ایس آر او 1125(1)/2011 کا فوری طور پر جائزہ لیاجائے: لاہورچیمبر

ایس آر او 1125(1)/2011 کا فوری طور پر جائزہ لیاجائے: لاہورچیمبر

لاہور (کامرس رپورٹر) لاہور چیمبر کے صدر شیخ محمد ارشدنے فیڈرل بورڈ آف ریونیو پر زور دیا ہے کہ ایس آر او 1125(1)/2011 کا فوری طور پر جائزہ لے کیونکہ اس کی وجہ سے کاروباری شعبے کے لیے بہت سے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔آل پاکستان کارٹن مینوفیکچررز اور سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کے وفد کے ساتھ ملاقات کے بعد جاری کردہ بیان میں لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ایس آر او 1125(1)/2011کے متعلق فوری فیصلہ کرے کیونکہ اس کی وجہ سے مینوفیکچررز اور ایکسپورٹرز نے پیکنگ میٹریل رجسٹرڈ سپلائرز کے بجائے غیررجسٹرڈ سپلائزیا دوسرے ممالک سے منگوانا شروع کردیا ہے جبکہ رجسٹرڈ سپلائرز دیوار سے جالگے ہیں۔ لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ مینوفیکچررز اور ایکسپورٹرز نے پیکنگ میٹریل غیررجسٹرڈ سپلائرز سے خریدنا اور درآمد کرنا شروع کردیا ہے، غیررجسٹرڈ سپلائر سے پیکنگ میٹریل خریدنے کی صورت میں انہیں صرف ایک فیصد ٹیکس ودہولڈ کرنا پڑے گا جبکہ درآمد پر ڈی ٹی آر ای حاصل کرکے مینوفیکچررز اور ایکسپورٹرز حکومت کو کوئی کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس ادا کیے بغیر پیکنگ میٹریل درآمد کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس تشویشناک صورتحال نے رجسٹرڈ سپلائرز کو بہت بْری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ کوئی بھی پالیسی وضع کرتے ہوئے یہ بات بطور خاص مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ اس سے ایماندار ٹیکس دہندگان اور معیشت سمیت کوئی بھی متاثر نہ ہو تاکہ نہ صرف کاروبارچلتے رہیں بلکہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا بھی ممکن ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ مینوفیکچررز اور ایکسپورٹرز کی جانب سے غیررجسٹرڈ سپلائرز سے پیکنگ میٹریل خریدنے یا پھر درآمد کرنے سے مقامی چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتیں اور رجسٹرڈ سپلائرز تباہ ہونگے لہذا ایس آر او 1125(1)/2011مورخہ 31نومبر2011ء میں ایس آر او 491(I)/2016 کے ذریعے کی جانے والی ترمیم کا فوری طور پر ازسرنوجائزہ لیا جائے۔

مزید : کامرس


loading...