اللہ بڑا بادشاہ ہے

اللہ بڑا بادشاہ ہے
اللہ بڑا بادشاہ ہے

  


میں نے ماجد ظہور کی آنکھوں سے بے ساختہ نکلتے ہوئے آنسو دیکھے تو سوچا، کون کہتا ہے میرے معاشرے میں باپ بیٹیاں نہیں چاہتے، ان سے پیار نہیں کرتے بلکہ یہ باپ ہی ہوتے ہیں جو انہیں اپنی شہزادیاں بنا کے رکھتے ہیں۔ ماجد ظہور ہمارے رکن پنجاب اسمبلی ہیں، قومی اسمبلی کے جس حلقے سے وزیراعظم محمد نواز شریف رکن قومی اسمبلی ہیں اسی کے نیچے صوبائی اسمبلی کے حلقے سے ایم پی اے منتخب ہوئے ہیں، میں انہیں تب سے جانتا ہوں جب وہ حمزہ شہباز شریف کے ساتھ صرف ایک سیاسی کارکن کے طور پر وابستہ تھے، بہت ہی محنتی اور اپنی قیادت، جماعت اور نظرئیے سے پوری طرح کمٹڈ، ناظم بنے اور پھر انہیں صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ دیا گیا، آپ بھی سوچ رہے ہو ں گے کہ لاہور میں میاں نواز شریف کے حلقہ انتخاب سے منتخب ہونے والے پارٹی رہنما کی اس وقت شہر میں طاقت کا اندازہ کس طرح کیا جا سکتا ہے مگر وہ کیا وجہ بنی کہ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ، سب کے سامنے بہنے لگے، بے ساختہ بہنے لگے اور پھر بہتے ہی چلے گئے۔

ماجد ظہورنے گزری اتوار کی شب عشاء کے فرض مزنگ میں گھر کے قریب مسجد میں ادا کئے اور باقی نمازگھر پر آ کر پڑھنے لگے، سنتیں اور وتر ادا کرتے ہوئے سوا سال کی بیٹی آمنہ مسلسل شرارتیں کرتی رہی، کبھی وہ جائے نماز پر آ کر بیٹھ جاتی، کبھی قعدے میں گود میں گھس جاتی اور کبھی سجدے میں وہ سنت ادا کرتی وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے نواسوں کی ہے، انہوں نے اپنی معصوم بیٹی کی انہی پیار بھری شرارتوں میں نماز مکمل کی اور کھوکھر برادران کی رہائش گاہ پر شادی کی تقریب میں شرکت کے لئے روانہ ہو گئے۔ آمنہ اپنی دادی او ربچوں کے ساتھ کھیلنے لگی ، والدہ نے باورچی خانہ سنبھال لیااور پھر نجانے کیا ہوا کہ وہ کھیلتے کھیلتے باتھ روم میں چلی گئی جہاں بالٹی میں کچھ پانی موجود تھا، باقی سب اندازہ ہے کہ وہ چھوٹی سی بچی کسی وجہ بالٹی کے اندر جھکی اور پانی میں منہ کے بل گر گئی، بھائی نے اس وقت دیکھا جب وہ بے حس وحرکت ہو چکی تھی ، اس نے ماں کوبتایا، دیکھیں، دیکھیں ، آمنہ پانی میں سو رہی ہے۔یہ اتوار کی شب کا واقعہ ہے اورمنگل کی رات بھی جب بہت سارے دوست اور کارکن ماجد ظہور کی رہائش گاہ پرتعزیت کر رہے تھے تو آمنہ کی باتیں بتاتے ہوئے ماجد ظہور کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، وہ کہہ رہے تھے کہ دن بھر چاہے جتنی بھی تھکاوٹ ہوجاتی وہ جب واپس آتے تو چھوٹی سی بیٹی کی معصوم پیار بھری حرکتیں ان کی ساری تھکاوٹ اتار دیتیں، وہ صبح ان سے پہلے ہی اٹھ جاتی ، سینے پر لیٹ جاتی اور بہت دیر تک لیٹی رہتی۔ میں ان آنسووں کو دیکھتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ ہمارے معاشرے میں بالعموم یہ خواہش رکھی جاتی ہے کہ بیٹے ہی پید ا ہوں کہ وہ باپ کا بازو بنیں گے مگر جب بیٹی پیدا ہوتی ہے تو کسی طور بھی بہت دن نہیں لگتے کہ وہ اپنے باپ کی آنکھوں کا تارا بن جاتی ہے، ایک بیٹی کا پہلا آئیڈیل اس کا باپ ہی ہوتا ہے اور ایک باپ کی پہلی بے ریا ، بے غرض اور انتہائی مقدس محبت اپنی بیٹی کے لئے ہی ہوتی ہے۔ میں نے ماجد ظہور سے کہا، ابھی تو آمنہ صرف سوا برس کی تھی اور محبت کا یہ عالم ہے، مجھے یقین ہے کہ جوں جوں وہ بڑی ہوتی چلی جاتی ، اپنے باپ کو زیادہ پیاری، محبوب اور عزیز ہوتی چلی جاتی ، بیٹیوں سے محبت میرے معاشرے کا ایک بہت ہی خوبصورت چہرہ ہے جس معاشرے کو ہم بہت برا اور ظالم سمجھتے ہیں، میرے ایک صحافی دوست قادر غوری نے سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چلایا، ہماری بیٹیاں ہمارا فخر ہیں، سینکڑوں ہزاروں نے اسے فالو کیا، اسے سراہا۔ دنیا کی سب سے خوبصورت شے بچے ہوتے ہیں اور بچوں میں بیٹیاں سب سے پیاری، ان سے محبت میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ سنت ہے جو کسی بھی گھر کو جنت کا نمونہ بنا دیتی ہے۔

