آئینی حدود اور آئین شکن رویے

آئینی حدود اور آئین شکن رویے
آئینی حدود اور آئین شکن رویے

  


چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے تو یہ اعلان کردیا کہ ہم سے ماورائے آئین کسی اقدام کی توقع نہ کی جائے لیکن کیا دیگر آئینی ادارے بھی آئین کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا چاہیں گے؟ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں نیب،اسٹیٹ بنک، ایف آئی اے کے نمائندے جب پاناما لیکس کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات بتانے کے لئے طلب کئے گئے تو ان میں سے کسی نے بھی کوئی ایسی بات نہیں بتائی جو اس امر کو ظاہر کرتی ہو کہ انہوں نے آئین میں دیئے گئے خود کار نظام کے تحت اس ضمن میں کوئی کارروائی کی ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس اس حوالے سے خود ارکان کے درمیان تلخ کلامی کی وجہ سے انتشار کا شکار بھی ہوا پاکستان میں مسئلہ یہ نہیں کہ اداروں کو آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہیے بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آئین نے جو اختیارات دیئے ہیں ، انہیں قومی مفاد میں استعمال نہیں کیا جاتا، وہ آئینی ادارے بھی آئین کی بجائے حکومتِ وقت کے تابع فرمان بن جاتے ہیں۔

پاکستان میں ہمیشہ سیاستدانوں کو یہ الزام دیا جاتا رہا ہے کہ ان کی وجہ سے آمریت بار بار ملک پر مسلط ہوتی رہی ہے،مگر کسی نے اس نکتے پر غور نہیں کیا کہ ملک میں جب بھی مارشل لاء آیا، کیا اس وقت آئینی ادارے مکمل طور پر فعال تھے۔ کیا وہ اپنا اپنا کام کررہے تھے، کوئی اس کا جواب اثبات میں دیتا ہے تو تاریخ سے نابلد ہے۔ اور تو اور عدلیہ نے بھی اپنا آئینی کردار ادا نہیں کیا اور تاریخ کے سب آمروں کو عدالت کی طرف سے کلین چٹ دی بلکہ وہ کچھ بھی دیا جو انہوں نے مانگا ہی نہیں تھا۔ ہمارا سب سے بڑا المیہ ہی یہ ہے کہ ہم نے ایک متفقہ آئین تو بنالیا لیکن اس پر ملکی سچائی کے ساتھ عمل کرنے پر اتفاق رائے پیدا نہ کرسکے۔ بیوروکریسی سے لے کر دیگر تمام قومی اداروں تک آئین سے وفاداری کی کوئی روایت موجود نہیں، سب وقت کے غلاموں جیسا کردار ادا کرتے ہیں۔ قائد اعظم ؒ تو بہت پہلے یہ پیغام دے گئے تھے کہ آئین کے تحت سب سرکاری ملازم ریاست کے وفادار ہوتے ہیں حکومت کے نہیں، مگر یہاں ریاست ہمیشہ پیچھے رہی ہے اور حکومتیں ہمیشہ آگے، جس کا نتیجہ ہم مارشل لاؤں کی صورت میں بھگت چکے ہیں اور جب جمہوریت ہوتی ہے تو اسے مارشل لاء کے خدشات تلے گزارتے ہیں۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی یہ بات سر آنکھوں پر کہ سپریم کورٹ سے کسی غیر آئینی اقدام کی توقع نہ کی جائے، تاہم سپریم کورٹ کا یہ فرض اور اختیار بھی تو ہے کہ وہ اس امر کو یقینی بنائے کہ ملک میں تمام ادارے آئین کے مطابق اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ آج جو ملک میں ایک انتشار اور بے یقینی کی صورت حال موجود ہے، اس کی ذمہ داری کیا صرف اپوزیشن پر ڈال کر جان چھڑائی جا سکتی ہے؟ جن ایشوز کی وجہ سے یہ انتشار پیدا ہوا ہے۔ انہیں حل کرنے کے لئے آئینی ادارے اگر اپنا کردار ادا کرتے تو کم از کم معاملات سڑکوں پر نہ آتے۔ مقننہ، عدلیہ، انتظامیہ کوئی تو اس طوفان کے آگے بند باندھتا لیکن یہاں تو سبھی ادارے عضوِ معطل بنے ہوئے ہیں۔

شکر ہے کہ اس ساری فضا میں ایک شخص نے ہوشمندی کا مظاہرہ کیا ہے اور حالات کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے انا کے خول سے باہر نکل کر ایک ایسا پالیسی بیان دیا ہے جس نے جلتی ہوئی آگ پر پانی ڈال دیا ہے۔ اس شخص کا نام محمد شہباز شریف ہے۔ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں کی بھڑکائی ہوئی آگ نجانے کہاں تک پھیل جاتی 30 ستمبر نجانے کیا کچھ دکھاتا کہ شہباز شریف نے اس روز تصادم کے ہر امکان کو رد کر دیا۔ زعیم قادری اور عابد شیر علی نے اپنے احمقانہ اشتعال انگیز بیانات اور بھونڈے اقدامات سے حکومت کے لئے نادان دوستوں جیسا جو کردار ادا کیا تھا، وہ اگر وزیراعلیٰ شہباز شریف کی دانشمندی سے زائل نہ کیا جاتا تو جس طرح شہر شہر ڈنڈے اور بلے چلنے لگے تھے وہ آنے والے چند دنوں میں واقعتاً خانہ جنگی کا رنگ اختیار کر لیتے۔

