زاہد ملک اور ترویجِ نظریۂ پاکستان

زاہد ملک اور ترویجِ نظریۂ پاکستان
 زاہد ملک اور ترویجِ نظریۂ پاکستان

  


آج مجھے ہفت روزہ ’’حرمت‘‘ اسلام آباد کے ایڈیٹر زاہدملک مرحوم بہت یاد آرہے ہیں۔ وہ زاہد ملک جو اصحابِ فکر و نظر میں بہت اونچا مقام رکھتے تھے۔ وہ زاہد ملک جن کی صحافت نے اہل قلم کے وقاراور اعتبار میں اضافہ کیا۔ اللہ اور اللہ کے آخری رسولؐ، قرآن کریم، فرمودات رسولؐ، اسلام اور پاکستان سے زاہد ملک دیوانگی کی حد تک محبت کرتے تھے۔ پاکستان کی نظریاتی شناخت کے حوالے سے بھی زاہد ملک کا نقطۂ نظر بہت واضح، بہت روشن، غیر مبہم اور دو ٹوک تھا۔ وہ بہت نرم اور دھیمے مزاج کے انسان تھے۔ ان کی تحریروں کا لہجہ بھی حد درجہ نرم و ملائم ہوتا تھا۔ لیکن نظریۂ پاکستان کے مخالفین اور ارشاداتِ قائد اعظمؒ کو توڑمروڑ کر پیش کرنے والے سیکولر طبقے کا ذکر آتا تو زاہد ملک کے غصے کا عالم دیکھنے والا ہوتا۔ ان کی آخری علالت سے چند ماہ پہلے اسلام آباد میں میری ان سے ایک طویل ملاقات ہوئی۔ چونکہ وہ نظریۂ پاکستان کونسل کے چیئرمین تھے اورنظریۂ پاکستان کے موضوع پر وہ تواتر کے ساتھ مجھے سیالکوٹ اور لاہور میری دونوں رہائش گاہوں پر نظریۂ پاکستان کونسل کے زیر اہتمام شائع ہونے والی کتابیں بھی ارسال فرما دیتے تھے، اس لئے نظریۂ پاکستان کونسل کی سرگرمیاں ہی ہمارا موضوع گفتگو تھیں۔ 17ستمبر2016ء کے ایک معاصر اخبار میں ’’قائد اعظمؒ کے وژن سے انحراف‘‘ کے موضوع پر جب میں نے ایک مضمون پڑھا تو مجھے زاہد ملک کے ساتھ ہونے والی آخری ملاقات میں ان کی گفتگو کا ایک ایک لفظ یاد آنے لگا۔ پہلے آپ معاصر اخبار میں شائع ہونے والے مضمون کا یہ اقتباس پڑھ لیں۔’’ قائد اعظمؒ کا وژن اور بیانیہ بڑا واضح اور غیر مبہم تھا:قائد اعظمؒ کو پورا ادراک تھا کہ مسلمان مذہب کے بارے میں بڑے جذباتی اور حساس ہیں، مگر بد قسمتی سے کئی فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ لہٰذا لازم ہے کہ سیاست کو مذہب سے الگ رکھا جائے‘‘۔

