گرم مرطوب سیاسی موسم میں خوشگوار ہوا کا جھونکا!

گرم مرطوب سیاسی موسم میں خوشگوار ہوا کا جھونکا!
 گرم مرطوب سیاسی موسم میں خوشگوار ہوا کا جھونکا!

  


گرم مرطوب موسم میں ٹھنڈی ہوا کا خوشگوار جھونکا بھی آ جائے تو ہائی بلڈ پریشر کے مریض کے منہ سے بھی فوراً نکل جاتا ہے، شکر الحمدللہ، یہی کیفیت آج ہماری ہے کہ صبح جب اپنے اخبار پر نظر پڑی تو سب سے پہلی خبر ہی ٹھنڈی ہوا کے مترادف تھی، اس کی سرخی نے بھی دل کھینچ لیا ’’مسلم لیگی مشتعل نہ ہوں، تحریک انصاف کے کارکن ہمارے بچے ہیں، ان کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے، شہباز شریف‘‘ خبرکے متن سے مزید تسلی ہوئی کہ وزیراعلیٰ نے مسلم لیگی کارکنوں کو خبردار کیا کہ وہ پرامن رہیں کہ جو کوئی بھی قانون کی خلاف ورزی کرے گا اس کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا۔ موجودہ ماحول میں جب بات ڈنڈوں، برچھوں اور بلوں تک پہنچی اور سرعام ڈنڈ بیٹھک لگا اور مونچھوں کو تاؤ دے کر سلطان راہی بننے کی کوشش کی جارہی ہو انڈوں اور گندے ٹماٹروں کی مشق جاری ہو، حتیٰ کہ دونوں اطراف سے خواتین بھی ان بھڑک بازوں کے ساتھ شامل ہو چکی ہوں تو پھر صورت حال کا جائزہ لیا جا سکتا ہے ایسے میں ہمارے الیکٹرونک میڈیا نے بھی کمال کر دیا کہ مسلم لیگی اور تحریک انصاف کے کارکنوں کے ایسے مظاہروں کے ساتھ فلموں کے کلپس اور گانوں کے بول چلائے جاتے رہے۔ یوں جلتی پر تیل کا کام کیا گیا، محترم طلال چودھری بھی چہرہ سرخ کرکے بات کرتے رہے اور ہمارے پیارے زعیم قادری کے منہ سے توجھاگ نکل رہی تھی۔عابد شیر علی کا نہ پہلے جواب تھا اور نہ اب کوئی ہے۔ رہ گئے عمران خان تو انہوں نے سیاست میں جو طرز کلام متعارف کرایا اس پر کئی کالم سیاہ کئے جا چکے ہوئے ہیں اور خود عمران خان کے دوست لکھاری بھی ان کو منع کرتے چلے آئے۔ بڑی مشکل سے وہ ’’اوئے، اوئے‘‘ کرنے سے باز آئے لیکن انداز بیان عادت بن چکا اس لئے رک نہیں سکتے، اس مرتبہ انہوں نے کہہ دیا، کسی نے روکنے کی کوشش کی تو وہ مار پڑے گی کہ یاد کریں گے، پھرکہاں تھانوں کے باہر مظاہروں کی قیادت وہ خود کریں گے اور فرزند راولپنڈی کا تو کہنا ہی کیا، وہ تو ہمیشہ چھیڑ پھاڑ کر بولتے ہیں اور لاہور کے شائقین جلسہ نے ان کو ’’شیدا ٹلی‘‘ کا لقب دے رکھا ہے اور تو اور جہانگیر ترین بھی اپنی کمزور اور شریفانہ زبان میں دھمکی ہی دیتے چلے گئے۔

اس ساری صورت حال میں ماحول گرم ترین ہو گیا ہمارے سمیت سبھی تشویش میں مبتلا ہیں کہ خدانخواستہ بات تصادم تک نہ پہنچے کہ ایک مرتبہ کا جھگڑا بات کہین سے کہیں پہنچا دیتا ہے۔ ان حالات میں ہم تو بار بار تحمل کی گزارش ہی کرتے چلے آ رہے ہیں، اس لئے جب یہ خبر نظر سے گزری تو منہ سے ایک ٹھنڈی سانس خارج ہوئی جو اطمینان کی تھی کہ کم از کم وزیراعلیٰ اور وہ بھی شہباز شریف نے اپنے کارکنوں کو روکا اور پھر قانون کی عمل داری کی بات بھی کر دی۔ہم نے انہی سطور میں عرض کیا تھا کہ اگر سیاسی جماعتوں میں تصادم ہو تو اس کا نقصان برسراقتدار حضرات ہی کو ہوتا ہے کہ مخالفین کے پاس تو کھونے کے لئے کچھ بھی نہیں ہوتا، ہمیں یہ بھی یقین ہے کہ وزیراعلیٰ نے یہ بات نہ تو رواداری میں کی اور نہ ہی ان کی میڈیاٹیم کاکمال ہے، بلکہ وہ دل سے یہ کہہ رہے ہیں کہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو بھی ہیں، ان کو اپنی حمایت کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کی ساکھ کا بھی خیال ہے اور یوں اب گرما گرمی کم ہوتی چلی جائے گی یہ بات بھی محل نظر ہے کہ ان حضرات کا مسلم لیگ (ن) کی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں اور کارکنوں کے جذبات کا اظہار ہے، یہ بات اور کسی نے نہیں طلال چودھری نے کہی ہے، حالانکہ وزیراعلیٰ اپنے بیان میں بالکل واضح ہیں انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں ہی کو مخاطب کیا ہے۔ یقین ہے کہ دوسری طرف سے بھی ایسا ہی پیار بھرا جواب آئے گا۔

