بابا کے ساتھ جانا ہے ،ماں مجھے لے جاﺅ،گاڑدین کورٹ میں بچوں کی تحویل کے 3829کیس زیر سماعت

بابا کے ساتھ جانا ہے ،ماں مجھے لے جاﺅ،گاڑدین کورٹ میں بچوں کی تحویل کے 3829کیس ...
بابا کے ساتھ جانا ہے ،ماں مجھے لے جاﺅ،گاڑدین کورٹ میں بچوں کی تحویل کے 3829کیس زیر سماعت

  



لاہور(رپورٹ :کامران مغل )کبھی ماں ، کبھی باپ کا بچوں کو اپنی طرف کھینچنا، گارڈین عدالتوں میں رقت آمیز مناظر، سسکیوں اور آہوں بھری نگاہوں سے والدین بچوں کی راہ تکتے رہے ،بیشتر کو عید اپنے بچوں کے ساتھ منانے کا حکم نا مہ نہ مل سکا ، عید اپنے بچوں کے ساتھ منانے کی خواہش دل میں لئے متعدد افراد گھروں کو لوٹ گئے ،صرف ایک ہفتے میں لاہور کی گارڈئین عدالتوں میں305بچے علیحدگی اختیار کرنے والے اپنے والدین سے ملنے آئے۔ تفصیلات کے مطابق سال 2015ءکے پہلے 7ماہ( جنوری تا جولائی) کل3ہزار406نئے مقدمات دائرہوئے جبکہ اِس وقت کل3ہزار829کیسز زیر سماعت ہیں، گارڈئین اینڈ واڈز ایکٹ میں ترامیم کا نہ ہونا، صلح کروانے والے اداروں کی غیر موجودگی اور میاں بیوی کی آپس کی انا مقدمات میں اضافے کا اہم سبب ہیں ،گارڈین عدالتوں میں نئے مقدمات کے اندراج میں ہوش ربا اضافہ ہوتا چلا جارہاہے۔ روزنامہ "پاکستان "کی جانب سے کئے جانے والے سروے میں معلوم ہوا ہے کہ میا ں بیوی کے گھریلو جھگڑوں نے بچوں کی زندگی اجیرن کر کے رکھ دی ہے ۔ علیحدگی حاصل کرلینے کے بعد نہ تو انہیں آرام ہے اورنہ ہی ان کے بچوں کو۔ بچے ذہنی مریض بن کررہ گئے ہیں ۔آئے روز کی ملاقاتوںکی وجہ سے بچے اپنی تعلیم پر بھی توجہ نہیں دے پاتے ،کبھی باپ انہیں اپنی طرف کھینچتا ہے تو کبھی ما ں انہیں اپنی طرف کھینچتی ہے ، ان معصوموں کی زندگیا ں اپنے ہی ماں باپ کے جذباتی اور غلط فیصلوں کی وجہ سے تباہ ہو رہی ہیں، سروے کے دوران پانچوں گارڈین ججز کی عدالتوں کے باہر آویزاںکی گئی ملاقات کیلئے آنے والے بچوں کی روزانہ کی فہرست سے اکٹھی کی گئی معلومات کے مطابق پانچوں گارڈین ججز کی عدالتوں میں اس وقت ایک ہفتے میں 609خاندان متاثر ہورہے ہیں جبکہ صرف ایک ہفتے میںکل305 بچے اپنے والدین سے ملنے آتے ہیں ۔ جس سے اندازہ ہو تا ہے کہ ما ں باپ کی اس لڑائی میں بچے کس قدر پس رہے ہیں ۔ دوسری جانب اگر ہم عائلی عدالتوں میں دائر ہونیوالے مقدمات کی روز بروز بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھیں تو لاہور کی گارڈین عدالتوں میں سال 2015ءکے پہلے 7ماہ( جنوری تا جولائی)کل 3406نئے مقدمات درج ہوئے جبکہ پرانے کیسز کو شامل کرکے اِس وقت پانچوں گارڈئین عدالتوں میں کل3829کیسز زیر سماعت ہیں۔گارڈئین عدالت میں لاہور کے علاوہ دور دراز کے شہروں سے بھی لو گوں کی ایک کثیر تعداد آتی ہے ، علاوہ ازیں بیرون ملک سے آنیوالوں کی بھی ایک خاصی تعداد مو جود ہے ،جنہیں سفر کی تمام تر صعوبتیں برداشت کرنے کے باوجود بچے کی ایک جھلک بھی دیکھنے کو نہیں ملتی ۔ گزشتہ روز گارڈین عدالت میں اس حوالے سے بہت دردنا ک مناظر دیکھنے میں آئے ۔ بچوں کی آہ و بکانے رونگٹے کھڑے کردئیے۔ کہیں بچے سسکیوں اور آہوں میں یہ کہتے نظر آئے کہ "ابو مجھے گھر لے چلیں ''تو کہیں یہ کہتے نظر آئے کہ ''امی ،امی میں یہا ں نہیں رہ سکتا ، مجھے بھی اپنے ساتھ لے جاﺅ" ۔ لیکن کچھ ما ں باپ ایسے بھی تھے جو نہ جانے کتنے گھنٹے اپنے بچوں کی راہ تکتے رہے لیکن دوسرا فریق ان سے بچے ملوانے کے لئے نہیں لے کر آیا۔کئی ما ں باپ عید اپنے بچوں کے ساتھ منانے کی خواہش دل میں ہی لے کر چلے گئے اور انہیں عید اپنے بچوں کے ساتھ منانے کا حکم نا مہ نہ مل سکا، وہا ںآنے والے ہر میا ں بیوی کی کہانی ہی دلخراش ہے۔ گزشتہ 3سال سے گارڈین عدالت آنیوالے اشرف نے بتایا کہ میں نے جب بیوی کے ساتھ علیحدگی کے بعد بچے کے حصول کیلئے مقدمہ دائر کیا تو مقدمہ دائر کیے جانے کے 9ماہ بعد میری بچے سے ملاقات کا فیصلہ سنایا گیا ۔ مجھے ہر ما ہ کے تیسرے ہفتے میں دوگھنٹے کی ملاقات کے احکامات جا ری کیے گئے ۔ ان احکامات آنے کے بھی 105دن بعد میری بچے سے ملاقات ممکن ہو سکی ۔ 5، 5مہینے تک مخالف فریق بچہ عدالت میںپیش ہی نہیں کرتا ۔ اگر وہ بچہ لے بھی آئیں تو صرف اور صرف آدھے گھنٹے کیلئے ملواتے ہیں ۔ اس آدھے گھنٹے میں کیا کروں ؟اس دوران بھی بچے کی ما ں اور ساتھ آئے رشتہ داروں کی طرف سے بار بار مداخلت کی جا تی ہے جس کی وجہ سے میری چند منٹوں کی ملاقات کا بھی کچھ فائدہ نہیں ہو تاہے ، کیا میں پاکستان کا شہری نہیں ہوں ؟آخر میرے ساتھ یہ نا انصافی کیو ں ہورہی ہے ؟مجھے انصاف چاہیے ۔ 60سالہ بوڑھے سیموئیل مسیح نے اپنی بیٹی کے اجڑتے گھر کی داستان سنا تے ہوئے بتایا کہ میری بیٹی کے 4بچے ہیں ، اس کا شوہر7سال سے اس پر تشدد کر رہا ہے ۔صرف زبانی کلامی نہیں بلکہ باقائدہ مار پیٹ کر تا ہے ، جب بھی صلح صفائی کرکے بیٹی کو شوہر کے گھر بھیجتا ہو ں وہ پھر ما رپیٹ کرتا ہے۔ بہت مرتبہ اسے ہما رے گھر واپس بھیج چکا ہے ۔ لیکن میں اس معاملے پر ہمیشہ پنچائیت میں جا تا ہو ں ۔ پنچائیت نے 10مرتبہ فیصلہ دیا کہ شوہر کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کو ساتھ لے جائے اور اپنا گھر بسائے ۔ میں نے 10مرتبہ ہی پنچائیت کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے بیٹی کو شوہر کے گھر بھیجا لیکن شوہر پھر بھی جھگڑے پر تلا ہوا ہے ۔کچھ دن پہلے جب جھگڑا ہوا تو چھوٹا بچہ بیٹی کے ساتھ آگیا جس کے بعد لڑکے نے عدالت میں مقدمہ کردیا کہ بچہ بیوی سے لے کر مجھے دیا جائے ،انہوں نے مزید کہا کہ وہ تو بچہ بھی دینے کو راضی ہیں جو شوہر کہے وہی کرنے کو راضی ہیں لیکن ہما ری بیٹی کی زندگی برباد نہ کرے ، ہم نے علاقے کے کچھ معززین بھی اس کے گھر بھجوائے ہیں کہ نا راضگی ختم کردے لیکن وہ اس بات پر قطعی تیار ہی نہیں۔ اس حوالے سے سیکرٹری لیگل ایجوکیشن کمیٹی مدثر چودھری ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ گارڈئین اینڈ واڈز ایکٹ میں ترامیم کا نہ ہونا، صلح کروانے والے اداروں کی غیر موجودگی اور میاں بیوی کی آپس کی انا عائلی مقدمات میں اضافے کا اہم سبب ہیں ۔، مرزا حسیب اسامہ نے کہا کہ طلاق سے قبل عدالتوں کو چاہیے کہ وہ ان جوڑوں اور ان کے بزرگوںکو منانے کی ہر ممکن کوشش کریں تاکہ وہ مصالحت پر مجبور ہوجائیں۔، ارشاد گجر اورمجتبی چودھری کا کہنا تھا کہ مصالحتی نظام کی کمزوریوں کی وجہ سے لڑائی جھگڑے کے شکار یہ خاندان صلح صفائی کی بجائے ٹوٹ پھوٹ کا شکارہوجاتے ہیں حالانکہ اگر اسلامی عقائد کے مطابق لوگوں کو قائل کیا جائے تو کوئی بھی شخص اپنا ہنستا بستا گھرانا اجاڑنے کی بات ہرگزنہ کرے ۔

مزید : لاہور


loading...