’’شام کے لئے پیامِ صبح‘‘

’’شام کے لئے پیامِ صبح‘‘

آج کے موضوع کے انتخاب میں اِس قدر دشواری پیش آ رہی ہے کہ قلم لکھ رہا ہے، لیکن صفحہ پُر نہیں ہو رہا ہے۔ اس کی وجہ دُنیا بھر میں لمحہ بہ لمحہ صورتِ حال میں بڑھتی ہوئی بے چینی، اضطراب، تنازعات، تشدد، غربت، قدرتی آفات اور مذہبی و معاشرتی بے راہ روی کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری ہے۔ ’’بقر عید‘‘ گزری تو سوچا کہ قربانی کے نظام کو بہتر بنانے اور اجتماعی طور پر قربان گاہوں کی تعمیر کے منشور کے لئے کچھ لکھنا اور سمجھانا چاہئے، لیکن کیا کریں وہ قربانی کا گوشت جو فریزروں میں ذخیرہ کر دیا گیا ہے، اب تو وہ بھی بُرا نہیں لگتا، کیونکہ یہاں تو جانوں کے لالے پڑے ہیں۔

بس کچھ بن نہیں پا رہا کہ جمہوریت کو زندہ رکھیں یا خود کو جمہوریت کا ایک جُز سمجھ کر عالمی برادری کے آئینی ڈھانچے میں ڈھل جائیں۔ کرۂ ارض سکڑ کر قریب آ گیا ہے اور ہم بچھڑ رہے ہیں، اُجڑ رہے ہیں۔ گھروں سے بے گھر ہو کر رہ گئے ہیں

