کپتان، جارحانہ اننگز کے موڈ میں، الیکشن کمیشن کے ساتھ پولیس کو دھمکی!

کپتان، جارحانہ اننگز کے موڈ میں، الیکشن کمیشن کے ساتھ پولیس کو دھمکی!

  



تجزیہ:چودھری خادم حسین

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے سیاست کو بھی جدید دور کی کرکٹ بنا لیا اور ہر وقت جارحانہ موڈ میں رہتے ہیں اس سے ان کے چاہنے والوں اور کارکنوں کے حوصلے بلند ہوتے ہیں۔ ابھی گزشتہ روز انہوں نے لاہور میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا جو کوئی پولیس والا ان کو تنگ کرے اس کی تصویر بنا لیں اور ان (عمران) کو دے دیں پھر وہ خود ہی اسے دیکھ لیں گے۔ اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ مزید کہا وہ ضمنی انتخابات کی انتخابی مہم خود چلائیں گے اور ان کو کوئی نہیں روک سکتا۔ اس سلسلے میں یہ بات ان کے علم میں تھی کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے جو ضابطہ اخلاق جاری ہوا اس میں حکومتی عہدہ رکھنے والوں کے ساتھ جماعتی سربراہوں کو بھی انتخابی رنگ میں آنے سے منع کیا گیا ہوا ہے جسے لاہور ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دیا اور اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی گئی اور فیصلہ معطل کیا گیاجس کے بعد الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق جاری کیا کہ کوئی جماعتی سربراہ اور حکومتی عہدیدار انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکتے۔ اس پر وہ بہت برہم ہوتے ہیں اور عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔ اس سے قبل بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے تحریک انصاف کے امیدواروں کی دستبرداری کے باعث خواجہ حسان کے بلا مقابلہ وارڈ چیئرمین منتخب ہونے پر تلخی ہوئی اور ایک تصویر کے حوالے سے ایس ایس پی سی آئی اے عمر ورک پر الزام عائد کیا گیا تھا اور شاید پولیس والے کی تصویر بنانے کی ہدایت کا مقصد بھی انہی کو انتباہ کرنا تھا۔ یوں سیاست میں تلخی گھل رہی ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات سینٹر پرویز رشید نے کہا کہ عمران خاں اگر ضابطے اور قواعد تسلیم نہیں کریں گے تو پھر دنگل ہوگا۔

پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان تلخی بڑھ رہی ہے تو پیپلزپارٹی کی اپنی شکایات ہیں جن کے لئے وہ اب پارلیمینٹ کا فورم استعمال کرے گی اور اس کے بعد سڑکوں پر بھی احتجاج ممکن ہے۔ اس حوالے سے صورت حال مختلف ہے کہ پیپلزپارٹی احتساب کے عمل کو تسلیم بھی کرتی ہے اور پھر احتجاج بھی، اس کے لئے امتیازی سلوک کی بات کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ نہ صرف پیپلزپارٹی بلکہ سندھ حکومت کو دیوار کے ساتھ لگایا جا رہا ہے۔

یہ شکوہ، مطالبہ یا احتجاجی نظریہ اپنی جگہ، لیکن پیپلزپارٹی کا اپنا یہ حال ہے کہ تنظیمی ڈھانچہ مکمل نہیں، مفاہمت اور مزاحمت میں چپقلش جاری ہے اس وقت جماعت پر حکمرانی مفاہمت والوں کی ہے اور مزاحمت والوں کو آگے آنے کا موقع نہیں مل رہا اگرچہ فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ختم کر کے حقیقی اپوزیشن بننے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے تاہم تنظیمی تبدیلیوں کو مسلسل موخر کیا جا رہا ہے۔ اب بلدیاتی انتخابات کے پیش نظر یہ فلسفہ پیش کیا گیا ہے کہ اس وقت تبدیلی موضوع نہیں ہو گی اسے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد تک موخر رکھا جائے۔ یوں موجودہ عہدیدار پھر سے مُہر لگوا لائے ہیں۔

ایک طرف یہ حالات ہیں تو دوسری طرف بلوچستان میں سیاسی تبدیلیوں میں بہت تیزی آ گئی ہے کہ دسمبر میں وزیر اعلیٰ کی تبدیلی متوقع ہے اور مسلم لیگ (ن) میں وزارت اعلیٰ کے لئے دوڑ لگی ہوئی ہے اور کئی امیدوار ہیں جبکہ ڈاکٹر عبدالمالک نے اپنا قوم پرستی والا کردار اُجاگر کیا ہے۔ وہ گوادر پورٹ کا انتظام مانگ چکے اور صوبے کے وسائل بھی صوبائی کنٹرول میں چاہتے ہیں جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے جلسہ عام میں اختر مینگل نے بھی اسی پس منظر کے ساتھ جدوجہد کا اعلان کیا ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے وسائل پر بلوچوں کا حق ہے۔ یہاں سے افغان مہاجرین کی واپسی ہونا چاہئے اور بلوچستان کے بلوچوں اور پشتونوں کو سر اٹھا کر چلنے دیا جائے۔ چنانچہ یہ نئی صورت حال ہے اور اسی میں براہمداغ بگتی نے بعض شرائط اور مطالبات کی منظوری کے بعد ملک میں آکر قومی دھارے میں شامل ہونے کا عندیہ دے دیا ہے۔

آپریشن ضرب عضب، فراری مخالف آپریشن اور آپریشن کراچی ایک ہی سکے کے رخ ہیں اور ان حالات میں بہت زیادہ تحمل، فہم و ادراک اور بہتر حکمت عملی کی ضرورت ہے اور یہ بھی چاہئے کہ ڈائیلاگ کا سلسلہ شروع ہے تو اس کا تسلسل بحال کر کے حتمی نتائج تک مذاکرات جاری رہنا چاہئیں۔

مزید : تجزیہ


loading...