میں تو خود انہی کالموں میں کئی بار کہہ چکا ہوں کہ انتظار اور افتراق کا فائدہ ہمیشہ اپوزیشن کو ہوتا ہے جس طرح صورتِ حال تصادم کا رنگ اختیار کرتی جا رہی تھی اگر اس کے آگے وہ بند نہ باندھا جاتا جو وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے اپنے بیان سے باندھا ہے، تو 30 ستمبر کے آتے آتے نجانے حالات کس نہج پر پہنچ جاتے۔ شہباز شریف نے تحریک انصاف کے نوجوانوں کو اپنے بچے کہہ کر صورتِ حال کو بالکل بدل کر رکھ دیا ہے۔ وگرنہ تو یہاں انہی نوجوانوں کو زعیم قادری جیسے لوگ غنڈے اور قانون شکن کہہ کر اشتعال بڑھا رہے تھے۔ ساتھ ہی وزیر اعلیٰ نے 30 ستمبر کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دفاتر کو بند رکھنے کی ہدایت بھی دی ہے۔ اس سے کشیدگی کے امکانات بالکل معدوم ہو جائیں گے۔

بات اداروں کی ہو رہی ہے تو اس تاثر کو بھی دور ہونا چاہئے کہ حکومت نے تمام سرکاری محکمے اور ریاستی ادارے مفلوج کر کے رکھ دیئے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس تاثر کو ختم کرنے کے لئے حکومت کی طرف سے کوئی مضبوط مہم دیکھنے میں نہیں آ رہی۔ ہر شام مختلف ٹی وی چینلوں پر جو حکومتی نمائندے بیٹھتے ہیں وہ کوئی دلیل والی بات کرنے کی بجائے دشنام طرازی یا ٹھٹھہ مخول کی صورت حال کو زیادہ زیر بحث لاتے ہیں۔ میں ذاتی طور پر اس امر کا گواہ ہوں کہ پنجاب میں بہت سے کام میرٹ پر ہو رہے ہیں۔ بھرتیوں اور تقرریوں میں میرٹ کو ملحوظِ خاطر رکھا جا رہا ہے۔ میں اس ضمن میں سامنے آنے والی ایک حالیہ مثال کو بیان کرنا چاہتا ہوں۔ لاہور تعلیمی بورڈ کے چیئرمین کا منصب انتہائی اہم عہدہ ہے۔ اس عہدے پر ملتان سے تعلق رکھنے والے پروفیسر محمد اسماعیل کی تقرری کی گئی ہے۔ وہ میرے رفیق کار رہے ہیں اور ان کی کوئی سفارش نہیں تھی۔ ان کی بطور ڈائریکٹر کالجز ملتان اعلیٰ کارکردگی کے باعث میرٹ پر ان کا انتخاب ہوا۔ ان کے مقابلے میں کئی بیورو کریٹس اور اثرورسوخ رکھنے والے لاہور کے پروفیسر بھی تھے، لیکن وہ اس عہدے کے لئے منتخب ہو گئے۔ وہ ملتان سے تعلق رکھنے والے پہلے پروفیسر ہیں، جنہیں اس منصب پر فائز کیا گیا ہے۔ ایسی باتیں کبھی سامنے نہیں آتیں، حالانکہ وہ پنجاب میں وقوع پذیر ہو رہی ہیں۔ زعیم قادری یا حکومت کے دیگر خیر خواہ اگر ان پہلوؤں پر توجہ دیں تو انہیں ڈنڈا بردار فورس یا بڑھک مار کلچر کے سہارے اپنی جماعت کو طاقت فراہم کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔

بات شروع ہوئی تھی چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی اس بات سے کہ سپریم کورٹ غیر آئینی احکامات جاری نہیں کر سکتی۔ ان کی بات بجا بھی اور قابلِ ستائش بھی، تاہم انہیں اس پہلو پر بھی غور کرنا چاہیے کہ ملک میں آئین سے انحراف کی جو روش موجود ہے، اس کا تدارک کون کرے گا، یہ اختیار تو صرف سپریم کورٹ کا ہے، مگر اس نے خود کو آئینی اختیار کے دائرے میں کچھ اس طرح بند کر لیا ہے کہ اس دائرے سے باہر آئین کو پامال کرنے کی ایک دوڑلگی ہوئی ہے۔ اس دوڑ کو روکے بغیر ہم ملک میں جمہوریت اور اچھی حکومت کی توقع کیسے رکھ سکتے ہیں۔

مزید : کالم


loading...