مضمون نگارنے قائد اعظم کی 11اگست 1947ء کی تقریر کا حوالہ دے کر یہ موقف بھی اختیار کیا ہے کہ قائد اعظمؒ مذہب کا اور ریاست کے کاروبار سے کوئی تعلق رکھنے کے حق میں نہیں تھے۔ زاہد ملک مرحوم کے بقول مذہب کو مملکت یا سیاست کے امور شامل نہ کرنے کا واضح مطلب یہ ہے کہ پاکستان کو سیکولر ریاست بنا دیا جائے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر قائد اعظمؒ مذہب کو خدا اور انسان کے درمیان ایک پرائیویٹ معاملہ سمجھتے تھے اور کاروبار مملکت میں وہ اسلام کے عمل دخل کو پسند نہیں کرتے تھے، تو پھر مسلمان قومیت کو بنیاد بنا کر قائد اعظمؒ نے پاکستان کا مطالبہ کیوں پیش کیا؟ زاہد ملک نے کہاکہ اگر کسی خارجی گمراہ کن تحریک سے متاثر ہوئے بغیر تحریک پاکستان کے پس منظر اور بانیانِ پاکستان علامہ اقبالؒ اور قائد اعظمؒ کے اقوال کا دیانت داری اور منصف مزاجی کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ تحریک پاکستان اور قیام کی بنیاد اسلام ہے۔ حیران کن بات ہے کہ تحریک پاکستان کے دور میں اکھنڈ بھارت کے جتنے بھی حامی اور قیام پاکستان کے جتنے بھی مخالفین تھے، وہ سب یہی نقطۂ نظر رکھتے تھے کہ مذہب کا سیاست اور ریاست کے امور سے کوئی تعلق نہیں بنتا اس لئے مسلم قومیت کی بنیاد پر قیام پاکستان کا مطالبہ غلط ہے اور اب پاکستان میں اسلام کو پاکستان کے امور مملکت سے الگ رکھنے کا حامی نام نہاد آزاد خیال طبقہ بھی یہ پروپیگنڈہ کررہا ہے کہ قائد اعظمؒ پاکستان کو ایک سیکولر ریاست بنانا چاہتے تھے۔اس صورت حال پر زاہد ملک مرحوم کا تجزیہ کچھ یوں تھا :’’ پاکستان کو سیکولر ریاست بنانے کے ایجنڈے پر کام کرنے والے دراصل اسی نقطۂ نظر کو آگے بڑھا رہے ہیں جو نقطۂ نظر قیام پاکستان کی مخالف ہندو قیادت کا پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے پہلے تھا۔ گویا سیکولر طبقہ قیام پاکستان کی بنیاد کو مشکوک اور متنازعہ بنا کر اسے ختم کرنے کے درپے ہے۔

زاہد ملک سیکولر ازم کے علمبردار بگڑے ہوئے دانشوروں کو بتاتے ہیں کہ قائد اعظمؒ کے افکار میں قرآنی تعلیمات، ارشادات نبوی،ؐ اسلام اور دو قومی نظریے کا بار بار ذکر آتا ہے۔ پاکستان کے دستور کے حوالے سے بھی قائد اعظمؒ نے یہ فرمایا تھا کہ وہ اِسلام کے بنیادی اصولوں کا آئینہ دار اور جمہوری اقدار پر مبنی ہوگا کیونکہ اسلام ہمیں وحدتِ انسانیت اور ہر ایک کے ساتھ عدل و دیانت کی تعلیم دیتا ہے۔ زاہد ملک کا کہنا تھا کہ قائد اعظمؒ جس طرح سیکولر ازم کے خلاف تھے، اسی طرح تھیوکریسی کے بھی خلاف تھے، کیونکہ اسلام میں سیکولر ازم ہے اور نہ ہی تھیو کریسی۔ اسلام میں مذہبی پیشواؤں کے کسی مخصوص گروپ کی حکمرانی کا تصور نہیں ،بلکہ ایک اسلامی ریاست میں قرآن کے اصولوں اور احکام کو بالا دستی حاصل ہوتی ہے۔۔۔ جس مضمون نگار کی تحریر پڑھنے کے بعد مجھے نظریۂ پاکستان کی حمایت میں زاہد ملک کے دلائل یاد آگئے۔ اس مضمون نگار نے بھی یہ تسلیم کیا ہے کہ قائد اعظمؒ نے 25جنوری 1948ء کو یہ فرمایا تھا:’’ پاکستان کے آئین کی بنیاد شریعت اور اسلام کے سنہری اصولوں صداقت، دیانت، اخلاقیات، اخوت، مساوات اور عدل و انصاف پر رکھی جائے گی۔۔۔‘‘ یہاں میں انتہائی احترام سے اپنے مضمون نگار دوست کی خدمت میں یہ گزارش کروں گا کہ اگر قائداعظمؒ کا صرف یہ فرمان ہی،جو خود انہوں نے اپنے مضمون میں پیش کیا ہے، سیکولر طبقے کے سامنے رکھ دیا جائے تو ان کی وہ تمام باتیں بے وزن اور بے بنیاد ثابت ہو جاتی ہیں جو وہ پاکستان کو سیکولر ریاست بنانے کے حوالے سے کرتے ہیں۔ جس ریاست کے دستور کی بنیاد شریعتِ اسلامیہ کے سنہری اصولوں پر رکھنا قائداعظم ؒ کا ویژن ہو، وہ سیکولر ریاست کیوں کر ہو سکتی ہے؟

