا ہوگی اورادارے کی کارکردگی میں بہتری کیلئے کمپیوٹرائزڈ سسٹم متعارف کرایا جارہا ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ آپ کی شکایت کا فوری نوٹس لیا ہے اوراس ضمن میں آپ کو سوشل سکیورٹی کے ادارے نے چیک جاری کردیا ہے۔گجرات کے رہائشی سید شجاعت کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ سرکاری ملازمتوں کے حوالے سے مستحق اورکم وسیلہ امیدواروں سے ٹیسٹ فیس نہ لینے کا جائزہ لیا جائے گااور اس ضمن میں ٹیسٹ فیس نہ لینے کا جائزہ لینے کیلئے طریقہ کار وضع کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل دی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 7برس کے دوران پنجاب حکومت نے تعلیم،صحت،پولیس اوردیگر محکموں میں لاکھوں افراد کو صرف اورصرف میرٹ پر ملازمتیں دی ہیں۔پنجاب حکومت میرٹ کو ہر شعبے میں یقینی بنا رہی ہے۔ کانسٹیبل، اساتذہ،ڈاکٹرزکی بھرتی کیساتھ دیگر شعبوں میں ملازمتیں سو فیصد میرٹ پر دی گئی ہیں۔ ملازمتوں کی فراہمی کے حوالے سے نجی شعبے کا کردارانتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ سرمایہ کاری کے فروغ سے صنعتی عمل تیز ہوتا ہے اور پرائیویٹ سیکٹر میں ملازمتوں کی زیادہ گنجائش ہوتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی کے ساتھ توانائی بحران کے خاتمے کیلئے سنجیدہ کاوشیں کی جارہی ہیں ۔ سابق ادوار میں بجلی کے منصوبے لگانے میں مجرمانہ غفلت برتی گئی۔ وزیراعظم محمد نوازشریف کے دور میں جتنا کام توانائی منصوبوں کیلئے ہوا اس کی مثال ملکی تاریخ میں نہیں ملتی۔ وزیراعلی نے کہا کہ2017-18ء میں توانائی منصوبوں کی تکمیل سے ہزاروں میگاواٹ بجلی مہیا ہوگی۔ بونے سیاستدانوں کو سیاست کا علم ہے نہ معیشت کا۔ یہ عناصر ملک میں استحکام چاہتے ہیں نہ ترقی۔ترقی کے سفر میں ان بونے سیاستدانوں کی منفی سوچ کا سایہ نہیں پڑنے دیں گے۔بجلی کے منصوبے لگنے سے سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا،صنعتیں چلیں گی اور پیداوار میں اضافہ ہوگا۔روزگار کی فراہمی کا تعلق بھی توانائی منصوبوں سے جڑا ہوا ہے ۔ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈورکے تحت توانائی کے منصوبوں کیساتھ پنجاب حکومت اپنے وسائل سے بھی بجلی کے کارخانے لگارہی ہے ۔ پنجاب میں نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کیلئے سکل ڈویلپمنٹ کے ایک بڑے پروگرام پرعملدر آمد کیا جارہا ہے ۔جنوبی پنجاب سے شروع ہونے والے اس پروگرام کا دائرہ کارپنجاب بھر میں پھیلا یا جارہا ہے ۔ ٹیوٹا اور پی وی ٹی سی کے ذریعے بھی نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضررویات کے مطابق ہنر مند بنانے پر توجہ دی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ2018ء تک کی شرح نمو میں اضافہ کی پالیسی کے تحت صوبے کے 20لاکھ نوجوانوں کوہنر مند بنانے کاہدف مقرر کیا گیا ہے ۔ 2برس میں ملک کی تقدیر بدل چکی ہوگی ۔لودھراں کے شہری انجینئر ایمن کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے پروگرام پر کا م شروع ہوچکا ہے ۔ آپ کے گاؤں میں بھی دوواٹر فلٹریشن پلانٹس لگ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عام آدمی کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے کیلئے اربوں روپے کے وسائل فراہم کیے گئے ہیں۔ 2015-16ء میں صاف پانی پراجیکٹ پر 15ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔پنجاب کے دیہات اورگاؤں میں جون2018ء تک پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔ اس منصوبے پر آئندہ اڑھائی برس میں 50ارب روپے کی خطیر رقم صرف کی جائے گی۔ دیہات میں بسنے والے چار کروڑ افرادکوپینے کے صاف پانی کی فراہمی ممکن ہوسکے گی۔پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے سے آلودہ پانے سے پھیلنے والی بیماریوں کی روک تھام ہوگی۔ سرگودھا کے شہری احمد نواز چٹھہ کے سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے بتایا کہ محکمہ آبپاشی صوبے کے سیم و تھور زدہ علاقوں کی بحالی کا جامع پروگرام بنایا ہے جس پر 25کروڑ روپے لاگت آئے گی جبکہ آپ کے علاقے میں بھی سیم و تھور کے مسئلے کے حل کیلئے کام شروع کردیاگیاہے۔ کبیر والا کے شہری احسن کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ زراعت کی ترقی اور کاشتکاروں کی خوشحالی کیلئے وزیراعظم محمد نوازشریف نے تاریخ ساز ریلیف پیکیج کا اعلان کیا ہے ۔ اس انقلابی پیکیج پر عملدرآمدسے چھوٹا کاشتکار اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگا۔ زرعی معیشت میں خوشحالی آئے گی، زرعی پیکیج کے ذریعے چھوٹے کاشتکار کو 147ارب روپے کا براہ راست فائدہ دیا گیا ہے ۔ ساڑھے بارہ ایکڑ تک چاول اورکپاس کے کاشتکار کو فی ایکڑ پانچ ہزار روپے دےئے جائیں گے۔ پوٹاشیم اورفاسفیٹ کھاد کی بوری 5سوروپے کم کی گئی ہے،زرعی آلات کی امپورٹ پر ڈیوٹی 43فیصد سے کم کر کے 9فیصد کردی گئی ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ زرعی ریلیف پیکیج پر اس کی روح کے مطابق عملدر آمد کریں گے۔ لاہور کے شہری علیم سلیم اورفیصل آباد کے شہری افتخار احمد کی جانب سے سے پوچھے جانے والے سوالا ت کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ آشیانہ سکیم میں الاٹمنٹ لیٹر نہ ملنے کی شکایت پر فوری انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے۔ الاٹمنٹ لیٹر میں تاخیر کسی صورت قابل قبو ل نہیں ہے۔ جس نے بھی تاخیر کی ہے اس کے خلاف تادیبی کارروائی ہوگی اور شکایت کافوری ازالہ کیا جائے گااور اس کو ٹیسٹ کیس بنائیں گے ۔راولپنڈی کے شہری حیدر کی جانب سے پوچھے جانے والے سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ فیصل آباد میں چار ہزار ایکڑ پر انڈسٹریل اسٹیٹ کے قیام کا پہلا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے اورصنعتیں لگ رہی ہیں جبکہ دوسرے مرحلے پر کام جاری ہے ۔ ملتان میں انڈسٹریل اسٹیٹ کووسیع کیا جارہا ہے جبکہ رحیم یار خان کی انڈسٹریل اسٹیٹ میں صنعتکاری کاعمل جاری ہے ۔ موٹر وے کے قریب قائد اعظم ایپرل پارک کے منصوبے کیلئے ساڑھے تین ارب روپے سے زمین خریدی جاچکی ہے ۔ اس منصوبے کے تحت گارمنٹس زون بنایا جائے گاجس سے روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا ہوں گے تاہم انڈسٹریل اسٹیٹ کیلئے بجلی بھی انتہائی ضروری ہے،یہی وجہ ہے کہ ساہیوال میں سی پیک کے تحت1320میگاواٹ کے کول پاور پلانٹ پر تیزرفتاری سے کام جار ی ہے ۔ 2017ء میں یہ منصوبہ بجلی پیدا کررہا ہوگا۔ قائداعظم سولر پارک بہاولپور میں سولر منصوبے پر بھی چینی سرمایہ کاری سے کام جاری ہے۔پنجاب میں گیس سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے لگائے جارہے ہیں ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ 2017ء کے اختتام تک لوڈ شیڈنگ کے اندھیرے بہت حد تک ختم ہوجائیں گے۔روزگار کے بے شمار مواقع پیدا ہوں گے اور ترقی کا پہیہ تیزی سے گھومے گا۔ عوام کی ترقی اور خوشحالی کیلئے تمام ترتوانائیاں صرف کررہے ہیں ۔سیاسی بونے ملک میں استحکام چاہتے ہیں نہ بجلی کے منصوبے۔ دوبارہ دھرنے دینے کی کوشش کرنے والوں کے سازشی عزائم سے قوم واقف ہے ۔18کروڑ عوام ملک کو دوبارہ اندھیروں میں دھکیلنے کی کوشش کرنے والوں کا ساتھ نہیں دیں گے۔قوم کی پائی پائی امانت سمجھ کر خرچ کررہے ہیں ۔ وہ دن دور نہیں جب یہ قوم ترقی کی راہ پر چلے گی اور ملک خوشحال ہوگا۔

مزید : صفحہ اول


loading...