ٓٓٓٓمعصوم آمنہ جس طرح میرے دوست کے گھر سے رخصت ہوئی وہ دل دہلا دینے والی صورتحال ہے، میں نے سوچا، اگر کوئی دوسرا،ماجد ظہور کی اس معصوم بیٹی کو تھوڑی سی بھی تکلیف پہنچا دیتا توایک محبت کرنے والا باپ اس کے لئے قدرت کا ایک عذاب بن جاتا مگر یہ فیصلہ ہی اس رب کا ہے جو ہر شے پر قادر ہے، جس کے سامنے کسی کی کوئی مجال نہیں کہ پر مار سکے، چیں چاں چوں کر سکے۔ وہ اُسی رب کی دی ہوئی نعمت تھی اُسی نے واپس لے لی، اب کس سے شکوہ کیا جائے۔ ہماری کیا مجال کہ اس کی حکمت کے سامنے ایک لفظ بھی بول سکیں، وہ معاملات کو بہتر سمجھتا ہے اور ان کی لئے راہ نکالتا ہے، احادیث کی کتب میں حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ جمعے کے روز سورۃ کہف پڑھنی چاہئے، یہ ایک جمعے سے دوسرے جمعے تک درمیانی عرصے تک کے لئے روشنی بن کر رہتی ہے، پندرہویں پارے سے شروع ہو کر سولہویں تک میں جانے والی یہ سورۃ بھی اپنے اندر کیا خوب اسرار و رموز لئے ہوئے ہے۔ حضرت خضرعلیہ السلام، غالب قول کے مطابق ،ولی اللہ ہیں جو قرآن پاک کے مطابق خا ص رحمت اور خاص علم سے نوازے گئے ا ور حضرت موسیٰ علیہ السلام میرے رب کے عظیم اور جلیل القدر پیغمبر، حضرت خضر کے ساتھ حضرت موسیٰ کا سفر حکمت ، تدبر اور ایمان کے پیغام سے لبالب بھرا ہوا ہے، حضرت خضر نے اس سفر میں اس کشتی کو عیب دار کرڈالا جس پر انہوں نے سفرکیا، اس لڑکے کو مار ڈالا جو انہیں راستے میں ملا،گاوں والوں نے کھانا طلب کرنے پر بھی نہ دیا تو اس کے باوجود وہاں گرتی ہوئی دیوار کو بغیر کسی معاوضے کے تعمیر کر ڈالا، حضرت موسیٰ ؑ ان باتوں پر صبر نہ کر سکے اور جب حضرت خضر نے بھید کھولے تو علم ہواکہ وہ کشتی غریب لوگوں کی تھی جو اسے دریا میں چلا کے اپنا روزگار پیدا کرتے تھے ، اسے عیب دار اس وجہ سے کیا کہ علاقے کا بادشاہ ہر اچھی کشتی کو چھین لیتا تھا، ا نہوں نے راہ نکالی کہ یہ کشتی غریب لوگوں کے پاس ہی رہے۔ لڑکے بارے فرمایا کہ ان کا پروردگار ان کواس کے بدلے زیادہ بہتر اولاد عطا کرے گا ۔ وہ شکستہ دیوار شہر میں رہنے والے د ویتیم لڑکوں کی تھی جن کا باپ ایک نیک آدمی تھا، اس دیوار کے نیچے ان کے باپ کا خزانہ دفن تھا ، پروردگار نے چاہا کہ وہ لڑکے اپنی جوانی کو پہنچ جائیں او رپھر خزانہ نکالیں۔حضرت خضر نے فرمایا یہ تمام کام انہوں نے اپنی طرف سے نہیں کئے اور یہی ان باتوں کی پوشیدہ حقیقت ہے جن پر حضرت موسیٰ انسانی فطرت کے مطابق صبر نہ کرسکے۔

کیا ہم اپنے رب کی حکمتوں کو جان سکتے ہیں، نہیں ہرگز نہیں،کسی شاہراہ پر کوئی حادثہ ہوتا ہے توہمارا رب وہ تمام راستے اور وہ تمام وسیلے بناتا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والے وہاں تک پہنچتے ہیں، نہ وہ وہاں پہنچنے میں لمحے بھر کی جلدی کرتے ہیں اور نہ ہی لمحے بھر کی دیری۔ بات صرف منفی ہی کیوں جائے، وہ جب عطا کرتا ہے تو اس میں بھی اس کی اپنی حکمت اور اپنے رموز ہوتے ہیں، میرا رب او ر اس کے فرشتے جس پر درود و سلام بھیجتے ہیں اسے کوئی بادشاہ نہیں بلکہ ایک یتیم بچہ اور ایک غربت میں زندگی بسر کرنے والاشخص بنایا گیا اور پھر اس کی زندگی کو ہمارے لئے بہترین نمونہ بنا دیا گیا۔ کیا کوئی دوسرا شخص اپنی اولاد کے لئے کسی قسم کا حق جتا سکتا ہے جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادگان بھی طفولیت میں ہی اللہ کو پیارے ہوگئے۔ فیصلہ کرنے والی ذات تو صرف اللہ عزوجل کی ہے،میں نے جانا کہ دینے والا بھی وہی ہے اور واپس لینے والا بھی وہی ہے ، یہی وجہ ہے کہ ہمیں اس پر یہی دعا سکھائی گئی ہے کہ ہم سب اسی کے لئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جاناہے۔ اللہ تو ہمارا بادشاہ ہے، سب سے بڑا، سب سے ہی بڑا ۔

مزید : کالم


loading...