صدیق بلوچ نااہلی سے متلق ٹربیونل فیصلہ کیخلاف اپیل باقاعدہ سماعت کے لئے منظور

صدیق بلوچ نااہلی سے متلق ٹربیونل فیصلہ کیخلاف اپیل باقاعدہ سماعت کے لئے ...

  



 لاہور(نامہ نگارخصوصی)سپریم کورٹ کے مسٹر جسٹس اعجاز احمد چودھری ،مسٹر جسٹس شیخ عظمت سعید اور مسٹر جسٹس عمر عطاء بندیال پر مشتمل بنچ نے این اے 154 لودھراں سے مسلم لیگ(ن)کے رکن قومی اسمبلی صدیق خان بلوچ کو نااہل اور ان کے انتخابات کوکالعدم کرنے سے متعلق الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف اپیل باقاعدہ سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے فریقین کے وکلاء کو حتمی بحث کے لئے طلب کرلیا ہے ۔دوران سماعت فاضل بنچ نے اپیل کنندہ کے وکیل کو مخاطب کرکے ریمارکس دئیے کہ اپیل کنندہ کی ڈگریوں کا معاملہ مشکوک لگتا ہے، آپ کب تک جھوٹ پر جھوٹ بولیں گے اور ہم سب کب تک جھوٹ پر پردہ ڈالتے رہیں گے۔فاضل بنچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں کیس کی سماعت کرتے ہوئے مزید ریمارکس دیئے کہ متاثرہ فریق کیسا قابل آدمی ہے کہ اس نے 43 برس کی عمر میں میٹرک کیا،اپیل کنندہ صدیق خان بلوچ کے وکیل شہزادشوکت نے موقف اختیار کیا کہ الیکشن ٹربیونل ملتان نے کسی ثبوت کے بغیر ہی صدیق بلوچ کی ڈگری کوجعلی قرار دے کر انہیں رکن اسمبلی کی رکنیت کے لئے نااہل قرار دے دیا، ٹربیونل کے فیصلے میں کہیں بھی کسی بھی ثبوت کاذکرنہیں ہے ،ٹربیونل کا فیصلہ معطل کرکے صدیق بلوچ کو بحال کیاجائے، فاضل بنچ نے ریمارکس دیئے کہ ٹربیونل نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ صدیق بلوچ نے کراچی سے سندھی میڈیم میں میٹرک کیا مگر انہیں سندھی بولنی نہیں آتی ، انٹرمیڈیٹ کراچی اور بی اے کی ڈگری بلوچستان سے حاصل کی اور ٹربیونل کا فیصلہ کہتا ہے کہ انہیں سندھی ، انگلش اور حتی کہ بلوچی بھی نہیں بولنی آتی ، ، شہزاد شوکت نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے ایک کیس میں تمام ارکان پارلیمنٹ کی ڈگریوں کی ہائر ایجوکیشن کمیشن سے تصدیق کروائی تھی ،اس عمل کے دوران صدیق خان بلوچ کی ڈگری بھی تصدیق کرائی گئی ،اس کے باوجود ٹربیونل نے ان کی ڈگری جعلی قراردے دی ، جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بادی النظر میں اپیل کنندہ کی ڈگریوں کا معاملہ مشکوک لگتا ہے، آپ کب تک جھوٹ پر جھوٹ بولیں گے اور ہم سب کب تک جھوٹ پر پردہ ڈالتے رہیں گے جس پر شہزاد شوکت ایڈووکیٹ نے کہا کہ فیصلہ کرنا عدالت کا اختیار ہے لیکن اگر ایک لفظ بھی جھوٹ ثابت ہو جائے تو وہ دوبارہ سپریم کورٹ سامنے پیش نہیں ہوں گے ، فاضل بنچ نے دلائل سننے کے بعد اپیل کو سماعت کے لئے منظور کرلیا جبکہ الیکشن کمیشن اور جہانگیر خان ترین کے وکلاء کو حتمی بحث کے لئے طلب کرتے ہوئے مزید سماعت29 ستمبر پر ملتوی کردی ۔فاضل بنچ نے قرار دیا کہ آئندہ تاریخ سماعت پر حکم امتناعی کی درخواست کا بھی فیصلہ کیا جائے گا ،عدالت نے خبر دار کیا کہ اس کیس کی سماعت ملتوی نہیں ہوگی اور کسی بھی فریق کی طرف سے التواء کی درخواست مسترد کردی جائے گی ۔

مزید : علاقائی


loading...