ویسے جہاں تک عوامی حمائت کے مظاہرے کا تعلق ہے تو گزشتہ روز ایک معاصر میں شائع ہونے والی خبر نے بہت متاثر کیا کہ اس علاقے (رائے ونڈ، نیاز بیگ وغیرہ) کے قومی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان دو سگے بھائیوں نے آدھے لاکھ لوگوں کو مدعو کرکے دکھا دیا، خبرکے مطابق قومی اسمبلی کے رکن ملک محمد افضل کھوکھر اور ان کے بھائی رکن صوبائی اسمبلی سیف الملوک کھوکھر نے ایک دعوت ولیمہ منعقد کی جس کے مدعوئین کی تعداد ہی چالیس ہزار تھی۔ یہ تقریب سیف الملوک کی صاحبزادی عروج فاطمہ کی رخصتی اور صاحبزادے فیصل کھوکھر کی دعوت ولیمہ کی تھی جو لیک سٹی ہاؤسنگ سکیم رائے ونڈ روڈ پر منعقد کی گئی۔ میزبانوں کی طرف سے معززین اور رشتہ داروں کے علاوہ حلقے کے سرگرم کارکنوں کو بھی باقاعدہ دعوت ناموں کے ذریعے مدعو کیا گیا تھا۔ سپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال اور رکن قومی اسمبلی اور مسلم لیگ (ن) لاہور کے صدر پرویز ملک کے علاوہ بھی اراکین اسمبلی اور جماعت کے عہدیدار موجود تھے۔ خبر کے مطابق شادی کے لئے ایک خصوصی پنڈال کے ساتھ آٹھ پنڈال اور بنائے گئے ہر ایک میں پانچ ہزار کرسیاں تھیں، پارکنگ کا الگ انتظام اور درجہ بندی سے کیا گیا۔ پولیس اور ٹریفک وارڈنز مستعد تھے۔ خبر نگارنے گھوڑوں کے ڈانس اور بھنگڑے وغیرہ کے ساتھ خصوصی طور پر بتایا ہے کہ سنگل ڈش سے تواضع کی گئی اور سیف الملوک کھوکھر نے کہا میری یہ خواہش تھی کہ بیٹے کا ولیمہ میلے کی طرح کروں۔ محترم خبر نگار نے یہ تو نہیں بتایا کہ کھانا کھاتے وقت کیا کیفیت تھی کہ اتنے بڑے ہجوم میں سکون تو ممکن نہیں۔ بہرحال تقریب (میلہ) شادی بخیریت ہو گئی اور اپنے پیچھے یہ سوال چھوڑ گئی کہ کیا شادی بیاہ میں مہمانوں کی تعداد پر تو کوئی قدغن نہیں، ویسے اب یہ ایف بی آر والوں کا بھی مسئلہ ہے کہ وہ اس سے ویلتھ کا نتیجہ اخذ کرکے دیکھیں کہ ویلتھ ٹیکس بھی جمع ہوا یا نہیں؟

کوئی کچھ بھی نتیجہ نکالے ہمارے نزدیک تو یہ مظاہرہ عوامی حمایت کا ایک اچھاطریقہ ثابت ہوا کہ اسی رائے ونڈ میں جو عمران مارچ کا نشانہ ہے، اتنے ہزاروں لوگوں کو اکٹھا کرکے پرامن حمائت ظاہر کر دی گئی کیا عمران خان ایسا کریں گے؟یہ تسلی ضرور ہوئی کہ اب جوش پر ہوش غالب آنے لگا ہے اور رائے ونڈ کی طرف مارچ بھی پرامن ہوگا اور کوئی ہنگامہ تازہ نہیں ہو سکے گا کہ شاید سبھی اس ضرورت کو محسوس کرنے لگے ہیں۔

مزید : کالم


loading...