حیرت ہے کہ ہمارے ساتھی مضمون نگار کو علامہ اقبالؒ کی فکر اور سوچ بھی کچھ اس نوعیت کی دکھائی دیتی ہے کہ وہ بھی مذہب کو سیاست میں شامل کرنے کے خلاف تھے۔ بقول زاہد ملک مرحوم علامہ اقبالؒ اسلام کو مذہب نہیں، بلکہ دین کے طور پر دیکھتے تھے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ اسلام علامہ اقبالؒ کے نزدیک ایک ضابطہ حیات تھا جو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام گوشوں پر محیط ہے۔ علامہ اقبالؒ نے 1930ء میں اپنے مشہور خطبۂ الٰہ آباد میں بھی یہی فرمایا تھا کہ اسلام بندے اور خدا کے درمیان ایک روحانی واسطہ نہیں، بلکہ ایک نظام حیات ہے۔ علامہ اقبالؒ جب یہ فرماتے ہیں:

جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ علامہ اقبال نے ذاتی زندگی کے علاوہ ہمیں اپنی اجتماعی اور معاشرتی زندگی میں بھی اسلام سے راہنمائی لینے کا درس دیا تھا۔ جب قائداعظمؒ یہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’پاکستان سے ہماری مراد صرف یہ نہیں کہ ہم غیرملکی حکومت سے آزادی چاہتے ہیں، بلکہ اس سے حقیقی مراد مسلم آئیڈیابوجی کی حفاظت ہے۔ ہم نے نہ صرف آزادی حاصل کرنا ہے، بلکہ اس قابل بھی بننا ہے کہ ہم اپنی آزادی کی حفاظت کر سکیں اور اسلامی تصورات اور اصولوں کے مطابق زندگی بسر کر سکیں‘‘۔۔۔ تو اس سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ دین اسلام کے حوالے سے قائداعظمؒ بھی علامہ اقبالؒ کی اس فکر سے متفق تھے کہ اسلام صرف بندے اور خدا کے درمیان پرائیویٹ تعلق کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک نظام حیات ہے اور یہ نظام نافذ کرنے کے لئے ہی پاکستان حاصل کیا گیا تھا۔

