دیہی روڈز پروگرام کے اربوں روپے ہڑپ، اعلیٰ افسران کروڑ پتی بن گئے

دیہی روڈز پروگرام کے اربوں روپے ہڑپ، اعلیٰ افسران کروڑ پتی بن گئے

لاہور ( ارشد محمود گھمن// سپیشل رپورٹر)پنجاب حکومت کے اربوں روپے کرپشن کی نذ ر خادم اعلی دیہی روڈز پروگرام و غیرہ کے ترقیاتی کاموں کے لئے جاری منصوبوں کو سی اینڈ ڈبلیو پنجاب کے اعلیٰ افسران چیف انجینئر نارتھ،ایس ای،ایکسین،ایس ڈی او،اور سب انجینئر سمیت فرمز مالکان قیمتی اثاثوں، بیش قیمت گاڑیوں،بڑے بڑے بنگلوں کے ما لک بن گئے،ناقص مٹیریل اورفرضی ووچرز ڈال کر کروڑوں روپے کا قومی خزانہ سے خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق مذکو رہ محکمہ میں کرپٹ افسران کے خلاف چلنے والی میگا سکینڈل کی محکمانہ انکوائریوں کو مبینہ طور پر مک مکا کر کے داخل دفتر کر دیا گیا ہے۔ وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے ڈی جی اینٹی کرپشن کوتحقیقات کا دائرہ وسیع کر کے لوٹی گئی رقوم کی واپسی او ر اس میں ملوث ذمہ دارافسران کو کیفر کردار تک پہنچا کر محکمہ میں مو جو د کالی بھیڑوں کو منظر عام پر لانے کا ٹارگٹ دے دیا گیا ہے۔ جبکہ بریگیڈیر (ر) مظفر حسین رانجھا ڈی جی اینٹی کرپشن کا کہنا ہے کے وزیر اعلی کے اعتماد کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچاوں گا اور کرپشن کا خاتمہ ہی میری اولین ترجیح ہو گی۔ ذرائع کے مطابق حکومت پنجاب نے گزشتہ تین سال کے دوران محکمہ سی اینڈ ڈبلیو پنجاب کو لاہور سمیت پنجاب بھر کے اضلاع گوجرانوالہ،گجرات،منڈی بہا الدین، جہلم، سیالکوٹ، نارووال، فیصل آباد، شیخوپورہ،قصور وغیرہ کے اراکین اسمبلی ، وزراء کو مقامی حلقوں میں بہترین کارکردگی کے پیش نظر اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز،خادم اعلی دیہی روڈز پروگرام،اور دیگر سڑکوں کیلئے جاری کئے جس کا بھانڈہ ہونے والی بارشوں نے کھول دیا اور سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور ان میں بڑے بڑے شگاف پڑ چکے ہیں بعض اراکین اسمبلی کی شکایات پر ان شہروں کے ایس ای، ایکسین،ایس ڈی او ز،سب انجینئرز سمیت ٹھیکیداروں فر مز مالکان کے خلاف محکمانہ کاروائیوں کا آغاز کر کے ٹیکنیکل عملہ کے ذریعے رپورٹس حاصل کر کے چیف انجینئرسرفراز بٹ اور سیکرٹری مواصلات پنجاب میاں مشتاق کو بجھوائی گئیں۔ ذرائع نے بتایا کے چیف انجینئر سرفراز بٹ نے مبینہ طور پر ایسے کرپٹ افسران سے مک مکا کر کے چلنے والی انکوائریوں کو داخل دفتر اورردی کی ٹوکری کی نذر کر رکھا ہے ۔اس بابت موقف میں سرفراز بٹ کا کہنا ہے کے محکمانہ انکوائریاں معمول کے مطابق ہوتی رہتی ہیں اور ذمہ دار افسران کیخلاف کرپشن ثابت ہونے پر کاروائی بھی کی جاتی ہے اور بے گناہ ہونے پر داخل دفتر کر دی جاتی ہیں۔

مزید : صفحہ آخر


loading...