کراچی میں تفتیشی افسروں کو فنڈز فراہم نہ کرنے پر سپریم کورٹ کا اظہار برہمی

کراچی میں تفتیشی افسروں کو فنڈز فراہم نہ کرنے پر سپریم کورٹ کا اظہار برہمی
کراچی میں تفتیشی افسروں کو فنڈز فراہم نہ کرنے پر سپریم کورٹ کا اظہار برہمی

  



کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک )سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ کراچی میں آپریشن ہو رہا ہے ،لوگ شہید ہورہے ہیں اور آپ کو کشمور اور مٹیاری کی فکر ہے؟تفصیلات کے مطابق تفتیشی افسران کو فنڈزکی فراہمی سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سماعت ہوئی جس میں چیف سیکرٹری سندھ، آئی جی سندھ،سیکرٹری فنانس اور سیکرٹری داخلہ پیش ہوئے ۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے آئی جی فنانس سے استفسار کیا کہ کشمور، مٹیاری اور دادو کو تفتیش کی مد میں کتنی رقم فراہم کی گئی؟ آئی جی فنانس نے بتایا کہ کشمور کو1 کروڑ، مٹیاری کو 2 کروڑ، دادوکو ساڑھے 3 کروڑ فراہم کیے؟جسٹس امیر ہانی نے سوال کیا کہ کشمور کو اتنی رقم کیوں ادا کی گئی ؟تو آئی جی فنانس کا کہنا تھا کہ کشمور کا بارڈر بلوچستان سے لگتا ہے وہاں زیادہ ضرورت ہے جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا کراچی بلوچستان سے نہیں لگتا؟کراچی میں آپریشن ہو رہا ہے ،لوگ شہید ہورہے ہیں اور آپ کو کشمور اور مٹیاری کی فکر ہے؟عدالت نے حکم دیا کہ آئی جی آج ہی ٹریفک پولیس کا جاری کریں اور روپورٹ دیں ۔عدالت کا کہنا تھا کہ تفتیشی افسران فنڈز کے بغیر تفتیش کیسے کریں گے؟ساڑھے تین تین کروڑ ایک ضلع کو دیئے جا رہے ہیں ۔عدالت کا کہنا تھا کہ صرف ٹی وی اور اخبار میں بیانات دینے سے کچھ نہیں ہوتا۔

مزید : کراچی