زاہد ملک مرحوم کا یہ بھی موقف تھا کہ قائداعظمؒ نے اپنی تقاریر میں کئی بار غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق اور ان کے ساتھ اسلام کی تعلیمات کے عین مطابق حسنِ سلوک کی بات کی۔ قائداعظمؒ بلا لحاظ مذہب و ملت تمام پاکستانی شہریوں کیلئے مساوی حقوق کے علمبردار تھے، لیکن اس سے یہ مطلب نکالنا کہ قائداعظمؒ ایک سیکولر اندازِ حکومت کے حامی تھے، سراسر گمراہی کی بات ہے۔ قائداعظمؒ پر اس سے بڑا اور کوئی الزام عائد ہی نہیں کیا جاسکتا کہ جس مملکت پاکستان کی بنیاد انہوں نے اسلام پر رکھی تھی۔ تخلیقِ پاکستان کے بعد قائداعظمؒ نے قیام پاکستان کی بنیاد کو فراموش کرکے یہ فیصلہ کر لیا تھاکہ اب اسلام کا مملکت کے کاروبار سے کوئی واسطہ نہیں ہوگا۔ تحریک پاکستان کی بنیاد ہی مسلم قومیت تھی اور اسلام ہی کی بنیاد پر ملت اسلامیہ حصولِ پاکستان کے عظیم مقصدمیں کامیاب ہوئی تھی۔ زاہد ملک مرحوم نے مجھے کہاکہ اسلام کے بغیر پاکستان کا تصور اور تصویر مکمل ہی نہیں ہو پاتے۔ پاکستان جس دو قومی نظریئے اور اسلام کی بنیاد پر معرضِ وجود میں آیا تھا، وہ نظریہء اسلام ہی پاکستان کی بقا، سلامتی اور استحکام کا ضامن ہے۔ اگر اسلام کو پاکستان کے وجود سے خارج کر دیا جائے تو یہ حملہ اسلام کے خلاف نہیں، پاکستان کی سلامتی پر ہوگا۔ اب میں یہاں زاہد ملک کے قدرے سخت الفاظ دہرانا چاہتا ہوں جو انہوں نے سیکولر طبقے کے حوالے سے استعمال کئے۔ انہوں نے کہا کہ دو قومی نظریے کے پس منظر کو سمجھنے کے لئے اگر علامہ اقبالؒ کے خیالات اور قائداعظمؒ کی بہت ساری تقاریر اور دوٹوک بیانات کا مطالعہ کیا جائے، پھر بھی یہ نتیجہ نکالا جائے کہ قائداعظمؒ اپنے ذہن میں ایک سیکولر ریاست کا تصور رکھتے تھے تو پھر ایسے برخود غلط لوگوں کی عقل و فکر پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔

قائداعظم ؒ نے اپنی پوری سیاسی زندگی میں سیکولر ازم کا لفظ استعمال بھی نہیں کیا۔ اس کے برعکس ہمارے عظیم قائد کی تقاریر میں قرآن مجید کی حاکمیت، اسلام کے مکمل نظام حیات اور پیغمبرؐ اسلام کی سیرت سے رہنمائی کا ذکر جا بجا موجود ہے۔ قائداعظم ؒ کھری، سیدھی اور غیر مبہم بات کرنے پر یقین رکھتے تھے۔ وہ ایک ایک لفظ سوچ بچار کے بعد پوری ذمہ داری سے استعمال کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کردار اور گفتار میں تضاد نہیں تھا۔ تحریک پاکستان میں مسلم لیگ کی مقبولیت کی وجہ ایک طرف قائداعظمؒ کی عظمتِ کردار تھی اور دوسری وجہ یہ تھی کہ مسلمان قائداعظمؒ کی قیادت میں ایک ایسے پاکستان کا خواب دیکھ رہے تھے کہ جہاں عدل، جمہوری مساوات اور سماجی بہبود (سوشل ویلفیئر) کا ضامن ایک صحیح اسلامی معاشرہ قائم ہو گا۔ مسلمانوں کے جوش و جذبے کو قیام پاکستان کی جدوجہد کے لئے اسی تصور نے ابھارا تھا کہ وہ مسلم ریاست میں ان خوبیوں کے از سر نو فروغ پانے کی امید رکھتے تھے جو قرونِ اولیٰ میں اسلامی معاشرے کی منفرد خصوصیات تھیں۔۔۔ زاہد ملک اب اس فانی دنیا میں موجود نہیں، لیکن وہ ہمارے درمیان یہ پیغام چھوڑ گئے ہیں کہ جو نام نہاد دانشور قائداعظمؒ کے تصور پاکستان کو اسلام کے بجائے سیکولر ازم سے جوڑتے ہیں، وہ دراصل پاکستان کی بنیاد ہی کو تحلیل کرنے کی سازش کرتے ہیں۔ ہمیں ارشادات قائداعظمؒ اور فکر اقبالؒ کی ترویج کے ذریعے ایسی ہر سازش کو ناکام بنانا ہوگا، کیونکہ اسلام ہی پاکستان کی اساس ہے اور اسلام ہی بقائے پاکستان کا ضامن ہے۔

مزید : کالم


loading...