دبئی کے نوجوان شہزادے کی موت کی کیا وجہ بنی؟برطانوی اخبار نے شرمناک دعویٰ کر دیا،ہنگامہ برپا کر دیا

دبئی کے نوجوان شہزادے کی موت کی کیا وجہ بنی؟برطانوی اخبار نے شرمناک دعویٰ کر ...
دبئی کے نوجوان شہزادے کی موت کی کیا وجہ بنی؟برطانوی اخبار نے شرمناک دعویٰ کر دیا،ہنگامہ برپا کر دیا

  



لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) جمعہ کے روز دبئی کے امیر شیخ محمد بن راشد المکتوم کے بڑے صاحبزادے شیخ راشد حرکت قلب بند ہوجانے سے جہان فانی سے رخصت ہوگئے اور اس المناک سانحے پر امت مسلمہ میں دکھ کی لہر دوڑ گئی۔ جہاں عالم اسلام اس موقع پر غمزدہ ہے وہیں مغربی میڈیا نے مرحوم شیخ راشد کی موت کی من گھڑت وجوہات بیان کرتے ہوئے ان کی شخصیت کے متعلق طرح طرح کی افسوسناک باتیں پھیلادی ہیں۔

جریدے ’ڈیلی میل آن لائن‘ کا کہنا ہے کہ اگرچہ شیخ راشد کی موت کی سرکاری وجہ دل کا دورہ بتائی گئی ہے مگر متحدہ عرب امارات میں اس طرح کا تاثر پایا جاتا ہے کہ شیخ راشد منشیات کے عادی ہوچکے تھے اور کچھ مضر صحت طاقت کی ادویات بھی استعمال کرتے تھے۔ جریدے کا کہنا ہے کہ وہ 2008ءکے بعد سے متحدہ عرب امارات کی سماجی زندگی سے غائب تھے اور خیال ظاہر کیا ہے کہ سماجی زندگی سے غائب تھے اور خیال ظاہر کیا ہے کہ زابیل پیلس میں انہیں محدود رکھ کر ان کا علاج کیا جارہا تھا۔ شیخ راشد نے صرف ایک کامیاب کاروباری شخصیت تھے بلکہ شاندار اتھلیٹ بھی تھے۔ جب 2006ءمیں انہوں نے گھڑسواری کے میدان میں گولد میڈل جیتے تو وہ قومی ہیرو بن گئے۔ وہ ولی عہد سلطنت کے عہدے پر بھی فائز تھے، لیکن پھر 2008ءمیں کچھ ایسا ہوا کہ وہ منظر عام سے غائب ہوگئے۔ انہیں ولی عہد کے عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ ان کے چھوٹے بھائی شیخ ہمدان کو فائز کردیا گیا۔ اخبار کا کہنا ہے کہ ماضی میں اس طرح کے الزامات سامنے آئے کہ شیخ راشد نے سٹیرائیڈ استعمال کررکھے تھے اور خود پر قابو نہ رکھ پاتے ہوئے انہوں نے ایک ماتحت کو قتل کردیا تھا۔ اسی طرح سی آئی اے کے لئے لکھے گئے ایک خفیہ میمو کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اس وقت قائم مقام کونسل جنرل ڈیوڈ ولیمز نے لکھا کہ شیخ ہمدان کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کے پیش نظر شیخ راشد کا پس منظر میں چلے جانا کوئی حیرانی کی بات نہ تھی۔ انہوں نے اپنی خفیہ کیبل، جو کہ وکی لیکس نے شائع کی، میں اشارہ کیا کہ زابیل پیلس میں پردے کے پیچھے بہت کچھ ہوتا تھا۔ اسی طرح جریدے کا کہنا ہے کہ ایک اور کیبل میں انڈرگراﺅنڈ رنگین پارٹیوں کا ذکر کیا گیا جن میں چرس، کوکین اور جنس کی فراوانی ہوتی تھی اور الزام لگایا گیا کہ ان پارٹیوں میں امراءاور خصوصاً اماراتی شہزادے شریک ہوتے تھے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ المکتوم فیملی کے ایک برطانوی ملازم کے مطابق 2009ءتک صورتحال اس قدر خراب ہوچکی تھی کہ شیخ راشد سے تمام اہم ذمہ داریاں واپس لے کر ان کا علاج شروع کروایا یا تھا۔ واضح رہے کہ جریدے نے ان تمام متنازعہ باتوں کو مختلف حوالوں سے منسوب کرتے ہوئے الزامات کی صورت میں بیان کیا ہے اور مغربی میڈیا میں اہم عرب شخصیات کے متعلق اس طرح کا پراپیگنڈہ پہلے بھی سامنے آتا رہا ہے۔

مزید : بین الاقوامی