متحدہ عرب امارات کی عدالت میں ایک ایسے مقدمے کی سماعت جس کی تفصیلات جان کر ہی سوشل میڈیا صارفین کی نیندیں اڑ جائیں

متحدہ عرب امارات کی عدالت میں ایک ایسے مقدمے کی سماعت جس کی تفصیلات جان کر ہی ...
متحدہ عرب امارات کی عدالت میں ایک ایسے مقدمے کی سماعت جس کی تفصیلات جان کر ہی سوشل میڈیا صارفین کی نیندیں اڑ جائیں

  



ابوظہبی (مانیٹرنگ ڈیسک) ٹیکنالوجی کی بے مثال ترقی کے بعد دنیا کو سائبر کرائمز کے چیلنج کا سامنا ہے۔ بعض مجرمانہ ذہنیت کے لوگ انٹرنیٹ پر بڑے بڑے فراڈ کر رہے ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف ممالک تیزی کے ساتھ سائبرکرائمز کے ساتھ نمٹنے کے لیے قوانین وضع کرر ہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات ان ممالک میں سرفہرست ہے جہاں سائبر کرائمزکے کئی مجرم سزا بھگت رہے ہیں اور اکثر کو عدالت کا سامنا ہے۔ ابوظہبی میں حال ہی میں 2فٹ بال کے کھلاڑیوں اور ایک ویب سائٹ کے مالک پر انٹرنیٹ پر شہریوں کی توہین کرنے، انہیں نقصان پہنچانے اور غیراخلاقی ویڈیوز شیئرکرکے اخلاقیات تباہ کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں اور انہیں کل عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

ایک موبائل ایپ جو آپ کو بڑے دھوکے سے بچا سکتی ہے

ان ملزمان میں سے ایک نے انٹرنیٹ پر شیئرکی گئی ویڈیو میں نازیبا الفاظ استعمال کیے ہیں جبکہ دوسرے نے وہ ویڈیو بنائی تھی۔ تیسرے ملزم پر اس ویڈیو کو اپنی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کا الزام ہے۔ابوظہبی پراسکیوشن پولیس نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ متحدہ عرب امارات کے سائبر کرائم لاءکے آرٹیکل 17کے تحت ان ملزموں کو سخت سے سخت سزا دے۔ واضح رہے کہ یو اے ای سائبر کرائم لاءکے تحت اخلاقیات اور شہریوں کے حقوق کے منافی کوئی بھی الیکٹرانک سائٹ میٹریل بنانے ، چھاپنے اور اسے چلانے والوں، اس کی نگرانی اور تشہیر کرنے والوں کے لیے کم از کم اڑھائی لاکھ درہم (تقریباً 71لاکھ روپے)اور زیادہ سے زیادہ 5لاکھ درہم (1کروڑ 42لاکھ روپے)جرمانہ اور کم از کم ایک سال قید کی سزا مقرر ہے۔

دبئی کے نوجوان شہزادے کی موت کی کیا وجہ بنی؟برطانوی اخبار نے شرمناک دعویٰ کر دیا،ہنگامہ برپا کر دیا

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...