پرائیویٹ سکولوں کی فیسوں میں اضافہ روکنے کیلئے وزیر اعظم کی ہدایت پر عملدار آمد نہ ہو سکا

پرائیویٹ سکولوں کی فیسوں میں اضافہ روکنے کیلئے وزیر اعظم کی ہدایت پر عملدار ...

  



لاہور(لیاقت کھرل) پرائیویٹ سکولوں کی طرف سے فیسوں میں ہوشربا اضافے کو روکنے کیلئے وزیراعظم کے حکم پر کی جانے والی قانون سازی اورفوری اقدامات کی ہدایات پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔ایک ہفتہ گزرجانے کے باوجود لاہورسمیت پنجاب کے 80ہزار سے زائد نجی سکولوں میں فیسوں میں غیر قانونی اضافہ کے ذمہ دار کسی ایک سکول کے خلاف بھی کاروائی عمل میں نہیں لائی جاسکی۔محکمہ تعلیم اورضلعی انتظامیہ کے افسران نے وزیر اعظم کے احکامات پر کان دھرنے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کی۔محض سکولوں کے دورے کرکے ’’خانہ پری‘‘ کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔جس میں رسمی کاروائی کرکے’’ سب اچھا‘‘کی رپورٹس اوپر تک بھجوانے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔جس پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے سخت نوٹس لے لیا ہے ۔اورچیف سیکرٹری پنجاب اورسیکرٹری تعلیم سے باقاعدہ رپورٹ طلب کر لی ہے۔’’پاکستان‘‘ کو محکمہ تعلیم کے ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق وزیر اعظم پاکستان کے حکم پر پرائیویٹ سکولوں میں اضافی فیسوں کی وصولی کے خلاف اورسکولوں کی رجسٹریشن نہ کروانے پر کی جانے والی قانون سازی پر عملدرآمد ابتدائی مراحل میں بھی ناکام ہوکر رہ گیا ہے۔جس میں لاہور سمیت پنجاب بھر میں کمشنرز ،ڈی سی اوز اورای ڈی اوز کو اس حوالے سے ٹاسک دیا گیا ہے۔جس میں کمشنرز ،ڈی سی اوز جبکہ ای ڈی اوز نے ڈی سی اوز کو پرائیویٹ سکولوں کی انسپکشن کرنے کے احکامات دینے کے بعد خود کو بری الذمہ قرار دیا ہے۔جس پر ڈی سی اوزنے اس کے بعد تحصیل کی سطح پر اسسٹنٹ کمشنرز اور ڈی ای اوز سے ای اوز تعلیم کو ذمہ داری دے رکھی ہے۔جس کے بعد ایسے پرائیویٹ سکولز جن کا تعلق ایلیٹ کلاسز سے بتا یا گیا ہے اورلاہورکے 8200پرائیویٹ سکولوں سمیت پنجاب بھر میں قائم 80ہزار سے زائد پرائیویٹ سکولوں کے کلاف کاروائی محض ’’خانہ پری‘‘ کے مترادف ہے۔محکمہ تعلیم کے ذرائع نے بتا یا ہے کہ لاہورمیں آٹھ ہزار سے زائد پرائیویٹ سکولوں میں صرف چار ہزار کے قریب سکولز رجسٹرڈ ہیں ۔جس میں 2253سکولز ایجوکیشن بورڈ سے الحاق شدہ ہیں۔جس میں بتا یا گیا ہے کہ لاہور میں چھ ہزار کے قریب ایسے پرائیویٹ سکولز ہیں جن تک محکہ تعلیم اورایجوکیشن بورڈ کی رسائی تک نہیں ہے۔جبکہ اس کے ساتھ پنجاب بھر میں واقع80ہزار سے زائد پرائیویٹ سکولوں میں رجسٹریشن کی شرح 30سے 40فیصد بتا ئی گئی ہے۔جس میں فیصل آباد ریجن اور ملتان ریجن سمیت گوجرانوالہ اورسرگودھا ڈویژن میں 60سے70فیصد پرائیویٹ سکولز رجسٹرڈ تک نہیں ہیں۔اورطلبا وطالبات سے اپنی مرضی کی فیسیں وصول کر رہے ہیں۔جبکہ اس حوالے سے کی جانے والی قانون سازی پر عملدرآمد کیلئے بنائی جانے والی ٹیموں کے ارکان نے لاہور کے آٹھ ہزار سے زائد پرائیویٹ سکولوں میں سے صرٖ ف 50پرائیویٹ سکولوں کا معائنہ کر سکی ہیں۔اوراس میں بھی کسی ایک پرائیویٹ سکول کے خلاف کسی قسم کی کوئی کاراوائی نہیں کی جاسکی۔ذرائع نے بتا یا ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی کسی پرائیویٹ سکول کے مالک کو اضافی فیس کی شکایات پر نہ تو جرمانہ اورنہ ہی سکول کو سیل کیااورنہ ہی کسی سکول کے خلاف ایکشن لے کر اس کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا حکم دیا ہے۔اوراوپر بھجوائی جانے والی رپورٹس میں ’’سب اچھا‘‘ ظاہر کیا جا رہا ہے۔جس پر وزیر اعلیٰ نے سخت نوٹس لے لیا ہے اوراس پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب اورسیکرٹری تعلیم سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔اس حوالے سے محکمہ تعلیم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پرائیویٹ سکولوں کی انسپکشن کا سلسلہ روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے ۔اس میں لاہور سمیت پنجاب بھر میں 400سے زائد پرائیویٹ سکولوں کے مالکان کو نوٹسز بھجوائے جا چکے ہیں اورکاروائی کیلئے سفارشات ریجنل سطح پربنائی گئی کمیٹیوں کو ارسال کر دی گئی ہیں۔

پرائیویٹ سکولوں

مزید : صفحہ آخر


loading...