چاول اور کپاس زمینی سروے کا حکم ، پٹواریوں کاکام جونیئر ریونیو سٹاف کے سپرد

چاول اور کپاس زمینی سروے کا حکم ، پٹواریوں کاکام جونیئر ریونیو سٹاف کے سپرد

  



لاہور(عامر بٹ سے)صوبے بھر میں چاول اور کپاس کی کاشت کے اعدادو شمار کی ذمہ داری ایک بارپھر پٹوار کلچر سے وابستہ ریونیو سٹاف پر ڈال دی گئی ،ایئرکنڈیشنڈ کمروں کی دستیابی ،بہترین معقول تنخواہ اور پنجاب حکومت سے نوکری کے بدلے دیگر مراعات حاصل کرنے والے لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن سسٹم کا سٹاف اس ذمہ داری کو سنبھالنے سے قاصر نکلا ،ریونیو سٹاف کی ورکنگ،لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ سسٹم میں تعینات سٹاف کی جہاں کارکردگی عیاں کرگئی وہاں محکمہ ریونیو کے اعلیٰ انتٖظامی افسران کو بھی شرمندگی سے بچا گئی ،ریونیو سٹاف کے متبادل کام لینے کے دعوے کرنے والی گورنمنٹ کی ناکامی کا پول بھی کھل چکا ہے ، روزنامہ پاکستان کی جانب سے کئے گئے سروے کے دوران معلوم ہوا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے صوبے بھر کے ڈی سی اوز کو ہدایات کی گئی ہیں کہ وہ چند دنوں میں صوبے بھر کے موضع جات میں کاشت ہونے والی کپاس اور چاول کے اعدادوشمار تیار کرتے ہوئے تفصیلی رپورٹ مرتب کریں جس کے نتیجے میں ایک بار پھر صوبے بھر کے پٹواریوں کو یہ انتظامی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے ،وقت کی کمی اور جلد از جلد ذمہ داری کو پورا کرنے کے لئے صوبے بھر کا ریونیو سٹاف ایک مرتبہ پھر حرکت میں آگیا ہے اور دن رات کی مشقت اور سخت گرمی میں بھوک پیاس سے نڈھال ہوکر چاول اور کپاس کے زمینی سروے کو مکمل کرنے میں مصروف ہیں تاہم پٹواریوں کی جانب سے جاری ورکنگ کے دوران صوبے بھر میں کمپیوٹرائزیشن سسٹم میں تعینات سٹاف کی کارکردگی بھی اس دوران عیاں ہو چکی ہے جو کہ ریونیو سٹاف سے 3گناہ زیادہ تنخواہیں وصول کر رہے ہے ہیں ،ائیرکنڈیشنڈ کمرے استعمال کر رہے ہیں اور 8گھنٹے کے بعد سروس سنٹر ز کو تالے لگا کر اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو کر کسی بھی ایمرجنسی یا حکومتی ذمہ داروں کو خاطر میں نہ لارہے ہیں ڈی سی اوز کی میٹنگ کے دوران کمپیوٹرائزیشن سسٹم میں تعینات پڑھے لکھے سٹاف نے اس ذمہ داری کو قبول کرنے سے ہی صاف انکار کر دیا تھا محکمہ ریونیو کے اعلیٰ افسران کی جانب سے بھی یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ جس طرح کی انتظامی ذمہ داریاں ریونیو سٹاف سنبھالتا ہے اس کی مثال پنجاب کے کسی بھی ادارے یا دفاتر میں نہیں پائی جاتی ہے موجودہ حالات میں بھی وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف کی جانب سے کسان ریلیف پالیسی کے تحت جو ورکنگ ریونیو سٹا ف نے کی ہے اس ورکنگ نے بڑے بڑے افسران کو شرمندگی سے بچا لیا ہے جو کہ ایک تلخ حقیقت ہے۔دوسری جانب ریونیو سٹاف کی کثیر تعداد نے بھی انکشاف کیاہے کہ دوران سروے جو اعدادو شمار اکٹھے کئے گئے ہیں ان کو مینول وصول کرنے کی بجائے کمپیوٹرائزڈ طریقے سے تحریر کرواتے ہوئے فائل مرتب کرتے ہوئے پیش کرنے کی ہدایات کی ہیں اس پریکٹس کی وجہ سے پٹواریوں کو اپنے ذاتی جیب خرچ سے ہزاروں روپے ادا کرنے پڑ رہے ہیں کیوں کہ پنجاب حکومت کی جانب سے کمپیوٹرا ئزڈ طریقہ سے تحریر کی گئی رپورٹس کی تیاری کی مد میں ایک روپیہ بھی بجٹ نہیں دیا گیا ہے ریونیو سٹاف کا کہنا تھا کہ پنجاب بھر میں ہزاروں کی تعداد میں کمپیوٹرخریدے گئے ہیں مگر ان سے کام لینے کی بجائے پرائیویٹ طریقہ سے اپنی مدد آپ کے تحت ہمیں باہر دھکیل دیا گیا ہے جس کے باعث پرائیویٹ کمپیوٹر سسٹم کے ڈیٹا انٹری آپریٹرز اپنی مرضی کے ریٹ طے کرکے پیسے وصول کر رہے ہیں ،جبکہ انتظامی افسران کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم انتظامی ذمہ داری ریونیو سٹاف کے فرائض میں شامل ہے یہ کسی پے احسان نہیں کر رہے ہیں بلکہ جو ذمہ داری انہیں دی گئی ہے ان کو پورا کررہے ہیں ۔

مزید : علاقائی