کام اُس سے آ پڑا ہے کہ جس کا جہان میں

لیوے نہ کوئی نام ’’ستمگر‘‘ کے بغیر

شام میں جنگ اور اس کی وجہ سے پناہ گزینوں کے بحران نے اِس قدر تشویشناک صورتِ حال اختیار کر لی ہے کہ ہر دوسرا شخص ’’اقوام متحدہ‘‘ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس، جہاں دُنیا بھر کے ممالک سے سربراہانِ مملکت اور اعلیٰ عہدیدار شرکت کے لئے نیو یارک پہنچ چکے ہیں، اِس مسئلے کے حل کی یقینی توقع لگائے بیٹھا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے آخری بار19 نومبر کو اِس اجلاس کی افتتاحی تقریب کا آغاز کیا۔ وہ ایک عشرہ اِس عہدے پر فائز رہنے کے بعد اِس سال کے آخر میں یہ عہدہ چھوڑیں گے۔ انہوں نے اپنی افتتاحی تقریر میں شام سے متعلق تمام معاملات اور تنازعات کو حل کرنے اور اُن کی بہتر صورتِ حال کی طرف توجہ دینے پر زور دیا۔انہوں نے یہ بھی یقین دلایا کہ اِس سال کے آخر تک اس سنگین انسانی مسئلے کا کچھ نہ کچھ حل ضرور حاصل کر لیا جائے گا۔ شام روز بروز بکھر رہا ہے، زخمی ہو رہا ہے اور ہلاکتوں سے دوچار ہو رہا ہے، اِسی لئے اِس اجلاس کا اہم ترین ایجنڈا ‘‘شام اور اُس کے پناہ گزین‘‘ ہی ہے۔ وہ چھ کروڑ لوگ جو اِس وقت ناگزیر حالات کے باعث اپنا گھر بار چھوڑ نے پر مجبور ہیں، اگر اِدھر بھی اُن کی بات نہ ہو تو پھر کون سا انصاف کا در کھٹکھٹایا جائے؟ جہاں پر انصاف ملنا تو کیا، بات کرنے کو بھی کوئی تیار نہیں۔ شام کی موجودہ صورتِ حال کے باعث ایک بیس(20) رکنی ممالک اور شام کے بین الاقوامی حمایت گروپ کی تنظیموں نے منگل، یعنی20ستمبر کو تفصیلی ملاقات کی،جس میں انہوں نے شام کے حالات کا جائزہ لیا اور اگلے چند روز بعد اس پر مزید بات چیت کرنے کی تجویز پیش کی۔اس19رکنی اجلاس میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف بھی شامل رہے اس خطے میں جنگ بندی کو ہر صورت ممکن بنانے کی حمایت پر زور دیا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اجلاس کو یہ بھی بتایا کہ پناہ گزین اور تارکین وطن کو ایک بوجھ کے طور پر نہ دیکھا جائے، ہمیں ہر صورت میں ان لوگوں کے انسانی حقوق کو اپنے عزم میں مقدم رکھنا ہو گا۔ اِس موقعہ پر نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے بھی یہ بیان دیاکہ ’’پناہ گزین بچے‘‘ زیادہ کی امید لگائے بیٹھے تھے، وہ زیادہ کے حقدار ہیں‘‘۔۔۔ دوسرے روز کے اجلاس میں جو بات نہایت غور طلب اور توجہ کا مرکز بنی، وہ تھی اوباما کا عالمی سیاست کے بارے میں تفصیلی بیان۔ صدر اوباما جو جنوری میں اپنے آٹھ برس کے دور صدارت کی اپنی میعاد مکمل کریں گے۔ یہ اقوام متحدہ میں اُن کا بطورِ صدر آخری خطاب ہے۔انہوں نے اپنے جرأت مندانہ خطاب میں صاف صاف بیان دیا کہ ہم سب کو تعاون، یکجہتی کے بہترمعیار کا انتخاب کرنا ہو گا۔ ہمیں قبیلوں، ممالک، نسلوں اور مذہب کی بنیاد پر تقسیم نہیں کیا جانا چاہئے۔ مُلک کے اندرونی حالات کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مُلک سے شدید غربت کو کم کرنے کی کوشش کی، ایرانی جوہری تنازع کو حل کیا، کیوبا کے ساتھ تعلقات بحال کئے، انہوں نے صحافیوں کی آوازوں کو دبانے کے خلاف آواز اٹھائی اور اختلاف رائے کو جہاں جہاں برداشت نہیں کیا جا رہا اُس کی مذمت کی، جبکہ شام کے بارے میں انہوں نے واضح طور پر بیان دیا کہ شام کے بحران کا حل فوجی نہیں ہے، بلکہ سفارتی حل تلاش کرنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ دیواروں کی تعمیر سے معاشروں پر اثرات کو روکا نہیں جا سکتا۔انہوں نے مہاجرین کو ہر صورت میں بین الاقوامی برادری میں مساوی طور پر قبول کرنے پر زور دیا۔ اوباما کا یہ پُراثر خطاب 45منٹ جاری رہا، جس میں انہوں نے اِس بات کا بغور جائزہ لینے پر زور دیا کہ ’’بیشتر ممالک اِن تارکین وطن پر اپنی سرحدیں بند کرتے بھی نظر آتے ہیں، اُن کے اِس بیان سے نہ صرف امریکہ کے آنے والے الیکشنوں، بلکہ اُس کے نتائج پر بھی گہرا اثر پڑے گا۔ یاد رہے کہ سوویت افغان جنگ کے دوران پاکستان نے اپنے نامساعد حالات کے باوجود بڑی تعداد میں افغان مہاجرین کی کثیر تعداد کو انسانی ہمدردی اور اسلامی بھائی چارے کی بنیاد پر خوش آمدید کہا، لیکن سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ شام کا مسئلہ پناہ گزینوں سے بڑھ کر بڑی طاقتوں کی رسہ کشی کا میدان ہے اس کو کیسے حل کیا جائے۔

نہ چہرہ ہی بدلتا ہے نہ کوئی سر بدلتا ہے

وہ ظالم صرف اپنے ہاتھ کا پتھر بدلتا ہے

بڑی تبدیلیاں ہوتی ہیں انسانوں کی بستی میں

پرندہ کوئی دیکھا ہے جو اپنا گھر بدلتا ہے

مزید : کالم


loading...